آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
اکثر لوگ دنیوی اور حسی لذتوں کی طرف میلان رکھتے ہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ انسان کیا کرے تاکہ تکامل و ترقی کی راہ پر گامزن ہو، اپنے اندر مادی رجحان اور حیوانی لذتوں کو پاکر ان سے چشم پوشی کرکے حق کے راستے کی طرف قدم بڑھائے؟ جواب میں کہنا چاہیے کہ لذت خواہی انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ انسان کے انجام دیئے جانے والے کاموں میں محرک وہ لذت ہے جو اسے حاصل ہوتی ہے۔ ہم وہ کام انجام دیتے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں اور جس کام کو پسند نہیں کرتے، اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ باطل او رگناہ میں بھی اپنے لئے ایک لذت پاتے ہیں لیکن ان سے چشم پوشی اور اجتناب کا راستہ یہ ہے کہ گناہ کے نتائج، انجام اور گناہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں فکر کریں یا نیک کام کی لذتوں کے بارے میں فکر کریں۔ اگرچہ نیک کام اور حق کی سختیوں کو برداشت کرنا دشوار ہے، لیکن اگر ہم ان کی جزا اور خوش کرنے والے انجام کو مد نظر رکھیں تو ہمارے لئے وہ ساری مشکلات آسان ہو جائیں گی۔ حقیقت میں لوگ سخت اور دشوار دنیوی کام انجام دینے کے بارے میں یوں موازنہ کرتے ہیں:
جو مزدور صبح سویرے ایک محرک کی بنا پر ایک سخت کام شروع کرتا ہے اور شام تک کام کرتا رہتا ہے اور پسینہ پسینہ ہو جاتا ہے، وہ برداشت کی گئی تمام سختیوں سے لذت کا احساس کرتا ہے ، کیونکہ وہ اپنے کام کے نتیجہ پر نظر رکھتا ہے ۔ نانوائی جو کبھی 50درجہ حرات گرمی میں روٹی پکاتا ہے ، تمام مشکلات کو برداشت کرتاہے، کیونکہ اجرت لیتا ہے اور اس سے اپنی زندگی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ وہ جب اپنے کام کے نتیجے پر غور و فکر کرتا ہے اور یہ کہ اس اجرت سے اپنی زندگی کی بعض مشکلات کو دور کرتا ہے، یہ امر باعث بنتا ہے کہ وہ زندگی سے لذت محسوس کرے، کام کی زحمت اور محنت اس کے لئے آسان ہو جاتی ہے۔ حقیقت میں ان مشکلات کو برداشت کرنا عقلمندی ہے اور سب لوگ ایسے ہی ہیں کہ جب سختیوں کا لذتوں سے موازنہ کرتے ہیں ، تو ایسے کام کو انجام دیتے ہیں جس میں زیادہ لذت ولا ہو۔ اگر وہ اپنے کام میں زیادہ اجرت اور نفع کمائیں تو بالآخر زیادہ لذت پاتے ہیں ۔ حقیقت میں جو اجر و پاداش براہ راست اپنے کام سے حاصل کرتے ہیں، اس میں کوئی لذت نہیں ہوتی ہے ، بلکہ وہ لذت پانے کے لئے ایک وسیلہ ہوتا ہے ، انسان پیسے کے ذریعہ اپنی زندگی کے لئے گھر اور ضروری اشیاءکا تہیہ کرتا ہے او ران سے لذت پاتا ہے۔ پس عقلمند انسان کام کی سختی کو برداشت کرتا ہے تاکہ سر انجام کام کی سختی سے بہتر لذت حاصل کرے۔
عقلمند انسان نشہ آور چیزوں کے استعمال اور عارضی لذت سے پرہیز کرتا ہے کیونکہ وہ ان کے نتائج کے بارے میں سوچتا ہے، وہ جانتا ہے کہ چند لمحوں کے لئے لذت پاتا ہے اور لاش کی طرح مردہ ہو کر گر جاتا ہے اور عمر بھر کے لئے بدبخت ہو جاتا ہے۔ اگر ہم یقین کریں کہ گناہ جس قدر بھی شیریں اور لذت بخش ہو اس کا انجام کتنا برا ہے۔ اگر دنیا میں ہم اس کے برے انجام سے دو چار نہ بھی ہوں مگر آخرت کی مصیبت میں گرفتار ضرور ہوں گے تو جس دلیل سے وہ نشہ آور چیزوں سے پرہیز کرتا ہیں اسی دلیل کی بنیاد پر گناہ کی لذتوں کو بھی نظر انداز کریں تاکہ عذاب ابدی میں مبتلا نہ ہوں اس سلسلہ میں آنحضرت فرماتے ہیں :
