Sat Oct 10, 2026

گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

روزانہ کی خبریں

مغربی دنیا اور بچوں کے حقوق(1)

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

عالمی اور مغربی میڈیا مغرب اور امریکہ کو انسانی حقوق کے لیے مثالی اور آئیڈیل قرار دیتا ہے۔ میڈیا کا پروپیگنڈا اس قدر شدید اور وسیع ہے کہ انسانی حقوق کا نام آتے ہی مغربی دنیا کا نرم و ملائم چہرہ سامنے آنا شروع ہو جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ انسانی حقوق جن میں عورتوں اور بچوں کے حقوق خصوصی طور پر شامل ہیں، مغربی معاشروں میں بری طرح پامال ہو رہے ہیں۔ اس مختصر مضمون میں مغرب میں بچوں کے حقوق کے بارے میں اشارہ کیا گیا ہے اور کچھ حقائق بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں سب سے زیادہ اگر کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ رہتا ہے تو وہ اس معاشرے کے کم سن بچے ہوتے ہیں۔ جنگ ہو یا کسی اور طرح کا بحران، اگر باپ مرے تو بھی بچے کو نقصان، ماں کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو بھی مصیبت بچے پر آتی ہے۔ بھائی یا بہن کی صورت میں یا ہم سن کسی جنگ یا بحران کا شکار ہو تو سب سے زیادہ منفی اثرات بچے پر ہی مرتب ہوتے ہیں۔ جنگی اور غیر متوقع بحرانوں کی طرح کسی معاشرے میں پانے جانے والے اخلاقی بحران اور معاشرتی چیلنجوں سے بھی سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔
معروف اخبار گارڈین نے اپنی اپریل 2015ءکی اشاعت میں برطانیہ میں بچوں کے خلاف انجام پانے والے جرائم کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس میں آیا تھا کہ یورپی ممالک میں سب سے زیادہ برطانیہ میں بچوں کو جنسی زیادتیوں کا شکار بنایا جاتا ہے اور اس میں برطانوی شہریوں کو دوسرے یورپی ممالک سے زیادہ جنسی لذت محسوس ہوتی ہے۔ دوسری طرف برطانیہ میں چونکہ بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین موجود نہیں ہیں، لہذا بچوں کے خلاف اس طرح کے جرائم میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ گارڈین کی اس رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر چھے بچوں میں سے ایک کو جنسی زیادتی کا کرب برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ لڑکیوں میں جنسی زیادتی کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ لڑکیوں میں ہر چار لڑکیوں میں سے ایک کو جنسی زیادتی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بچوں کی اسمگلنگ، گینگ ریپ اور اس طرح کے دوسرے اقدامات برطانوی حکومت کے مکمل علم میں ہیں۔
جرمنی میں بھی بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے اعداد و شمار بہت زیادہ ہیں۔ جرمن پولیس کے مطابق ہر روز چالیس بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ جرمنی کی فوجداری پولیس "pks” کے اعداد و شمار کے مطابق 2018ءمیں چودہ ہزار بچوں کو جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا۔ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے ہر دس بچوں میں سے ایک کی عمر چھ سال سے کم تھی۔ پولیس کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں، کیونکہ اکثر اوقات کیس پولیس کے پاس درج نہیں کرائے جاتے یا بچے کے قریبی عزیز اس جرم میں ملوث ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے خاندان کے اندر بات دبا دی جاتی ہے۔
