سعودی عدالت نے شیخ باقر النمر کے بھتیجے علی النمر، داﺅد المرھون اور عبداللہ الزاہر کو 2016میں دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی
پراسیکیوٹر جنرل کا تینوں کے کیسز پر نظر ثانی کا حکم،فیصلے سے سعودیہ میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی،انسانی حقوق کمیشن
ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی حکومت ملکی اور غیرملکی دباو ¿ کی وجہ سے تین شیعہ نوجوانوں کی سزائے موت روکنے پر مجبور ہوگئی، دہشت گردی کے الزام میں سزاسنائے جانے کے وقت علی النمر، داﺅد المرھون اور عبداللہ الزاہر کی عمریں 18 سال سے کم تھیں، سعودی پراسیکیوٹر جنرل نے تینوں کے کیسز پر نظر ثانی کا حکم دیا ہے، شیخ باقر النمر کے بھتیجے سمیت تین شیعہ نوجوانوں کو 2016میں سزائے موت سنائی گئی تھی،اٹارنی جنرل نے حکومتی فیصلے کو 18 سال سے کم عمرتمام افراد کی سزائے موت منسوخ کرنے کو شاہ سلمان بن عبد العزیز سے جوڑ دیا ہے لیکن میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سعودی عرب کے اندر اور باہر انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی کارکنوں کی کاوشوں کا نتیجہ اور ایک بڑی کامیابی ہے، انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے سربراہ عواد العواد نے پراسیکیوٹر جنرل کے فیصلے کو خوش آئندہ قرار دیا ہے، العواد نے کہا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل کی سزائے موت کے کم عمر مجرموں کی سزا پرعمل درآمد روکنا اور ان کے کیسز پر نظر ثانی کا حکم عدالتی اصلاحات کی جانب اہم قدم ہے، اس سے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی
- Home
- زمرے کے بغیر
- سعودی عرب ) ملکی وغیرملکی دباو 3شیعہ نوجوانوں کی سزائے…
سعودی عرب ) ملکی وغیرملکی دباو 3شیعہ نوجوانوں کی سزائے موت موخر
-
Ilyas - ستمبر 3, 2020
- زمرے کے بغیر
- 14
- 0 minute read


































