Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

ایک تاریخی استقبال

انٹرویو: معصومہ فروزان

نائیجیریا کے شیعہ رہنماء "شیخ ابراہیم زکزاکی” جو کہ ستمبر 2023ء میں اپنی اہلیہ کے ساتھ طبی دورے کے لیے تہران پہنچے تھے، ایرانی عوام کے پرجوش استقبال کے بعد بدھ، 21 فروری 2024ء کو واپس نائیجیریا پہنچے۔ اس حوالے سے اسلامی تحریک نائیجیریا کے رکن نافع موسیٰ سے اس ملک کے شیعہ رہنماء کے استقبال کی تقریب کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے نائجیریا کے عوام کے اس پرجوش اور انوکھے استقبال کے بارے میں کہا: اگرچہ "شیخ زکزاکی” اور ان کے خاندان کے افراد کو لے کر آنے والا طیارہ دوحہ سے چند گھنٹے کی تاخیر سے نائجیریا پہنچا، حالانکہ لوگ صبح 7 بجے سے 3 بجے تک ان کی آمد کا انتظار کرتے رہے۔ یہ استقبال اتنا پرجوش اور بڑا تھا کہ ہم پورے اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دن اسلامی تحریک نائیجیریا کے لیے ایک تاریخی اور یادگار دن سمجھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 21 فروری 2024ء کا دن نائیجیریا کی اسلامی تحریک کی تاریخ میں ایک تاریخی دن کے طور پر درج کیا جائے گا، کیونکہ اس دن "شیخ زکزاکی” ایران کے طبی سفر سے واپس نائیجیریا پہنچے تھے۔ نائیجیریا کے عوام بالخصوص اس ملک کے اہل تشیع و اہل تسنن عالم اسلام کی اس ممتاز شخصیت کی اپنے ملک میں آمد کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے، بلاشبہ اس سے ان کی اپنے رہبر سے دور رہنے کی تڑپ ظاہر ہوتی ہے۔ نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے ایک رکن نے شیخ زکزاکی کی نائیجیریا کے عوام سے خطاب کا مختصر حوالہ دیتے ہوئے کہا: "شیخ زکزاکی” نے نائیجیریا کے عوام سے اپنی تقریر کے آغاز میں، اپنی آمد میں تاخیر پر معذرت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ایران میں اپنے علاج کے بارے میں بتایا اور ساتھ ہی ساتھ ایرانی عوام کی گرمجوشی سے مہمان نوازی کی تعریف اور شکریہ ادا کیا اور ان کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔

"نافع” نے مزید کہا: "شیخ زکزاکی نے ایران میں اپنی موجودگی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے، حوزہ علمیہ کے علماء اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دیگر عمائدین کے ساتھ اپنی ملاقات بالخصوص رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے ساتھ اپنی انتہائی قیمتی ملاقات کے بارے میں بھی تفصیلات بتائیں۔ شیخ زکزکی نے رہبر انقلاب سید علی خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے رہبر انقلاب کی طرف سے نائیجیریا کے لوگوں کے لئے تعریفی کلمات کا ذکر کیا اور رہبر انقلاب کا سلام نائیجیریا کے عوام تک پہنچایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ "شیخ زکزاکی” نے 21 فروری کے تاریخی دن کے موقع پر اپنی تقریر میں تاکید کی کہ نائجیریا میں اسلامی تحریک پوری طاقت کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی اور اس تحریک کی سرگرمیوں اور پروگراموں کو کسی صورت روکا نہیں جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس تحریک کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رکن جناب نافع نے شیخ زکزاکی کا استقبال کرنے والے بہت بڑے ہجوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "شیخ کا استقبال کرنے والا ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ نائیجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں 25,000 نشستوں پر مشتمل اسپورٹس اسٹیڈیم جو کہ ان کے استقبال کے لیے تیار کیا گیا تھا، کم پڑ گیا۔ بہت سے لوگ اندر جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اسٹیڈیم کے دروازوں کے باہر کھڑے رہے اور اسٹیڈیم میں داخل نہ ہوسکے۔ بلاشبہ، جو لوگ سٹیڈیم کے دروازوں کے پیچھے رہے اور داخل نہ ہوسکے، ان کی تعداد سٹیڈیم کے اندر موجود لوگوں سے کہیں زیادہ تھی۔ محتاط اندازوں کے مطابق "شیخ زکزاکی” کے استقبال کے لیے آنے والوں کی تعداد 800,000 سے زیادہ تھی۔ "نافع” نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز لاکھوں لوگوں کے اس ہجوم میں صرف نائیجیریا کے شیعہ ہی نہیں تھے، جو "شیخ زکزاکی” کے استقبال کے لیے آئے تھے، بلکہ نائیجیریا بھر سے مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے سنی بھائی بہن اور عیسائی بھی شامل تھے۔

اس سوال کے جواب میں کہ نائیجیریا بھر سے لوگوں کی اس بڑی تعداد میں آمد اور اتنا بھرپور استقبال کرنے کی کیا وجہ تھی، انہوں نے کہا: نائیجیریا کے تقریباً اکثر لوگوں نے 2015ء سے شیخ زکزاکی کو قریب سے نہیں دیکھا تھا اور وہ ان سے ملنے کے لیے بہت بے تاب تھے، اسی وجہ سے وہ نائیجیریا کے مختلف علاقوں سے مختلف صوبوں سے ابوجا آگئے تھے۔ "نافع موسیٰ” نے نشاندہی کی کہ لوگ "شیخ زکزاکی” کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے، حالانکہ وہ صبح 7 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک ان کی آمد کا انتظار کرتے رہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ تھک چکے ہوں گے، لیکن انہوں نے "شیخ” کی باتوں کو بہت غور اور شوق سے سنا۔

شیخ زکزاکی کے استقبال کیلئے نائجیریا کی حکومت کیجانب سے مختلف شخصیات اور حکام کی موجودگی
نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے دفتر کے رکن نے مزید بتایا کہ کھیلوں کے اسٹیڈیم میں "شیخ زکزاکی” کے استقبال کی تقریب میں نائجیریا کی حکومت کی شخصیات اور حکام کی موجودگی بہت ہی اہم بات تھی۔ شیخ نافع نے واضح کرکے کہا کہ 21 فروری بروز بدھ "شیخ زکزاکی” کے شاندار استقبال اور ان کی اس وسیع پیمانے پر مقبولیت کے پیش نظر، "شیخ زکزاکی” کو ختم کرنے کے لیے نائجیریا کی سابق حکومت کے تمام سابقہ اقدامات مکمل طور پر غیر موثر ثابت ہوئے اور اس حوالے سے مغربی و صہیونی منصوبے ناکام ٹھرے اور وہ "شیخ” زکزاکی کی مقبولیت کو نقصان پہنچانے میں یقینی طور پر ناکام رہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular