آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
عرفان اور سیروسلوک کی منزل میں جملہ مسائل میں سے اہم مسئلہ ذکر ہے۔ جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے کہ حقیقت عرفان یہ ہے کہ انسان خدا کی طرف ”توجہ "پیدا کرے۔ اور عرفان کا سب سے بلند مرتبہ یہ ہے کہ سالک ایک لمحہ کے لیے بھی خدا سے غافل نہ ہو۔ اور اس کی تمام توجہ خداوند عالم کی طرف مبذول رہے۔ اور باصطلاح انقطاع کامل حاصل کر لے۔
خدا کی طرف توجہ کہ جو عرفان کی حقیقت اور اس کا مقصد ہے در حقیقت وہی چیز ہے کہ جسے آیات اور روایات نے "ذکر” کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ توجہ اور ذکر کے مقابل کی حالت” غفلت” ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے۔
اس شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
اے صاحبان ایمان، مبادا تمہارا اموال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد خدا سے غافل کرے۔
اس بنیاد پر عرفانی مقامات اور مراتب در حقیقت ” ذکر اور توجہ” کی بنیادپر قرار دئے گئے ہیں۔ انقطاع کامل الی اللہ ، یعنی یہ کہ انسان ہمیشہ خدا کا ذکر کرے اور لمحہ بھر کے لیے بھی اس سے غافل نہ ہو۔
بہر حال ذکر کے بارے میں ایک اہم سوال جو یہاں پر پیش آتا ہے یہ ہے کہ کیاخدا کی طرف توجہ کرنے کے لیے صرف الفاظ کا زبان پر جاری کرنا کافی ہے ؟یعنی کیا ” ذکر لفظی ” ہی کافی ہے؟ یا نہیں بلکہ "ذکر قلبی” بھی مہم ہے؟
ممکن ہے ابتدائی نظر میں یہ سمجھ میں آئے کہ اس سوال کا جواب تو واضح ہے؟ اور وہ یہ کہ ذکر قلبی مہم ہے۔ ورنہ صرف لقلقہ زبان اور تسبیح کا گمانا کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔ اور اگر ذکر لفظی کو اہمیت دی گئی ہے وہ اس لیے کہ اس کے ذریعہ انسان ذکر قلبی کرتا ہے اور خدا کی طرف توجہ کرتا ہے۔ لیکن ہمیں لگتا ہے کہ یہ مختصر سا جواب کافی نہیں ہے بلکہ یہاں پر زیادہ تفصیل سے گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ قبول کر لیں کہ حقیقت ذکر صرف ذکر قلبی ہے تو یہ سوال ذہن میں آئے گا کہ پھر ان سب اذکار لفظی کو بیان کرنے اور ان کے سلسلے میں روایات آئمہ(ع) میں تاکید کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر ہم کوشش کر کے کامیاب ہو جائیں کہ اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ رکھیں تو پھر ذکر لفظی کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی؟۔
اہل تصوف کے درمیان ذکر لفظی اور ذکر قلبی کے سلسلے میں دو گروہ ہیں جو افراط اور تفریط کے قائل ہیں۔ ان میں بعض ذکر لفظی پر اتنی تاکید کرتے ہیں کہ باقاعدہ ذکر کرنے کے جلسہ منعقد کرتے ہیں اور سب ایک ساتھ بیٹھ کر کچھ خاص حرکات اور سکنات کے ذریعے اذکار پڑھتے ہیں اور تکرار کرتے ہیں۔ اور اسے اصطلاح میں ” ذکرجلی” کہتے ہیں۔دوسری طرف کچھ ایسے افراد ہیں جو ذکر لفظی کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتے۔ خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور شروع سے آخر تک ایک لفظ بھی اپنی زبان پر جاری نہیں کرتے۔ اور پوری نماز کو سکوت کامل کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ذکر لفظی اس لیے ہے کہ انسان کا دل متوجہ ہو جب ہمارا دل اللہ کی طرف متوجہ ہو گیا ہے تو پھر ذکر لفظی کرنے اور الفاظ کا تلفظ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ برعکس یہ توجہ کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہم ذکر قلبی اور دلی توجہ کے اس مرحلہ پر پہنچ چکے ہیں اور اس قدر یاد خدا میں غرق ہو چکے ہیں کہ نماز سے غافل ہو گئے ہیں اور جمال الٰہی کا دیدار اس بات کا باعث بنتاہے کہ ہم تمام چیزوں سے حتی نماز سے بھی غافل ہو جاتے ہیں۔ یا بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ نماز یا اس طرح کے دوسرے اذکار یہ عرفان کے ابتدائی مراحل سے مربوط ہیں۔ جو عرفان کی وادی میں قدم رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ نماز پڑھیں لیکن جو اشخاص "مقام یقین” تک پہنچ چکے ہوں انہیں اعمال اور عبادات انجام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اپنے اس قول کو قرآن کی ان آیات کے ذریعے مستند کرتے ہیں۔
"پس اپنے پروردگار کی حمد و ثنا کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جاو ¿۔ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو یہاں تک کہ یقین حاصل ہو جائے”۔
تعلیمات اہلبیت (ع) کی نگاہ میں ایسے نظریات یقینا باطل اور نادرست ہیں قرآن کریم اور روایات کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ خاص اذکار کو معین کیا گیا ہے اور ان کو لینے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس لیے کہ اہلبیت سے بڑھ کر کوئی عرفانی مقامات سے آشنائی حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس وادی میں ان پر سبقت حاصل کر سکتاہے۔ انہوں نے زندگی کے آخری لمحہ تک نماز، دعا اور ذکر لفظی کو ترک نہیں کیا۔ ذکر لفظی ان کی نگاہ میں اتنا حائز اہمیت ہے حتی بعض جگہوں پر انہوں نے اتنی تاکید کی ہے کہ بعینہ وہی الفاظ اور کلمات ادا کئے جائیں جو انہوں نے تعلیم دئے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ روایت جو مرحوم مجلسی نے کتاب بحار الانوار میں نقل کی ہے اس روایت کے مطابق عبد اللہ بن سنان امام صادق (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ(ع) نے فرمایا: عنقریب ایسے شبہات تمہارے درمیان وجود پائیں گے اور کوئی امام یا رہبر تمہاری ہدایت کرنے والا نہیں ہو گا اور ان شبہات سے نجات نہیں پاو ¿ گے مگر یہ کہ ” دعائے غریق” کی قرائت کرو۔عبد اللہ بن سنان کہتے ہیں : میں نے عرض کیا کہ دعائے غریق کون سی دعا ہے۔ فرمایا: اس طریقے سے پڑھو۔
یا اللہ یا رحمان یا رحیم یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔
عبد اللہ بن سنان کہتے ہیں میں نے دعاکو اس طریقے سے پڑھا:
یا اللہ یا رحمان یا رحیم یا مقلب القلوب و الابصارثبت قلبی علی دینک۔
آپ نے فرمایا: خدا ” مقلب القلوب والابصار ” ہے لیکن دعا کو جیسے میں نے کہا ہے ویسے پڑھو۔
یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک.
