
تحریر: سائرہ نقوی
محترم علی رضوی ابن سچے بھائی (معروف نوحہ خواں) کے حالیہ بیان کے تناظر میں چند گزارشات:
اس تحریر کی مخاطب بالخصوص ہماری محترم مومن خواہران ہیں۔ ان سے درخواست ہے کہ یہ تحریری پیغام جہاں تک پہنچ سکتا ہے، پہنچائیں۔ ہمارے ہاں نوحہ/منقبت خوانی میں کمرشل ازم کے فروغ اور موسیقی کے آلات کے بلاتفریق استعمال نے خواتین نوحہ/منقبت خواں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اگر دقت سے اس معاملہ کو دیکھا جائے تو یہاں صورتحال زیادہ گھمبیر نظر آتی ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا، شہرت حاصل کرنے کا آسان ترین ذریعہ بن چکا ہے، اس لئے اکثر لوگ اپنی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ یا شیئر کرتے ہیں۔ اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرتے ہوئے نوحہ/منقبت خوانی کی اصل روح اور عمل کا خلوص برقرار رکھنا ممکن ہے؟
نیتوں کا حال خدا جانتا ہے، لیکن خلوصِ عمل کی ریاکاری اور خودنمائی سے حفاظت بہت ضروری ہے۔ فیس بک اور خاص طور پر انسٹاگرام پر جائیے اور وہاں کے سرچ سیکشن میں آپ کو جو آٹو اپلوڈڈ تصاویر اور وڈیوز نظر آئیں گی، ان میں بغیر تلاش کے ہی آپ کو ہماری چند پبلک فگر نوحہ/منقبت خواں،خطیب و ذاکر خواتین کی تصاویر اور وڈیوز بھی اپلوڈڈ نظر آئیں گی اور اگر ان کے اکاونٹس کو وزٹ کریں تو وہاں ان کی ذاتی اور گھریلو زندگی کی تصاویر و سرگرمیاں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔
قرآنی احکام کے مطابق مسلمان عورت کے حجاب اور اس کی آرائش و زیبائش کی نمائش کی حدود و قیود مقرر ہیں، تاکہ نامحرم حضرات ان کی طرف مائل نہ ہوں اور انہیں آلودہ نظروں سے نہ دیکھیں اور معاشرہ میں فحاشی و برائی کا رواج عام نہ ہو، لیکن صورتحال بدتر ہے۔ ان اکاونٹس پر جس کا دل چاہتا ہے، آ کر زیارت اور اپنے خیالات کا اظہار کرتا اور تعریفوں کے پل باندھتا ہے۔ یہاں تک کہ ایموجیز کا بے دریغ استعمال بھی ہوتا ہے۔ ان تصاویر اور وڈیوز پر خواتین کی نسبت مرد حضرات کے بےباک اور تعریفی کمنٹس کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ دسیوں کمنٹس میں کسی صاحب کا کوئی ایک آدھ ایسا کمنٹ نظر آتا ہے، جس میں وہ ان چند خواتین نوحہ/منقبت خواں، خطیبہ یا ذاکرہ کے انداز پر تنقید کر رہے ہوں۔
معاملہ محض چہرہ دکھانے اور آواز سنانے کا نہیں ہے!
یہ معاملہ اس ذمہ داری کا ہے، جو ان شخصیات نے بحیثیت نمائندہ مکتب تشیع کے اپنے کندھوں پر اٹھائی ہے۔ پس ان کا چہرہ، مکتبِ تشیع کا چہرہ ہے اور لوگ اس مکتب کے بارے میں وہی تاثر قائم کریں گے، جس طرح یہ لوگ اسے پیش کریں گے۔ یہ معاملہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ہے، جس کے لئے امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے خروج اور کربلا میں قیام کیا۔ یہ معاملہ ہر ذمہ دار خاتون کی حیا کا ہے، جس پر قائم رہتے ہوئے وہ خود کو اس انداز سے پیش کرے کہ کوئی نامحرم اس کی وجہ سے گناہ کی طرف مائل نہ ہو، اسے ہلکی بات نہ کہے یا اس کی تصاویر/ناموس کا غلط استعمال نہ کرے۔ یہ معاملہ تشیع کے ان بچے اور بچیوں کی تربیت، مستقبل اور آخرت کا ہے، جنہیں سوشل میڈیا پر بطور نوحہ/منقبت خواں متعارف کرانے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ میرے خیال میں ان کو دین شناس بنانا زیادہ ضروری ہے۔ بچے اور بچیاں مل کر پرفارم کر رہے ہیں۔ باالفاظ دیگر ان کی مستقبل میں نامحرموں کے ساتھ پرفارم کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔)
میرا مکتب تشیع کے تمام ذمہ دار افراد سے ایک پردرد سوال ہے!
آخر ہم کہاں جا رہے ہیں؟ کیا ہم اس دنیا کی مادیت میں غرق ہو کر اپنے ساتھ دوسروں کی آخرت تباہ تو نہیں کر رہے؟ اگر ہمارا عمل اس کی روح کے مطابق نہیں تو کیا ہم اپنے مکتب کی نمائندگی کا حق رکھتے ہیں، جسے ہم مولا کی نوکری کا نام دے کر مطمئن ہیں۔؟ ان سوالات کے جواب میں صرف اتنا عرض کروں گی کہ مکتبِ تشیع کے نمائندے کا ہدف اور معیار کسی پبلک فگر یا ٹک ٹاکر کے ہدف و معیار سے مختلف اور کہیں بالاتر ہونا چاہیئے۔ چونکہ میری تحریر کی مخاطب بالخصوص محترم مومن خواہران ہیں، لہذا تحریر کے اختتام پر ان کو سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی یہ نورانی حدیث بطور ہدیہ پیش کروں گی، جو اس تحریر کا خلاصہ ہے: "عورتوں کے لئے خیر و صلاح اس میں ہے کہ وہ نہ تو نامحرم مردوں کو دیکھیں اور نہ نامحرم مرد ان کو دیکھیں۔”(تحف العقول، ص 960)


