” چند لمحوں کی لذتیں جن کا انجام طولانی مشکلات اور مصائب ہیں۔“ ہمارے زمانے میں ان کے فراوان نمونے پائے جاتے ہیں ۔ گزشتہ زمانے میں صرف شراب تھی جو انسان کو چند لمحوں کے لئے مست و مدہوش کرتی تھی اور اس کے بعد اس کے برے اثرات رونما ہوتے تھے، لیکن آج نشہ آور چیزکی لذت بیان کرکے اسے استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ پہلی بار انسان کو دھوکہ دیتا ہے اور ہیروئن جیسی نشہ آور چیز کی لذت بیان کرکے اسے استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ پہلی بار انسان لذت کا احساس کرتا ہے دوبارہ اسے استعمال کرتا ہے اور سر انجام اس کا عادی بن جاتا ہے اور عمر بھر کے لئے بدبخت ہوتا ہے۔ دوسرے گناہ بھی اس طرح کے ہیں ۔ اگر ہم فکر کریں کہ جن گناہوں کے ہم مرتکب ہونا چاہتے ہیں ان کا کتنا برا انجام ہے، تو ہم ان سے پرہیز کریں گے۔ بہت سے گناہ ایسے ہیں جو آخرت کے علاوہ انسان کو دنیا میںہی مشکلات سے دو چار کر دیتے ہیں ۔ کبھی نامحرم پر ایک نظر ڈالناانسان کو عمر بھر کے لئے بدبخت بنا دیتا ہے اور اس کے سبب سے ایک خاندان ویران ہو جاتا ہے، یہ اس گناہ کا دنیاوی انجام ہے، اخروی گرفتاریاں اپنی جگہ پر ہیں:
”پھر خدا نے انہیں حیات دنیا میں ذلت کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہرحال بہت بڑا ہے اگر انہیں معلوم ہو سکے۔“ (سورہ زمر،26)
پس ہم گناہ کی لذت کو اس کے انجام سے موازنہ کرتے ہوئے یہ کوشش کریں کہ گناہ میں آلودہ نہ ہوں، خاص کر جب تک گناہ کا جذبہ ہم میں اثر نہ کرے اور ہم گناہ کی سرحد تک نہ پہنچیں ،گناہ سے پرہیز کرنا آسان ہے ، چونکہ گناہ کے جذبے نے ہم پر اثر کیا اور ہم گناہ کی سرحد تک پہنچ گئے، تو بہت مشکل ہے کہ ہم اس کو انجام دینے سے پرہیز کریں ۔ ایک بزرگ شخص خدا ان پر رحمت نازل کرے کہتے تھے: اے جوانو! خدا سے دعا کرو کہ تمہاری شہوت کی دیگ ابلنے نہ پائے، کیونکہ اس صورت میں اسے خاموش کرنا مشکل ہے، جب تک انسان شہوت یا غضب کا اسیر نہیں ہے، آرام میں ہے اور فکر کر سکتا ہے اور فیصلہ کرکے محاسبہ کرسکتا ہے اور اس کی شہوت مشتعل ہونے تک گناہ سے اجتناب کرسکتا ہے لیکن اگر پہلے سے یہ فیصلہ نہ کرے اور فکر نہ کرے تو شہوت اور غضب کے مشتعل ہونے پر فکر کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے کیونکہ شہوت کے مشتعل ہونے سے عقل کا چراغ بجھ جاتا ہے۔
شیطان انسان کو منحرف کرنے کے لئے شہوت اور غضب کے علاوہ دوسری طاقتیں بھی رکھتا ہے کہ من جملہ ان کے اجتماعی عوامل میں سے ایک یہ ہے کہ ، سماج میں ہر شخص دوسروں کے جیسا ہونا چاہتا ہے ۔ یہ ایک روحانی اور نفسیاتی عامل ہے جو کہ انسان کے بچپنے میں پیدا ہوتا ہے ۔ البتہ اس عامل کے بھی دوسرے عوامل کی طرح مثبت و منفی آثار ہیں، درحقیقت خیر و شر کی سرحد کو پہچاننا چاہیے اور اس عامل سے صحیح حد تک استفادہ کرنا چاہیے تاکہ انسان اندھی تقلید نہ کرے۔
دوسروں کے ساتھ ہم رنگ ہونا، بہت سے مواقع پر انسان کی نجات کا سبب بنتا ہے، کتنے ہی زیادہ جوانوں نے اچھے دوستوں سے مصاحبت کی وجہ سے مسجد کی طرف رخ کیا ہے اور کتنے ہی جوان اس عامل کی وجہ سے محاذ جنگ کا رخ کرچکے ہیں۔ وہ ابتداءمیں محاذ جنگ پر جانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے دوست اور محلے کے نوجوان محاذ جنگ پر جارہے ہیں، ان میں بھی محاذ جنگ میں جانے کی رغبت پیدا ہوگئی۔ یہ اس عامل کے اچھے اثرات ہیں، اس کے برعکس جس ماحول کو فساد نے آلودہ بنایا ہو، وہاں پر یہی عامل فساد کی طرف میلان میں اضافے کا سبب بنتا ہے ، خاص کرنوجوانوں میں کیونکہ نوجوان اپنے آس پاس کے ماحول سے فوراً متاثر ہوتے ہیں اور ماحول پر حاوی فساد اور برائی کے مقابلے میں کوئی خاص استقامت نہیں دکھا سکتے ہیں لیکن سن رسیدہ لوگوں میں دوسروں سے متاثر ہونے کا عامل ضعیف تر ہوتا ہے۔
معاشرے کی اکثریت یا برتر افراد یا ترقی یافتہ دنیا کی ملتوی کا نمونہ نوجوان ہیں۔ جب لوگوں کی اکثریت میں کسی قسم کا میلان موجود ہو، تو نمونوں کی تقلید کرنے والا انسان اپنے آپ سے کہتا ہے: عام لوگ عقل رکھتے ہیں، پاگل تو نہیں ہیں ، اس لئے ان کا کام صحیح ہے، اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض افراد اس عامل سے متاثر ہو کر فساد اور برائیوں میں پھنس جاتے ہیں، خصوصاً اگر معاشرے کی اکثریت فاسد ہو۔
| ReplyReply allForward |


