ملاحظہ کیا آپ نے؟ ، امام(ع) نے صرف ایک کلمہ ابصار کے اضافہ کرنے پر کس قدر حساسیت کا اظہار کیا۔ اور تاکید کی کہ ذکر لفظی جس طریقے سے انہوں نے کہا ویسے ہی کیا جائے۔
نماز کے سلسلے میں بھی تمام افراد عارف اور غیر عارف کے اوپر جتنی مقدار میں اذکار واجب ہیں مثلا سورہ حمد اور دوسرے سوروں کا پڑھنا، رکوع اور سجود میں اذکار کا پڑھنا اور ان اذکار کو زبان سے ادا کرنا ضروری اور واجب ہے صرف دلی توجہ یا دل میں پڑھنا کافی نہیں ہے۔ دل میں پڑھنے سے انسان کی گردن پر عائد شدہ تکلیف ساقط نہیں ہو گی۔ اس بنا پر اس طرح کی باتیں کرنا کہ ” اصلی مقصد توجہ قلبی ہے اور یہ اذکار اس کا مقدمہ ہیں اور اگر کوئی شخص ذکر لفظی کے بغیر قلبی توجہ پید اکر سکتا ہے تو وہی کافی ہے ” غلط ہے ایسی باتیں کرنے والا یا غافل ہے یا جاہل۔ یا غلط اہداف و مقاصد مد نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ بعینہ ویسے ہی ہے جیسے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ” دل پاک ہونا چاہیے شریعت کے حلال و حرام کا پابند ہونا ضروری نہیں ہے”۔ ان کی نظر میں اگر انسان کا دل پاک ہو جتنے بھی گناہ اور معصیتیں کرتا جائے کوئی بات نہیں ہے۔ شاید ہم میں سے اکثر نے ایسے افراد کو دیکھا ہو اور ان سے ملاقات کی ہو۔ مثال کے طور پر جانتے ہیں کہ اسلام میں حجاب واجب ہے لیکن اس کے باوجود حجاب کی رعایت نہیں کی کرتے۔ لیکن جب انہیں تذکر دیا جائے کہتے ہیں۔ ” دل پاک ہونا چاہیے۔ دل کا پردہ ہونا چاہیے”
اس طرح کا عقیدہ اور باتیں ،باطل اور بے بنیاد ہیں۔ ہم دین کو اپنی طرف سے اختراع نہیں کر سکتے بلکہ کتاب خدا اور سنت رسول اور آئمہ معصومین ؑکے ساتھ متمسک رہیں۔ یہ دیکھیں کہ قرآن اور اہلبیتؑ کیا کہہ رہے ہیں، انکا کردار کیسا ہے اس سلسلے میں بہت سارے شواہد اہلبیت ؑ کی عملی زندگی میں نظر آئے ہیں جو ذکر لفظی کی اہمیت پر دلالت کرتے ہیں۔ ایک روایت جسے امام صادق ؑ سے نقل کیا،آپ نے اپنے والد بزرگوار امام محمد باقر ؑ کے بارے میں فرمایا: بابا بہت زیادہ ذکر کرتے تھے جب میں ان کے ساتھ راستہ چلتا تھا مسلسل ذکر خدا کرتے تھے۔ حتیٰ جب لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتے تھے تب بھی ذکر میں مشغول رہتے تھے اور میں ہمیشہ دیکھتا تھا کہ ان کی زبان ہل رہی ہے اور لا الہ الا اللہ پڑھ رہے ہیں۔
کیا کوئی شخص ایسا ہو سکتا ہے کہ آئمہ اطہار ؑ کا پیروکار ہو اور ان کی اس طرح کی روایات کو نظر انداز کر دے۔ ہماری توجہ اور ہمارا ذکر قلبی کتنا بھی قوی ہو امام باقر اور امام صادق علیھم السلام سے زیادہ قوی تو نہیں ہو سکتا۔ جب انہوں نے ذکر لفظی کو نہیں چھوڑا تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ذکر لفظی ضروری نہیں اور صرف ذکر قلبی کافی ہے ہمیں منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہمارے آئمہ ؑنے کیا کہا ہے۔ انہوں نے کیسے اس راستے کو طے کیا ہے ہمیں اپنی رفتار کو دقیق طریقے سے ان کی علمی اور عملی سیرت کے ساتھ منظم کرنا پڑے گا۔


































