
تحریر: عبدالباری عطوان
عرب دنیا کے مشہور تجزیہ نگار "عبدالباری عطوان” نے فلسطینی مزاحمتی تحریک کے آپریشن "طوفان الاقصی” کے بارے میں "رائے الیووم” میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ جنرل "محمد الضیف” نے پہلا راکٹ چلا کر "الاقصیٰ طوفان” کے فوجی آپریشن کے ذریعے آزادی کی جنگ شروع کی۔ ان کے بقول مسجد اقصیٰ ایک مزاحمت ہے، جو اس کی حمایت کرتی ہے۔ جب قسام کے کمانڈر "محمد الضیف” اپنے ترجمان، "ابو عبیدہ” کے ساتھ، دو سال کی غیر حاضری کے بعد، یعنی "شمشیر القدس” کی لڑائی کے بعد پہلی بار منظر عام پر آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عظیم فتح راستے میں ہے اور مسجد اقصیٰ پر حملہ کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ "عبدالباری عطوان” نے مزید کہا: اب ہمیں ان کی غیر موجودگی کی اصل وجہ معلوم ہوگئی ہے۔ ان کی غیر موجودگی کی سب سے واضح وجہ اس عظیم فتح کی تیاری تھی۔
عطوان نے القسام بٹالین کے کمانڈر کی تعریف جاری رکھی اور لکھا: آئیے ہم "جنرل الضیف” کو اس لقب سے مخاطب کریں، جس کے وہ مستحق ہیں۔ وہ ان تمام عرب جرنیلوں کے سامنے جو اپنی تاریخ میں کبھی کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے یا انہوں نے ایک گولی بھی نہیں چلائی، ایک آئیڈیل بن کر سامنے آئے ہیں اور سب ان کے سامنے سرتسلیم خم ہیں۔۔ جنرل الضیف نے بڑے سکون اور بہت مختصر الفاظ میں کہا: "آج اپنی سرزمین پر آخری قبضے کو ختم کرنے کی عظیم جنگ کا دن ہے۔” انہوں نے اس مبارک آپریشن کو شروع کرنے کے لیے چند منٹوں میں 5000 راکٹ فائر کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن ان کے ساتھی ابو عبیدہ نے اس منظر کو یوں بیان کیا: "اسرائیل ہمارے سامنے ٹوٹ رہا ہے اور الاقصیٰ کا طوفان منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ تمام لوہے کے گنبد iron tomb اور داود کے فلاکن اور اسٹیلتھ طیارے مقاومت کے مجاہدین کے سامنے زمین بوس ہو رہے ہیں۔”
میدان جنگ میں ایک عظیم معجزہ اور آباد کاروں کا تاریخی فرار
عطوان نے مزید کہا: میدان میں اور غزہ کے آس پاس کی صہیونی بستیوں میں، ایک عظیم معجزہ رونما ہوا اور ہم نے مرکاوا ٹینک کو ذلیل و خوار اور آباد کاروں کی حمایت کرنے سے قاصر دیکھا، صیہونی جرنیل مزاحمت کاروں کے سامنے بے بس تھے، آباد کار صیہونی خوف و دہشت کی حالت میں بھاگ رہے تھے۔ وہ مدد کے لئے پکار رہے تھے اور کوئی جواب دینے والا نہیں تھا۔ وہ لکھتے ہیں: لائیو آڈیو ویڈیو سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مزاحمت نے سو سے زیادہ اسرائیلیوں کو ہلاک اور سینکڑوں کو زخمی کیا اور بہت سے لوگوں کو گرفتار کرکے ایک مضبوط کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے محفوظ جگہ پر پہنچا دیا اور اسرائیلی جیلوں کو تمام جنگجو قیدیوں سے خالی کرا دیا۔ یہ تمام تصاویر ریکارڈ کرکے سوشل نیٹ ورک پر شائع کی گئیں۔
