
شہادت علی ؑکے جلوس نہیں نکالے جاسکیں گے،ماہ مقدس میں محفلِ شبینہ اور ختم القرآن کے اجتماعات سمیت کسی بھی قسم کی مذہبی تقریبات کی اجازت نہیں ہوگی
سندھ حکومت کافیصلہ صدر مملکت کیساتھ علما ء کے اجلاس میں کئے گئے معاہدے سے متضاد ہے، ایس اوپیز کے تحت جلوس اور مجالس بھی ہوسکتی ہیں،علمائے کرام
کراچی(نیوزڈیسک) محکمہ داخلہ سندھ نے ماہ رمضان میں جلسے،جلوس، محافل سمیت ہر قسم کی مذہبی تقریبات پر پابندی لگادی جبکہ شیعہ علمائے کرام نے صوبائی حکومت کے فیصلے کو صدر مملکت کے ساتھ علماء کے اجلاس میں کئے گئے معاہدے سے متضاد قرار دیا ہے، سندھ حکومت کے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق یوم علی ؑکے موقع پر مجالس اور جلوس نکالنے پر بھی پابندی ہوگی، یوم القدس کی ریلی بھی نہیں نکالی جاسکے گی،نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ماہ مقدس میں مجالس، محفلِ شبینہ اور ختم القرآن کے اجتماعات سمیت کسی بھی قسم کی مذہبی تقریبات کی اجازت نہیں ہوگی، واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور علما کے درمیان 20 نکاتی معاہدے کے بعد فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ صلوٰۃ تراویح اور شہاد ت علی ؑ کی مجالس وجلوس کی مشروط اجازت دی گئی تھی، اسی لئے علمائے کرام نے سندھ حکومت کے فیصلے کو علما کے اجلاس میں کئے گئے معاہدے سے متضاد قرار دیا ہے،شیعہ علما کونسل سندھ کے صدر علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے مجالس اور جلوس پر پابندی کا فیصلہ نہایت عجلت میں کیا، ایس او پیز پر عمل کر کے نمازجمعہ اورتراویح ہوسکتی ہیں تو مجالس اور جلوس بھی نکالے جاسکتیہیں، ایس او پی کے تحت مجالس اور جلوس کی تیاری جاری رکھی جائے۔


































