
بیروت : حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کو الہٰی فتح قرار دے دیاہے۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے بعد اپنے پہلے خطاب میں لبنانی عوام کے صبر اور قربانیوں کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ کیسے ثابت قدم رہے جب ان کے بیٹے میدان جنگ میں لڑ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے حزب اللہ کو ختم کرنے، شمالی آباد کاروں کی واپسی اور ایک نئے مشرق وسطیٰ کے حصول کیلئے جنگ چھیڑی لیکن اپنے کسی بھی ہدف میں کامیاب نہیں ہوا۔ نعیم قاسم نے کہا کہ حز ب اللہ نے اسرائیل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ حزب اللہ جنگ کی کوئی خواہش نہیں رکھتی لیکن اگر معاہدے کے باوجود اسرائیل نے حملے کیے تو جوابی کارروائی کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی دشمن کی جارحیت ہمارے لیے بہت خطرناک اور تکلیف دہ تھی اور ہم تقریباً دس دن تک الجھے ہوئے تھے تاہم حزب اللہ نے اپنی طاقت بحال کی اور محاذ جنگ پر ثابت قدم رہتے ہوئے کمان سسٹم کو بحال کیا۔حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس تنظیم نے دشمن کے داخلی محاذ پر حملہ کرنا شروع کر دیا ہے اور اس صیہونی حکومت کو پہنچنے والے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں صیہونی مقبوضہ فلسطین کے شمال سے فرار ہو گئے اور دشمن مزاحمتی محاذ کی ثابت قدمی کی وجہ سے بند گلی میں پہنچ گيا۔ مزاحمت کے افسانوی استحکام نے صیہونی دشمن کی فوج کو ہلا کر رکھ دیا اور اسرائیلی سیاست دانوں اور معاشرے میں مایوسی پھیل گئی۔ شیخ نعیم قاسم کہا کہ 61 فیصد اسرائیلیوں نے اعتراف کیا ہے کہ صیہونی حکومت نے جنگ نہیں جیتی۔ شکست ہر طرف سے دشمن کو گھیرے ہوئے ہے۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے کہاکہ جنگ بندی اتفاق رائے کوئی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ قرارداد 1701 سے متعلق انتظامی اقدامات ہيں اور اس کی شقوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزاحمت اور لبنانی فوج کے درمیان ہم آہنگی اعلیٰ سطح پر کی جائے گی۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنانی فوج کے سلسلے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ وہ ایک قومی فوج ہے اور اس کے فوجی اپنے وطن اور ہمارے وطن کے سرحدوں کی حفاظت کے لئے تعینات ہوں گے۔


































