
تہران : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ جنگ بندی اور قتل عام کا خاتمہ اسرائیل کے خلاف ایران کے ردعمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر اسرائیلی اپنے رویے پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ جنگ بندی کو قبول کرتے ہیں اور خطے کے مظلوم اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام بند کرتے ہیں تو یہ ہمارے ردعمل کی شدت اور نوعیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کو بغیر جواب نہیں چھوڑے گا۔ ایرانی صدر نے اسرائیلی حکام کو خبردار کیا کہ اگر وہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف غلطی کرتے ہیں تو انہیں دندان شکن جواب دیا جائے گا۔پیزشکیان نے علاقائی بحران کے حوالے سے امریکہ اور یورپی ممالک کے منافقانہ روش پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے تمام ممالک جان چکے ہیں کہ ایران امن و استحکام قائم کرنا چاہتا ہے اور صیہونی حکومت خطے میں بحران اور جنگ کو پھیلانا چاہتی ہے۔ انہوں نےکہا کہ ہم نے کبھی جنگ شروع نہیں کی اور نہ ہی کسی ملک کو جنگ میں جانے کی سفارش کی۔ یہ امریکہ ہے جس نے ہمیشہ ہمارے خطے سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں لڑی ہیں صدر نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کی حمایت کے ذریعے خطے میں جنگ کی آگ بھڑکاتا رہتا ہے۔


































