
بیروت : لبنان میں مسلسل دوسرے دن بھی اسرائیل نے سائبر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں واکی ٹاکی، فنگرپرنٹ ڈیوائسز، بائیومیٹرک ڈیوائسز اور دیگر مواصلاتی آلات پھٹ گئے۔ دھماکوں سے 14 افراد شہید اور 400 سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ زیادہ تر افراد کے چہروں پر زخم آئے ہیں۔ گزشتہ روز پیجر دھماکے میں شہید ہونے والے ایک بچے کے جنازے کے مقام سمیت لبنان میں متعدد مقامات پر دھماکے ہوئے۔
دوسری جانب پیجر کے ذریعے اسرائیلی دہشت گردی سے مارے گئے افراد کی تعداد تیرا ہوگئی ہے جبکہ تین ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ مرنیوالوں میں حزب اللہ کے گیارہ ارکان۔ ایک خاتون اور بچی شامل ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق تین ہزار کے قریب زخمی اسپتال لائے گئے جن میں سے دوسو کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ لبنان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل پر وسیع پیمانے پر حملے کے لیے اپنے سائبر ونگ کو کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ حزب اللہ کی ممکنہ کارروائی کے پیش نظر ایئر فرانس اور لفتھانسا سمیت کئی ایئرلائنز نے لبنان اور تل ابیب کیلئے پروازیں معطل کردی ہیں۔
ادھر عراقی حزب اللہ اور یمنی انصار اللہ نے جنگ کی صورت میں ہزاروں مزاحمت کاروں لبنان بھیجنے کا اعلان کردیا۔ دونوں تنظیموں نے جنگ کی صورت میں حزب اللہ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیاہے۔
دوسری جانب تائیوان کی کمپنی گولڈ اپولو نے کہا ہے کہ لبنان میں پھٹنے والے پیجر اس نے نہیں بنائے ہیں۔ بلکہ ہنگری کی کمپنی اے بی سی کنسلٹنٹ نے تیار کیے ہیں یہ یورپی کمپنی تائیوانی کمپنی کا ٹریڈ مارک استعمال کرنے کا حق رکھتی ہے۔


































