محرم الحرام سے ایک ماپ قبل پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے فرقہ واریت کے جس آگ کونئے سرے سے جلایا گیا تھا اسے چہلم سید الشہدا قریب آنے پر ہوا دے کر مزید شعلہ ور بنایا جارہا ہے ،دشمن اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا سب سے آسان اور سستا ہتھیار فرقہ واریت ہی ہے اسی لئے کچرے کے ڈھیر پر پڑے تکفیری ڈھانچے کو اٹھا کر جھاڑا پونچھا گیا اور اس میں نئی جان ڈال کر میدان میں اتار دیا گیا،تکفیریوں کی طاقت کو دو آتشہ کرنے کیلئے خادم لنگڑے گروپ جیسے عناصر کو تکفیریوں کا ساتھ دینے پر تیار کیا گیا اور یہ ساراکا م سعودی ریالوں نے دکھایا ، سعودی سفیر کھلے عام پاکستان میں مشکوک ملاقاتیں کرتے رہے انہیں پیسے بانٹتے رہے لیکن نہ تو وزارت خارجہ کو سفارتی آداب یاد رہے اور نہ ہی حساس اداروں نے کوئی نوٹس لیا،سازش کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب خصوصی پرواز اسلام آباد پہنچی اور ایک اشرفی اٹھاکر لے گئی ، اس ساری منصوبہ بندی کا نتیجہ محرم میں سامنے آگیا، ملک میں چپے چپے پر شیعہ کافر کے نعرے گونجنے لگے ،شیعہ عبادت گاہوں پر حملے ہوئے ، ٹارگٹ کلنگ شروع کردی گئی او رسب سے خطرناک کام ایف آئی آر درج کرنے کا ہوا ،ملک کے مختلف شہروں میں آخری اطلاعات تک 50سے زائد پرچے درج ہوچکے ہیں، جس میں بنی امیہ ،یزید اور قاتلان حسین کی توہین کے مقدمات بھی شامل ہیں، بدی کی قوتیں چاہے کتنی ہی مضبوط کیوںنہ ہوں انہیں شکست کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے اور ایسا ہی ہوا بھی ،تمام مکاتب فکر کے سنجیدہ علما نے تعمیری کوششیں شروع کیں ،ملی یکجہتی کونسل سمیت مختلف پلیٹ فارم کے ذریعے فرقہ وارانہ نعروں سے مسموم کی گئی فضا کو پھر شعار اتحاد کی مہکتی صدا سے معمور کرنے کا بیڑا اٹھایا، ان سب میں ملی یکجہتی کونسل کی کاوشیں نہایت پر تاثیر اور نمایاں رہیں، کونسل کے پلیٹ فارم سے تمام مکاتب فکر کا اجلاس ہوا جس میں سب ہی اس بات پر متفق دکھائی دئے کہ ملک میں فرقہ واریت کے فتنے کا دوبارہ سراٹھانا بلاوجہ نہیں ہے، 80 اور90کی دہائی میں جو لوگ قتل و غارت میں ملوث رہے ہیں، ان کا پھر سے فعال ہونا اور ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرنا شیعہ اور سنی کا باہم مل بیٹھنا مشکل ہو جائے ، بہت معنیٰ رکھتا ہے، شرکا نے اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اصل مسائل ہماری نظروں سے اوجھل ہو جائیں، کشمیر کی صورتحال سے ہماری توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور فلسطین کو ہڑپ کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ،اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، سامراجی قوتیں مسلمانوں کو کمزور کرکے اسرائیل کو مضبوط کر رہی ہیں، خود مسلمان ممالک فلسطین کو کمزور کرنے کی کوششوں میں حصہ دار بن چکے ہیں،ان تمام سازشوں کو صرف اور صرف اتحاد کی طاقت سے ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے، تمام مکاتب فکر میں 95فیصد مشترکات موجود ہیں، صرف پانچ فیصد فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وحدت کی گاڑی کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے ، اور اس کام کیلئے ملی یکجہتی کونسل بہترین پلیٹ فارم ہے ،اسی با ت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام مکاتب کا جومرکز ی اجلاس منعقد کیا گیا تھا اسے نچلی سطح تک وسعت دینے کی ضرورت ہے بعض بڑے علما ئے کرام ایک کانفرنس میں جمع ہوکر اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن اس کے ثمرات نچلی سطح تک نہیں پہنچتے ہیں ، چھوٹے چھوٹے شہروں اور علاقوں میں جاہل مولوی اپنی دکان چمکانے کیلئے نفرتوں کی آگ بھڑکاتے ہیں لہذا اتحاد سے متعلق یہ اجلاس قریہ قریہ ہونا اور تمام مکاتب کے علما کو اس میں شرکت کرانا ضروری ہے اسی وقت وحدت کے ثمرات مل سکیں گے۔


































