
اسلامی انتہا پسندی سے نمٹنے کے نام پر نیا مسودہ قانون متعارف، قانون میں فرانسیسی اقدار مخالف گھروں میں قائم اسکولوں، مساجد اور تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے
یہ اسلامی بنیاد پرستی سے آزادی کا مسودہ ہے اور ایسے ہی مقاصد رکھنے والے دیگر نظریات سے آزادی کامسودہ ہے ،جو لوگ تقسیم کے خواہاں ہیں،وزیراعظم کا دعویٰ
پیرس (نیوز ڈیسک) فرانسیسی حکومت نے مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کیلئے نیا مسودہ قانون متعارف کرادیا، بظاہر قانون کا مقصد اسلامی انتہا پسندی سے نمٹنا قرار دیا جارہا ہے ،مسلمانوں کی تنقید سے بچنے کیلئے بل کا نام انسداد تقسیم بل رکھا گیا ہے تاہم فرانسیسی صدر تقسیم کرنیوالا مسلمانوں کو ہی قرار دیتے ہیں، مجوزہ قانون میں گھروں میں قائم اسکولوں، مساجد اور ایسی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں فرانسیسی اقدار کے خلاف نظریات کا پرچارکا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، حکام کے مطابق یہ ایسے اسلامی نظریات ہیں جن سے تشدد جنم لیتا ہے، مسودہ قانون آئندہ مہینوں میں پارلیمان میں پیش ہو گا،وزیرِ داخلہ جیرلڈ ڈرمینن نے کہا ہے کہ صدر میکرون نے انہیں ہدایت کی ہے کہ مسیحی ، یہودی اور اسلام مخالف قوانین کے خلاف جنگ کیلئے پارلیمانی مشن تشکیل دیا جائے، مذہب کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے اور یہ ہر ایک کا احاطہ کرتی ہے اور نقصان پہنچاتی ہے، وزیر اعظم یون کاسٹیکس کا کہنا تھا کہ یہ مذاہب، خاص کر مسلمانوں کے خلاف کوئی مسودہ نہیں اور نہ ہی اس میں مذہبی آزادیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ یہ مسودہِ آزادی ہے، ایک مسودہِ تحفظ ہے، یہ تو اسلامی بنیاد پرستی سے آزادی کا مسودہ ہے اور ایسے ہی مقاصد رکھنے والے دیگر نظریات سے آزادی کامسودہ ہے ،جو لوگ تقسیم کے خواہاں ہیں اور نفرت اور تشدد پھیلاتے ہیں، وہ ہی علیحدگی پسندی کی مرکزیت ہیں۔


































