Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

راکٹ حملوں سے اسرائیلی سیاحت اور معیشت برباد

30ڈالر کا راکٹ گرانے کیلئے 50ہزار ڈالر کے میزائل کا استعمال، تل ابیب کے بن غورین ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت 15 فیصد تک رہ گئی
تمام سیاحتی ٹورز منسوخ ،ہوٹل بکنگ کم ترین سطح پر آگئیں ،اسرائیل کی پوری آبادی تہہ خانوں میں چھپی ہوئی ہے، تمام کاروبارزندگی معطل
تل ابیب (نیوز ڈیسک) فلسطینی مجاہدین کے راکٹ حملوں نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے ،اسرائیل کی سیاحت،درآمدات ،برآمدات تباہ ہوگئیں ، معمولی راکٹوں کو روکنے کیلئے بھی لاکھوں ڈالر پھونکنا پڑ رہے ہیں ،رپورٹ کے مطابق حما س کے دیسی ساختہ ایک راکٹ کی قیمت 30سے 200ڈالر تک ہوتی ہے جسے مار گرانے کیلئے اسرائیلی آئرن ڈوم سے 50ہزار سے ایک لاکھ ڈالر مالیت کا میزائل داغنا پڑتا ہے، آئرن ڈوم کی ایک بیٹری کی قیمت 5کروڑ ڈالرسے زائد ہے،غزہ کی جانب سے آئرن ڈوم بیٹریز کی مزائل داغنے کی مجموعی صلاحت سے دگنے یا اس بھی زیادہ راکٹ بیک وقت داغے جاتے ہیں ، جن میں آدھے آئرن ڈوم کا شکار بنتے ہیں تو باقی اسرائیل میں گرکرتباہی مچا دیتے ہیں ، اسرائیل کے نقصانات کبھی میڈیا کی زینت نہیں بنتے ہیں لیکن مہینوں بعد اسرائیلی پارلیمان اور تحقیقاتی رپورٹس میں اس تباہی کی خبر ملتی ہے،راکٹ حملوں کی وجہ سے تل ابیب کے بن غورین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت 15 فیصد تک رہ گئی، روزانہ 85 فیصد پروازیں منسوخ کی جارہی ہیں ، بین الاقوامی ٹریفک اسرائیل کا رخ نہیں کررہا،ایشدود اور ایشکلون بندرگاہوں پر شپنگ بھی معطل ہوگئی جسے اسرائیل نے خفیہ رکھا ہوا ہے ،سیاحتی صنعت کوبھی شدید جھٹکا لگاہے، فلاٹس کے بعد کروز لانز نے بھی اسرائیلی حدود میں سفر منسوخ کردیے ہیں جبکہ ہوٹل بکنگ کم ترین سطح پر آگئیں ،اسرائیل کی پوری آبادی تہہ خانوں میں چھپی ہوئی ہے اور تمام کاروبارزندگی معطل ہے، راکٹ حملے زیادہ دن جاری رہے تو اسرائیلی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکے گی ،اسی لئے اسرائیلی حکام مختلف ذرائ ع سے جنگ بندی کی کوششیں کررہے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ جنگ بندی ایسے ہو کہ ان کی فتح ظاہر ہوسکے

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular