
عظیم جہادی رہنما، شہید حاجی ابراہیم محمد عقیل، بیروت میں اسلامی تحریک کے بانی نسل کا حصہ تھے۔ شہید رہنما 1980 کی دہائی کے اوائل میں بیروت پر اسرائیلی حملے کے خلاف مزاحمت کے دوران بہادرانہ کارروائیوں میں اہم کمانڈروں میں سے ایک تھے. اُنہوں نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں حزب اللہ میں مرکزی تربیت کی ذمہ داری سنبھالی۔
شہید رہنما نے مزاحمتی تنظیموں کے اندر انسانی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اُنہوں نے 1990 کی دہائی کے وسط میں اسلامی مزاحمت میں چیف آف اسٹاف کا کردار ادا کیا۔ 1997 سے آزادی کے بعد تک، شہید رہنما جبل امیل کے آپریشنز یونٹ کے انچارج تھے۔ شہید رہنما ابراہیم عقیل اسلامی مزاحمت کے اندر آپریشن ڈویژن کے بانی تھے۔
وہ 2008 سے ڈپٹی سیکریٹری جنرل برائے آپریشنز کے عہدے پر فائز تھے اور انہیں جہادی کونسل کا رکن مقرر کیا گیا۔ شہید رہنما ابراہیم عقیل لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بہادرانہ مزاحمت کی اہم شخصیات میں سے ایک تھے۔
انہوں نے اپنی شہادت تک اسلامی مزاحمت میں رضوان فورس کے قیام، ترقی اور قیادت کی نگرانی کی۔ حاج ابراہیم محمد عقیل ان نمایاں جہادی رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے انتہا پسند گروہوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ہدایت کی۔
شہید نے "الاقصیٰ طوفان” آپریشن کے آغاز سے ہی سپورٹ فرنٹ پر رضوان فورس کے فوجی آپریشنز کی منصوبہ بندی اور نگرانی کی۔
واضح رہے کہ امریکہ نے ان کے بارے میں معلومات کے لیے *7 ملین* ڈالر کی پیشکش کی تھی۔


































