
،جنوبی عراق میں امریکی فوجیوں کے چار قافلوں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا، عین الاسد چھاونی پر ایک بار پھر راکٹ حملہ ، 5 راکٹ چھاونی میں گرے دہشت گرد امریکی فوجیوں پر اس وقت تک حملے جاری رہیں گے جب تک وہ اس ملک سے باہر نہیں نکل جاتے،، استقامتی گروہوں کا اعلان
بغداد (نیوز ڈیسک) عراق میں امریکی مفادات پر حملوں میں تیزی آگئی ہے، جنوبی عراق میں امریکی فوجیوں کے چار قافلوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، امریکی فوج کے ایک قافلے کے راستے میں بم کا دھماکہ السماوہ بغداد روڈ پر کیا گیا جبکہ دوسرا صوبہ دیوانیہ میں ہوا اور تیسرا بم حملہ صوبہ بابل کے حلّہ روڈ پر انجام دیا گیا، اس سے پہلے صوبہ ناصریہ میں امریکی فوجی کارواں کو دھماکا کر کے نشانہ بنایا گیا تھا، ادھر عین الاسد چھاونی پر ایک بار پھر راکٹ حملہ کیا گیا، 5 راکٹ چھاونی کے حساس علاقوں میں گرے، امریکی ائیر ڈیفنس سسٹم ان راکٹوں کو انٹرسپٹ کرنے میں ناکام رہا ،راکٹ حملوں کی وجہ سے امریکیوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے، استقامتی گروہوں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد امریکی فوجیوں پر اس وقت تک حملے جاری رہیں گے جب تک وہ اس ملک سے باہر نہیں نکل جاتے، کتائب حزب اللہ نے امریکی فریق کے ساتھ عراقی حکومت کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مضحکہ خیز اور افسوسناک قرار دیا اور واضح کیا کہ غاصب امریکیوں کے خلاف استقامتی محاذ کی جہادی کارروائیاں جاری رہیں گی ، بعض عراقی سیاستدانوں کی ثالثی کے بعد استقامتی محاذ نے عراقی حکومت کو ایک سے زیادہ بار موقع دیا تاکہ وہ امریکی فریق کے ساتھ غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے سلسلے میں مذاکرات کرے لیکن ان مذاکرات کے نتائج نہایت خراب اور افسوسناک نکلے۔


































