
امام زین العابدین علیہ السلام سے رسالة الحقوق میں روایت ہے آپ نے فرمایا: جس نے بھی علم و معرفت کی جانب تمہاری رہنمائی کی اس کا حق یہ ہے کہ
*1۔ اس کا حترام کرو۔
*2۔ اس کی بارگاہ کو محترم جانو۔
*3۔ اس کی گفتگو غور سے سنو۔
*4۔ اس کی جانب اپنا رخ رکھو یعنی پشت مت کرو۔
*5۔ اپنی آواز کو اس کی آواز سے بلند نہ کرو۔
*6۔ اگر کوئی کسی چیز کے بارے اس سے سوال کرے تم جواب نہ دو بلکہ اسے دینے دو۔
*7۔ اس کی مجلس میں بیٹھ کر کوئی کسی سے کلام نہ کرے۔
*8۔ اس کے پاس بیٹھ کر کسی کی غیبت نہ کرو۔
*9۔ اور جب تمہارے سامنے اس کی کوئی برائی بیان کی جائے تو اس کا دفاع کرو۔
*10۔ اسکے عیوب و نقائص پر پردہ ڈالو اوراس کےفضائل ومناقب کو ظاہر کرو۔
*11 اس کے دشمن کی ہم نشینی نہ کرو۔
*12 اور اس کے دوستوں سے دشمنی نہ کرو۔
ان بارہ حقوق کو ذکر کرنے کے بعد امامؑ نے اس کا صلہ و اجر بیان فرمایا
پس اگر تم اس پے عمل کر لو گے تو اللہ تعالی کے فرشتے تمہارے حق میں گواہی دیں گے کہ تم نے اس کا حق ادا کر دیا اور اس سے خدا کے لیے تعلیم حاصل کی نہ کے لوگوں کو دکھانے کے لیے۔
________________________
📚1 *۔آداب اسلامی* مترجم مولانا سید کمیل اصغر زیدی جلد2 صفحہ105 ناشر تنظیم المکاتب گولہ گنج لکھنو
📚2۔ *میزان الحکمت* تالیف محمدی ری شہری مترجم مولانا محمد علی فاضل صاحب جلد6 صفحہ740 حدیث نمبر 13891


































