
تہران : ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے بڑے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں کہا کہ ویانا مذاکرات میں ایک اچھا سمجھوتہ اسی صورت ممکن ہے جب ہمارے اقتصادی مفادات کی تکمیل کی ٹھوس اور پائیدار ضمانتیں موجود ہوں۔ یورپی یونین کےخارجہ پالیسی چیف جوز ف بورل سے ٹیلی فون پر گفتگو پر کہا کہ ایران ٹھوس بنیادوں پر مقرر کردہ ریڈلائنوں اور قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ایک اچھے معاہدے کا حصول چاہتا ہے۔ انہوں نے مذاکرات میں پیشرفت کو مثبت قرار دیا لیکن اس سے ایران کے مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ انہوں نے ایک بار پھر تہران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ہم ایک اچھے سمجھوتےکے حصول کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطے قائم رکھیں گے۔ آئی آر بی سے انٹرویو میں کہا کہ امریکا نے ابھی تک ویانا مذاکرات کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا ہے جس کا مقصد جوہری معاہدے کو بحال کرنا ہے۔ ہمارے لیے جو چیز اہم ہے وہ مخالف فریق کی کارروائی ہے۔ امریکیوں کے عملی رویے کو معروضی اور ٹھوس انداز میں دیکھنا ہوگا۔


































