| پیارے بچو! کسی کسان کے کھیت میں ایک پتھر کا سخت ٹکڑا نکل آیا۔جس سے کسان کے کام کاج میں حرج ہونے لگا۔کبھی وہ اس ٹکڑے سے ٹھوکر کھاکر گر جاتاتوکبھی ہل چلاتے ہوئے ہل پھنس جاتا۔۔۔اس نے کئی دفعہ اس ٹکڑے کو نکالنے کا سوچا لیکن پھر یہ سوچ کر پیچھے ہٹ جاتا کہ پتہ نہیں آئس برگ کی طرح یہ کتنا بڑا ٹکڑا ہو؟ میں اکیلا نکال سکوگا یا نہیں؟؟ کہیں کوئی چٹان ہی نہ نکل آئے۔وغیرہ وغیرہ۔۔وہ سوچتا کہ بعد میں کبھی دوستوں یاروں کی مدد لے کر نکال لوں گا ابھی رہنے دیتا ہوں۔مختلف وسوسے اور وہم اسے کم ہمت بنادیتے۔بقول شاعر:ارادے باندھتا ہوں،سوچتا ہوں،توڑ دیتا ہوں۔کہیں ایسا نہ ہوجائے،کہیں ویسا نہ ہوجائےکئی دفعہ کی ٹھوکروں،ٹکروں اور دھکوں کے بعد آخر ایک دن اس نے اس پتھر نما چٹان کو نکالنے کا پکا ارادہ کرہی لیا۔سب دوستوں،ساتھیوں اور کسانوں کو بلایا کہ بیلچے،کلہاڑے اور کدالیں وغیرہ لے کر کھیت میں فلاں وقت تک پہنچ جائیں۔آج یا تو ہم رہیں گے یا یہ چٹان رہے گی۔سب دوست یار اس کا پیغام ملتے ہی اس کی مدد کرنے وقت مقررہ پر اس کے کھیت میں پہنچ گئے۔جب سب آ گئے تو کسان نے سب پہلے کدال خود اپنے ہاتھ میں لی اور اس چٹان کے آس پاس جگہ سے کھودنا شروع کیا۔پانچ یا چھ ضربیں لگائی ہوں گی کہ پتھر اڑتا ہوا باہر آن پڑا۔غور کرنے پر پتہ چلا کہ جسے چٹان سمجھا جارہا تھا وہ تو ایک معمولی سا پتھر تھا۔جس نے کسان کا جینا مشکل کیا ہوا تھا۔سب دوست کسان کی سادگی نما حماقت پر خوب ہنسے اور اپنے اپنے اوزار اٹھائے اورواپس گھروں اور کھیتوں کو روانہ ہوگئے۔دوستوں،یہ صرف ایک کسان کی کہانی نہیں۔زندگی کے کھیت کھلیان میں ہم سب کسان ایسے ہی جیسے ہیں۔اپنی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو خود ہی بڑھاوا دے کر چٹان کی طرح بڑی مصیبت بنالیتے ہیں۔اور پھر دن رات اسی سے ٹھوکریں کھاتے زندگی مشکل بنالیتے ہیں۔کبھی معمولی رنجشوں کو،کبھی کوئی معمولی جھگڑے کو،کبھی مال ودولت کے چلے جانے کو،کبھی امتحان میں نمبر کم آنے کوہم چٹان کی مانند محسوس ہوتے ہیں۔لیکن یاد رکھیں!! یہ چٹان نما پتھر آپ کے باشعور حوصلے، ہمت،عزم اور یقین کی دو چار ضربیں بھی نہیں سہہ سکتے۔آپ کا یقین اس کائنات کی بہت بڑی طاقت ہے۔آپ کو اپنے شعور اور یقین کی طاقت کا احساس نہیں۔جس دن آپ کو احساس ہوگیا اس دن آپ کے سامنے کوئی چٹان،چٹان رہے گی اور نہ کوئی پہاڑ،پہاڑ۔۔کوئی مسئلہ مسئلہ رہے گا اور نہ کو مشکل مشکل۔۔۔ساری چٹانیں،سارے پہاڑ،ساری مشکلات اور مسائل آپ کے قدموں کے نیچے ہوں گے اور آپ ان سب کو فتح کر چکے ہوں گے۔بات صرف شعور،یقین اور حوصلے کی ہے۔ |
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- ہمت،عزم اور یقین
ہمت،عزم اور یقین
-
Ilyas - جنوری 6, 2021
- بچوں کا نوائے اسلام
- 2
- 1 minute read


































