
عاشورا کی ظہر کے بعد جب قیام امام حسینؑ کے انتظامی معاملات امام سجادؑ اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے کاندھوں پر آن پڑے تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے معاملات کو ایسے احسن انداز میں سنبھالا کہ تاریخ اسے سیرت حضرت زینب سلام اللہ علیہا میں آئیڈیل کے طور پر جانتی ہے۔
*1️⃣ خدا محوری*
خدا محور ہونا قیام عاشورا کے دروس میں سے ایک درس ہے جسے تاریخ نے حضرت زینب (س) کے سب سے پہلے اقدامات میں سے ذکر کیا ہے۔ بی بی نے فرمایا کہ اللھم تقبل منا ھذاالقربان۔۔۔۔۔
*2️⃣ قرآن محوری*
رسول اللہؐ سے نقل ہوا ہے کہ فتنے اندھیری راتوں کے حصوں کی طرح یکے بعد دیگرے آتے ہیں لہٰذا ان حالات میں قرآن کی پناہ حاصل کرو۔ بی بی (س) نے دربار یزید میں قرآنی آیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی قربانیوں کا دفاع اور یزید کی تذلیل کا زمینہ فراہم کیا۔
*3️⃣ شجاعت*
تاریخ عاشورا میں کہیں بھی آپ نہیں دیکھیں گے کہ حضرت زینب (س) نے اپنے خطبات میں یزید کو حاکم، خلیفہ یا امیر جیسے القابات سے پکارا ہو بلکہ یزید کی محفل میں اسے «عدو الله و یابن طلقا» کہہ کر پکارا ہے اور اسے مخاطب کرکے فرمایا تو ہمارے ذکر کو نہیں مٹا سکتا۔
*4️⃣ با ہدف ہونا*
اہل کربلا کا ہدف اسلام کی بقا تھا۔ یزید کے دربار میں بی بی زینب (س) نے اپنے ہدف کی قاطعیت اور اس کے تلخ جملوں کا جواب یوں دیا، مارأیت الا جمیلا
*5️⃣ اطاعت امام*
مطیع امام ہونا قیام عاشورا کے دروس میں سے ایک ہے۔ در حقیقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسی اصول کی بنیاد پر عاشورا کو عالمگیر بنایا۔ بی بی (س) کے ہنگامی صورت میں کیے گئے تمام فیصلے امام سجاد(ع) کی راہنمائی کے زیر سایہ تھے.
حجت الاسلام رفیعی


































