
صنعا : یمن میں 2 ماہ کی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینس گرینڈ برگ نے جنگ بندی کا ہدف یمنی عوام کو تشدد و رنج سے نجات دینا اور اس سے بڑھ کر جنگ ختم ہونے کے تعلق سے امید پیدا کرنا ہے۔ گرینڈ برگ کے مطابق، فریقین میں مغربی یمن کی الحدیدہ بندرگاہ میں ایندھن کے جہازوں کے لنگرانداز ہونے اور صنعا ایئرپورٹ سے خطے میں معین شدہ مقاصد تک تجارتی پروازیں شروع ہونے پر اتفاق ہوگیا ہے یمن کی قومی حکومت اور سعودی اتحاد نے جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کی پیشکش کا مثبت جواب دیا ہے۔ یہ جنگ بندی دو اپریل کو شام 7 بجے سے نافذ ہوگئی ہے۔ قومی حکوت کی مذاکرات کار ٹیم کے سربراہ محمد عبد السلام نے بھی 2 مہینے کی جنگ بندی پر مبنی اقوام متحدہ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ بندی میں فوجی کارروائی رکنا، صنعاء کے بین الاقوام ایئرپروٹ کو کچھ پروازوں کے لئے کھولنا اور ایندھن لانے والے جہازوں کے لئے الحدیدہ بندرگاہ کو کھولنا شامل ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب، امریکا متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک کی مدد سے 26 مارچ 2015 سے یمن کے خلاف فوجی جارحیت کے ساتھ ہی اس ملک کا بری، بحری اور فضائی محاصرہ کئے ہوئے ہے۔


