یہ میڈیا وار دشمن اور اس کی فوج پر بجلی کی طرح گری اور اس نے ان کے حوصلوں کو کچل کر رکھ دیا۔ عطوان نے مزید کہا: "اسرائیلی فوج، سکیورٹی فورسز اور سیاسی اداروں کے لیے پچھلے پچاس سالوں میں یہ سب سے بڑا سیاسی، فوجی اور نفسیاتی دھچکہ تھا، خاص طور پر اکتوبر 1973ء کی جنگ کے بعد، کیونکہ اس حملے نے ان کی سلامتی کی گہرائی کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ ایک عجیب منظر تھا کہ جب آباد کار صیہونی بھاگ بھاگ کر اپنے فوجیوں کی لاشوں پر سے گزر رہے تھے۔ وہ پولیس کو فون کرتے اور فوج و سکیورٹی فورسز سے مدد مانگتے رہے، لیکن انہیں کوئی مدد نہیں ملی۔ یہ اس اسرائیلی فوج کے خاتمے کا عروج ہے، جو دنیا کی چوتھی مضبوط ترین فوج ہے۔
مزاحمت نے میدان مار لیا
عبدالباری عطوان نے اس بات پر تاکید کی کہ آنے والے دنوں کی پیشرفت سے قطع نظر مزاحمت جیت گئی ہے۔ یہ ایک طویل جنگ ہے اور دشمن اس سے نہیں بچ سکے گا۔ فلسطینی مجاہدین کی طرف سے جنگ کے اعلیٰ انتظام کا حوالہ دیتے ہوئے عطوان لکھتے ہیں: "مزاحمت کے ماسٹر مائنڈوں کی طرف سے لڑائی کے انتظام کی طاقت دنیا میں ان کے ہم منصبوں سے برتر ثابت ہوئی ہے۔ مزاحمت کاروں نے اس جنگ کو بخوبی سنبھالا اور اس جنگ کے لیے اچھی طرح سے تیاری کی۔ خاص طور پر ان مشقوں کے بعد، جو سوشل میڈیا پر نشر کی گئیں، ان مشقوں کو دیکھ کر دشمن اور اس کے سمجھوتہ کرنے والے اتحادیوں کی طرف سے مذاق اڑایا گیا۔ انگلستان میں ’’سینٹ ہرسٹ‘‘ اور امریکہ میں ’’ویسٹ پوائنٹ‘‘ جیسے جرنیلوں کا زمانہ گزر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "عرب ثالثوں نے اس جنگ کو روکنے اور قابضین کی خاطر مداخلت کی ہے، تاکہ جانی و مالی نقصانات کی مقدار کو کم کیا جا سکے اور اسرائیل کو اس بحران اور تاریک تقدیر سے بچایا جا سکے، لیکن مزاحمت کے قائدین نے ان پر کوئی توجہ نہ دیتے ہوئے ان سے کہا "ہم جنگ کے عروج پر ہیں اور ہمارے پاس وقت نہیں ہے، ہم تمہارا امتحان لے چکے ہیں۔ ہمیں دشمن سے بات چیت کرکے رسوائی اور حزیمت کے سوا کچھ نہیں ملا۔ ہم اپنے دشمن سے اسی زبان میں بات کر رہے ہیں، جو زبان وہ سمجھتا ہے۔”
قابض حکومت کو شکست
عطوان نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر کا دن ایک اہم اور مقدس دن ہے، جو سمجھوتہ کے مرحلے کا اختتام اور پورے فلسطین کے لیے وقار، عزت اور آزادی کے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے الاقصیٰ طوفان آپریشن کے دوران قابض حکومت کی تباہی کا اعلان کرتے ہوئے مزید کہا: "نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ ان کی کمزور حکومت حالت جنگ میں ہے، البتہ اس نے سخت اور زلزلہ جیسا جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔ وہ کیا ہوسکتا ہے؟ غزہ میں سینکڑوں اور ہزاروں بے گناہوں کو قتل کرے گا؟ وہ کرسکتا ہے۔ البتہ ہم اس بات کو خارج از امکان نہیں سمجھتے کہ حملہ آوروں کے حملوں کے خلاف مزاحمت کا جوابی ردعمل تل ابیب اور حیفہ کی تباہی کا باعث بنے گا۔ آخر میں عطوان نے مزید کہا: مسجد اقصیٰ ایک مزاحمت ہے، جو اس کی حمایت کرتی ہے۔ دشمن نے ایک ناقابل فراموش سبق سیکھا ہے، جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔


































