
نیویارک : اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ میں ملبے تلے تقریباً آٹھ ہزار فلسطینیوں کی لاشیں دبی ہوئی ہیں۔ تباہ شدہ علاقوں کی صفائی کی رفتار انتہائی سست ہے اور عمل مکمل ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایک اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ میں ملبہ ہٹانے کا کام نہایت سست روی کا شکار ہے اور اب تک ایک فیصد سے بھی کم ملبہ صاف کیا جا سکا ہے۔ خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی اور تدفین کے منتظر ہیں۔ فلسطینی سول ڈیفنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ آلات اور وسائل کی شدید کمی کے باعث بڑے پیمانے پر ملبے کو صاف کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ اندازے کے مطابق مکمل صفائی کے عمل میں سات سال تک لگ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے تقریباً ستر ارب ڈالر درکار ہوں گے۔


































