
فاطمہ نقوی،ملیرکراچی
دوستو!ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم پڑھ لکھ سکتے ہیں ہم صحت مند ہیں ہم باشعوراور عقل مند ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اللہ کاشکرادا نہیں کرتے۔ دراصل ہمیں ان سب نعمتوں کی قدر اسلئے بھی نہیں ہے کہ ہم نے کبھی ان کے بغیر کچھ وقت گزارا ہی نہیں ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی سات ارب کی آبادی میں سے ہم جیسے چند کروڑ لوگ ہی ہوں گے جن کے پاس یہ نعمتیں موجود ہیںاور ان میں بچوں کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔ اگرہمارے ملک پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو ہم جیسے لوگ اور بھی کم ہیں۔
وہ لوگ جو نعمتوں سے محروم ہیں تعدادمیں ہم سے بہت زیادہ ہیں ۔وہ ہمارے آس پاس بھی ہوتے ہیں مگر ہمیں اتنی فرصت ہی نہیں ہوتی یاہماری توجہ نہیں ہوتی کہ ہم ان کے بارے کچھ سوچیں یا کچھ کریں۔
ہم نے سنا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرنے سے نعمتیں بڑھ جاتی ہیں لہٰذا مزید نعمتوں کے حصول کے لیے ہمیں اللہ کا شکر ضرور ادا کرنا چاہئے اور ساتھ ساتھ مزید کے حصول کے لیے کوشش بھی جاری رکھنی چاہئے۔ اگر ہم اپنے اردگرد ہی نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سے ایسے لوگ نظر آجاتے ہیں جن کے پاس وہ تمام سہولتیں حاصل نہیں ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔
ہم پڑھ لکھ سکتے ہیں مگر وہ پڑھ لکھ نہیں سکتے ، ہم اچھے ا سکولوں کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر بہت سے بچے صرف اس لئے اس نعمت سے محروم ہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ کیاہم ایک غریب بچے کو جس کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے وسائل نہیں ہیںا ±سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کچھ وسائل فراہم نہیں کر سکتے؟؟؟ایسے بچوں کو کسی کم فیس والے اسکول میں بھی داخلہ دلوایا جا سکتا ہے یا انہیں کتابیں خرید کر دی جا سکتی ہیں یا کسی اور طریقے سے ا ±سے تعلیم کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح ہم اپنے علاج کے لیے مہنگے سے مہنگے اور بڑے بڑے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور پھر مہنگی سے مہنگی دوائی خریدتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف ہمارے گھر کے ہی آس پاس، ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے پاس مہنگی دوائی تو دورکی با ت ہے سستی دوائی بھی خریدنے کے لیے وسائل نہیں ہوتے۔ صحت کے حوالے سے بھی ہمیں اللہ کا بے حد شکر گزار ہونا چاہیے تاکہ ہمیں صحت کی مزید نعتیں ملتی رہیں۔
لیکن کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم ڈاکٹر کے پاس کسی ایسے بیمار کو بھی لے جائیں خصوصاََ کسی مستحق بچے کو جس کے بارے میں ہمیںعلم ہے کہ اس کے وسائل کم ہیں اور ہم وہاں ا ±س کی جگہ ا ±سکی فیس ادا کر دیں یاپھر کسی سرکاری ہسپتال میں ہی ا ±سکے علاج کرانے میں ا ±س کی مدد کرسکیں۔
دوستو!اکثر بچوں کاماہ رمضان تو صرف اس فکر میں ہی گزر جاتا ہے کہ وہ عید پر کیاپہنیں گے۔ اگرہم نے اپنے لیے عید کی خریداری کی ہے اوراگرہمارے پاس وسائل ہے توکیا ہمیںکسی ضرورت مند بچے کے لیے خریداری کرکے ا ±سے عید کا تحفہ نہیں دیناچاہیئے؟
پیارے بچو!رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جہاںہمیں بھوک پیاس برداشت کرنے کا سبق دیتا ہے وہاں مل بانٹ کر کھانے اوردوسروں کی تکالیف کا احساس کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔ کسی کی تکلیف اگر اس طرح دو ر کر دی جائے کہ وہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو جائے تو بھلا اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔
یہ مبارک مہینہ تو ہے ہی نیکیاں کمانے کا کہ اس میں ایک نیکی کا اجر 70 گنا ہو جاتا ہے۔ اس لیے دیگر نیکیوں کے ساتھ ساتھ ان نیکیوں پر بھی توجہ دی جائے جن پر عام لوگ توجہ نہیں دیتے ۔
| ReplyReply allForward |


































