سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں گذشتہ سال مسئلہ افغانستان کے حل کیلئے طالبان اور امریکہ کے مابین ایک اہم معاہدہ طے پایا، جس کے نکات اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی تھی کہ شائد اب امریکہ اس معاملہ کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ تاہم واشنگٹن کے سابقہ کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خدشہ بھی بجا طور پر اپنی جگہ موجود تھا کہ امریکہ بدلتے عالمی حالات اور خاص طور پر علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف اور صرف اپنے مفادات کی خاطر اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں سے یا تو راہ فرار اختیار کرسکتا ہے، یا پھر گذشہ برس فروری میں ہونے والے معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی لانے کی بات کرسکتا ہے۔ نئے امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کا معاملہ بھی ان کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور خاص طور پر سابق صدر کا کیا گیا معاہدہ۔ بائیڈن نے افغانستان کے حوالے سے سابقہ امریکی انتظامیہ کے نمائندہ برائے افغان امور زلمے خلیل زاد کو ہی برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔ زلمے خلیل زاد نے گذشتہ دنوں افغانستان کا ایک اہم دورہ کیا اور وہاں صدر اشرف غنی سمیت اہم افغان شخصیات سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں کا مقصد نئے امریکی صدر کی مسئلہ افغانستان کے حوالے سے پیش کی گئی چند نئی تجاویز پہنچانا اور اس کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔ جو بائیڈن کی خواہش ہے کہ افغانستان میں نئے صدارتی الیکشن کرانے کی بجائے ایک عبوری قومی حکومت تشکیل دی جائے، جس میں مختلف افغان سٹیک ہولڈرز شامل ہوں اور اس کے علاوہ امریکی افواج افغانستان سے فی الحال مکمل انخلا نہ کریں۔ اس تاثر کو بھی اب مکمل تقویت مل رہی ہے کہ امریکہ افغانستان کا بوجھ اب بانٹنا چاہ رہا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ افغان امن عمل میں پاکستان سمیت ایران، چین اور روس کو شامل کرنے کی حامی بھر چکا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی خواہش ہے کہ بھارت کو بھی اس مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔ افغانستان میں بھارت کے پاکستان مخالف کردار کا جائزہ لیا جائے تو یقینی طور پر اسلام آباد کو امریکہ کے اس اقدام پر تحفظات ہوسکتے ہیں، تاہم اگر پاکستان اس حوالے سے کھل کر امریکہ سے بات کرتا ہے تو دوسری جانب واشنگٹن ایران کو اس مذاکراتی عمل میں شریک کرنے پر شائد اسی وجہ سے مجبور ہوا ہے کہ اسلام آباد کے نئی دہلی پر اعتراض کی صورت میں امریکہ کے پاس یہ سیاسی بیان موجود ہے کہ ہم بھی تحفظات کے باوجود تہران کو اس معاملہ میں شریک کر رہے ہیں، لہذا آپ (پاکستان) بھی خطہ کے امن کی خاطر ہندوستان کے کردار کو تسلیم کریں۔ افغان امور پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر بھارت کو افغان مذاکراتی عمل میں شریک نہیں کیا جاتا تو اسے (بھارت) کو افغانستان میں پہلے کی طرح پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع مل سکتا ہے اور اگر ہندوستان کو مذاکراتی میز پر بٹھایا جاتا ہے تو یقینی طور پر اسے کچھ یقین دہانیاں کرانی پڑیں گی اور اس پر عمل بھی کرنا پڑے گا، جس کی وجہ سے نئی دہلی کو افغان سرزمین پاکستان کیخلاف سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کا موقع کم ملے گا۔ افغانستان میں پائیدار امن کیلئے خطہ کے ممالک کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے، اس حوالے سے پاکستان کی پوزیشن اور اہمیت کو امریکہ یکسر تسلیم کرچکا ہے، اگر چین اور ایران کی بات کی جائے تو دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ امریکی فوجیں افغان سرزمین کو چھوڑ دیں، جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد تہران کا یہ سب سے بڑا مطالبہ تھا کہ امریکی خطہ سے نکل جائے اور اس اقدام کو شہید جنرل کے انتقام سے منسوب کیا جا رہا تھا۔ طالبان بھی اسی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ امریکی فوجیوں کو معاہدے کے مطابق ہر حال میں افغان سرزمین کو چھوڑنا ہوگا۔ پاکستان، چین، ایران اور روس کو یہ خدشہ ہے کہ اس دوران شام اور عراق سے بیدخل داعش کے دہشتگرد افغانستان میں ایک مرتبہ پھر خود کو منظم کرسکتے ہیں، لہذا افغانستان میں مضبوط حکومت اور افراتفری کا خاتمہ ہر حال میں ضروری ہے۔ افغانستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو جہاں ایک جانب نئے امریکی صدر نے افغانستان سے مئی کے بعد بھی مکمل فوجی انخلاءسے انکار کر دیا ہے تو دوسری جانب عبوری حکومت کی تشکیل پر زور دیا ہے، (عبوری حکومت کا مطالبہ طالبان کا بھی ہے)، تاہم قومی عبوری حکومت کی تشکیل کی امریکی تجویز کو افغان صدر اشرف غنی نے مسترد کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نئے صدارتی الیکشن کرانا بہتر ہے، افغان صدر کے اس بیان کے آنے کے بعد طالبان کا بیانیہ بھی فوری طور پر سامنے آیا اور انہوں نے اشرف غنی کے اعلان کو یکسر مسترد کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اشرف غنی اس سے قبل بھی بعض امور پر امریکہ کے فیصلوں کو ماننے سے بظاہر انکار کرتے رہے ہیں، تاہم جب واشنگٹن سے ان پر دباو آتا ہے تو وہ امریکی انتظامیہ کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ غنی کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ افغان صدر وہی کریں گے جو بائیڈن چاہیں گے۔ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے متعلق امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے افغان طالبان نے کہا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی پر مجاہدین اپنا جہاد جاری رکھیں گے، معاہدے کی خلاف ورزی کی ذمہ داری امریکا پر ہوگی۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر امریکا کے عالمی تاثر کو نقصان بھی پہنچے گا، افغان طالبان نے مزید کہا کہ دوحہ معاہدہ 20 سالہ جنگ کے خاتمے کیلئے ایک اچھا اقدام تھا، امارات اسلامی معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں پر مضبوطی سے کاربند ہے، چاہتے ہیں کہ امریکا بھی دوحہ معاہدے پر مضبوطی سے کاربند رہے۔ امریکا جنگ چاہنے والے حلقوں کے اکسانے کی وجہ سے تاریخی موقع ضائع نہ کرے، طے شدہ تاریخ پر تمام فوجی نہ نکلے تو یہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔ امریکہ، اشرف غنی اور طالبان کا ردعمل سامنے آنے کے بعد افغان عمل میں ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے، جس کے بعد امن عمل کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ReplyReply allForward