امریکہ میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم وحشتناک حد تک زیادہ ہیں۔ امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمت کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں آٹھ منٹ میں ایک بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ امریکہ میں ہر سال نوے بچے جنسی جرائم کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ ماہرین اور آگاہ ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بدقسمتی سے آج کا مغربی معاشرہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ یہ وہ جرم ہے، جو ہر ذی شعور اور انسانی احساسات و جذبات رکھنے والے انسان کو پریشان و ملول کر دیتا ہے۔ بچوں کو تنگ کرنے اور ان پر ظلم و ستم کرنے کی کئی اقسام ہیں۔ مثال کے طور پر فرانس میں کم سن بچوں کو والدین کی طرف سے سخت ترین مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فرانس میں ہر روز دو بچے والدین کے تشدد کی وجہ سے مارے جاتے ہیں۔ فرانس کی پارلیمنٹ نے اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کر رکھی ہے، تاکہ والدین اپنے بچوں پر جسمانی تشدد نہ کریں۔
بعض مغربی ممالک میں رنگ و نسل کا تعصب بھی بچوں کی مار پیٹ کا باعث بتنا ہے۔ امریکہ میں زیادہ تر سیاہ فام بچے تشدد کا شکار ہو کر مارے جاتے ہیں۔ سیاہ فام بچے اور لڑکے جن کی عمریں 10 سے 19 سال تک ہوتی ہیں، زیادہ مار پیٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ امریکہ میں تشدد کے ذریعے سیاہ فام بچوں کے مرنے کی تعداد سفید فاموں سے انیس گنا زیادہ ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی 2015ءکی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ میں کئی نابالغ بچوں کو بالغ افراد کی عدالت میں لے جاکر سزائیں دی جاتی ہیں۔ 2014ءسے لے کر کچھ عرصہ پہلے تک سامنے آنے والے اعداد و شمار میں آیا ہے کہ 1500 سے زائد نابالغ بچوں کو بالغوں کی کورٹ میں لے جا کر سزا سنائی گئی، سزا یافتہ بچوں میں اکثریت سیاہ فاموں کی ہے۔
 مغرب میں بچوں کے حقوق کی عدم آگاہی کی ایک وجہ عام لوگوں کو بچوں کے بارے میں قانون سازی کا صحیح علم کا نہ ہونا بھی ہے۔ یورپی یونین کے بچوں سے متعلق ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہر سال 25 لاکھ بچے مختلف مقدمات میں عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، اس میں طلاق یافتہ بچوں کے مسائل، جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں اور بغیر والدین کے تنہا رہنے والے بچوں کے مقدمات ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ عدالتوں میں آنے والے اس طرح کے بچوں کے مقدمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پولیس بھی ان مقدمات کی صحیح طریقے سے پیروی نہیں کرتی۔ پولیس کے باس معلومات کی کمی اور بچوں کی طرف سے واضح اور ٹھوس شواہد پیش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مقدمات نتیجہ بخش ثابت نہیں ہوتے، پولیس کی تفتیش بھی سنجیدگی سے انجام نہیں پاتی، جس سے ملزم کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔
پورو نیور کے معروف لکھاری آسٹریڈ یود سیاد لوفسکی کہتے ہیں: مثال کے طور پر بچے پولیس کے سامنے اپنے اوپر ہونے والے ظلم و تشدد کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتے، کیونکہ انہین اس بات کا شعور ہی نہیں کہ ایف آئی آر میں کہی گئی بات کتنی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اکثر مواقع پر صرف بچہ خود ہی اپنا واحد گواہ بھی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کمزور مقدمے سے ملزم فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس وقت اکثر بچے جنہوں نے اپنا مقدمہ پولیس کے سامنے رجسٹرڈ کروایا اور فریق مخالف پر مقدمہ بھی چلا، لیکن کمزور دلائل اور ثبوتوں کی عدم فراہمی اور بچے کی طرف سے مکمل اور تفصیلی معلومات فراہم نہ ہونے پر ملزم مقدمات سے بری ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ مقدمات دائر کرنے والے چار سو بچوں پر ہونے والے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سب کے سب عدالتی روش اور طریقہ کار اور فیصلوں پر راضی نہیں تھے۔
