
عالمی فوجی اتحاد کے انخلا کا نظام الاوقات طے کرلیا ، سلامتی کے ادارے ملکی سالمیت کے دفاع اور داعش کے مقابلے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ آمادہ اور تیار ہیں،عراقی وزیراعظم
امریکا کی فوجی موجودگی عراق کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، تحریک النجبا،پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق امریکی فوجیوں کو ہر حال میں اس ملک سے نکلنا ہے، رکن پارلیمان محمد کریم
بغداد(نیوز ڈیسک)عراقی وزیراعظم نے امریکی فوجیوں کے انخلا کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے عسکری فنی کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا، مصطفی الکاظمی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے مذاکرات اور قانونی اقدامات کے ذریعے امریکی سرکردگی میں قائم عالمی فوجی اتحاد کے عراق سے انخلا کا نظام الاوقات طے کرلیا ہے ، ہمارے سلامتی کے ادارے ملک کی ارضی سالمیت کے دفاع اور دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ آمادہ اور تیار ہیں، مزاحمتی تحریک النجبا کے نائب سربراہ نصر الشمری نے واضح کیاہے کہ امریکا کی فوجی موجودگی عراق کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے ، خطرات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کا طریقہ کار تلاش کرنا عراقی عوام کا فریضہ اور حق ہے جو ہمیشہ مجرمانہ تسلط کے خاتمے اور تمہارے جاسوسی کے مرکز کا خاتمہ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں ، واشنگٹن فوجی انخلا سے متعلق عراقی پارلیمنٹ کے فیصلے کو دانستہ طور پر نظرانداز کر کے ہمارے ملک کی زمینی و فضائی حدود کو جارحیت کا نشانہ بناتا رہا ہے ، حزب اللہ عراق کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ دہشت گرد امریکی فوجی عراق میں نیٹو کے نام سے سرگرم ہیں ، عام شہریوں اور سیکورٹی اداروں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے ذمہ دار امریکا، صیہونی حکومت اور سعودی عرب ہیں، اس دوران عراق کے رکن پارلیمان محمد کریم نے کہا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق امریکی فوجیوں کو ہر حال میں اس ملک سے نکلنا ہے۔


































