دونوں بھائی چالیس سال سے آپس میں اتفاق اور محبت سے رہ رہے تھے۔ ایک بہت بڑا زرعی فارم تھا جس میں ساتھ ساتھ دونوں کے گھر تھے۔دونوں خاندان ایک دوسرے کا خیال رکھتے، اولادوں میں بھی بہت پیار اور محبت تھی۔ایک دن دونوں بھائیوں میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور ایسا بڑھا کہ نوبت گالی گلوچ تک جا پہنچی۔
چھوٹے بھائی نے غصے میں دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھائی کھدوا کر اس میں قریبی نہر کا پانی چھوڑ دیا تا کہ ایک دوسرے کی طرف آنے جانے کا راستہ ہی نہ رہے۔
اگلے روزبڑے بھائی نے ایک مستری کو اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ سامنے والا گھر میرے بھائی کا ہے جس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے۔ اس نے میر ے اور اپنے گھر کے درمیان جانے والے راستے پر ایک گہری کھائی بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے گھر کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی دیوار بنا دوتاکہ نہ میں اس کی شکل دیکھوں اور نہ ہی اس کا گھر میری نظروں کے سامنے آئے۔اور یہ کام جلد از جلد مکمل کر کے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دوں گا۔
مزدور نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش کے مطابق ساتھ والے قصبہ سے ضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں۔
جگہ دیکھنے کے بعد مزدور بڑے بھائی کو ساتھ لے کر قریبی قصبے میں گیا اور چار پانچ کاریگروں کے علا وہ ایک بڑی پک اپ پر ضرورت کا تمام سامان لے کر آ گیا۔مزدور نے اس سے کہا کہ اب آپ آرام کریں اور یہ کام ہم پر چھوڑ دیں۔مستری اپنے مزدوروں اورکاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا۔
صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا کہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی دیوار بھی نہیں تھی۔غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں تو ایک بہترین پل بنا ہوا تھا۔
مستری کی اس حرکت پر حیران ہوتا ہوا وہ جونہی اس پل کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ پل کی دوسری طرف کھڑا ہوا اس کا چھوٹا بھائی اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑے کبھی کھائی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتے رہے۔ چھوٹے کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ میں نے با پ جیسے بڑے بھائی کا دل دکھایا۔
بڑے نے جب اپنے چھوٹے بھائی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اس کا بھی دل بھر آیا اور سوچنے لگا کہ غلطی جس کی بھی تھی مجھے یوں جذباتی ہو کر معاملہ بگاڑنا نہیں چاہیے تھا۔
دونوں اپنے اپنے دل میں شرمندہ، آنکھوں میں آنسو لئے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے۔
بڑے بھائی نے مستری کو ڈھونڈنے کے لئے اِدھر ادھر نظر دوڑائی تو دیکھا کہ وہ اپنے اوزار پکڑے جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ بڑا بھائی جلدی سے اس کے پاس پہنچا اورکہا کہ اپنی اجرت تو لیتے جاؤ۔
اس نے کہا اس پل کو بنانے کی اجرت آپ سے نہیں لوں گا بلکہ اس سے لوں گا جس کا وعدہ ہے:
جو شخص اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے لوگوں میں صلح کروائے گا، اللہ جلد ہی اسے عظیم اجر سے نوازے گا۔
یہ کہہ کراس نے اللہ حافظ کہا اور چل دیا۔
پیارے بچو! ہمیں بھی کوشش کرنی چائیے کہ اس مستری کی طرح لوگوں کے درمیان پل بنائیں نہ کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا سبب بنیں۔
دیوار
-
Ilyas - فروری 15, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 4
- 0 minute read


