بعض افراد میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ غربت اور بچے کا موضوع صرف غیر ترقی یافتہ یا کم ترقی یافتہ ممالک کا مسئلہ ہے، حالانکہ یونسیف کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں غربت و افلاس کا شکار بچوں کی تعداد کم ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ ہے۔ اوسط کے لحاظ سے امریکہ سب سے آگے ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی دویچہ ولہ نے یونیسکو کی ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ترقی یافتہ ممالک میں بچوں میں غربت و افلاس میں اضافے سے خبردار کیا گیا ہے۔ اس بارے میں معروف ادارے "بچوں کی تکات” نے جو رپورٹ شائع کی ہے، وہ خصوصی توجہ کے لائق ہے، 2018ءمیں اٹلی میں ساڑھے بارہ لاکھ سے زیادہ بچے غربت و افلاس کا شکار ہوئے، یورو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ہر آٹھ اطالوی بچوں میں ایک غربت کی وجہ سے تعلیم کو خیرباد کہنے پر مجبور ہوتا ہے۔ حالانکہ ان کو دنیا کی تیسری بڑی اقتصاد سمجھا جاتا ہے اور اس کی کل آبادی 61 ملین ہے، اٹلی میں سب سے زیادہ غریب بچے موجود ہیں۔
یورپی یونین کے ممالک میں 20 فیصد بچے غربت و افلاس کا شکار ہیں۔ برطانوی ادارے ایس ایم سی کے مطابق برطانیہ مین ساڑھے چار ملین بچے غربت کا شکار ہیں اور یہ برطانیہ کی آبادی کا 33 فیصد ہے۔ جرمنی کی مثال لیتے ہیں، جرمنی میں صرف ان کی اقتصاد ہی ترقی نہیں کر رہی، بچوں کی غربت و افلاس بھی ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے، جرمنی میں بچوں کی غربت و افلاس میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے، جرمنی میں بیس لاکھ بچے سوشل سکیورٹی کی مدد سے زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ مختلف سماجی اداروں کی رپورٹس اور سروے میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ بظاہر امیر ملک جرمنی میں بچوں کے حالات اچھے نہیں اور وہ غربت و افلاس میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جرمنی میں گذشتہ سال دو ملین بچے غربت و افلاس کا شکار ہوئے۔
نفسیاتی و سماجی ماہرین کے مطابق بچے جنتے لمبے عرصے تک غربت و افلاس کا شکار ہوتے ہیں، اتنے ہی وہ مختلف قسم کی نفسیاتی مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جو بچے غربت و افلاس میں بڑے ہوتے ہیں، وہ دوسرے بچوں کی نسبت تنہائی اور اکیلے پن کا شکار رہتے ہیں اور انہیں صحت و سلامتی کے حوالے سے بھی مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کم قمیت کے رہائشی گھروں کا فقدان، بے روزگاری اور غربت و افلاس وہ بنیادی وجوہات ہیں، جو بے گھر افراد کی تعداد مِں روز بروز اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ 2018ءمیں 22 لاکھ بچے بے گھر تھے اور ہر سال 30 امریکی بچوں میں سے ایک بے گھر ہونے کے تلخ تجربے سے گزرتا ہے۔ 2014ءاور 2015ءمیں دس لاکھ اسکولی بچے بے گھر تھے، 51 فیصد بے گھر بچوں کی عمریں 5 سال سے نیچے ہیں، جو اسکول نہیں جا سکتے اور اپنی ماﺅں کے ساتھ گلی، کوچوں، فٹ پاتھوں، پارکوں یا گاڑیوں کے گیراجوں میں زندگی کے تلخ ایام گزار رہے ہیں۔

مغرب میں بچوں کے حقوق میں پامالی کی سب سے بڑی وجہ ان فطری اقدار سے دوری ہے، جو خداوند عالم نے ایک خاندانی نظام کے اندر مضمر کر رکھی ہے۔ مغرب میں خاندانی نظام کی تباہی و بربادی اس بات کا باعث بنی ہے کہ آج مغربی معاشرے کے بچے متعدد مشکلات کا شکار ہیں۔ اسلام نے بچوں کی پیدائش سے لے کر نگہداشت تک اور ان کے بالغ ہونے تک خاندان پر جو ذمہ داریاں عائد کر رکھی ہیں، ان پر عمل درآمد ہو تو بچوں کے حقوق کی پامالی کا تصور بھی پیدا نہیں ہوسکتا، لیکن بدقسمتی سے دور حاضر کے انسان نے فطرت کی طرف پلٹنے کی بجائے گمراہی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے، جس کا انجام انتہائی بھیانک ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular