دلشاد علی دانش
امام حسین ؑ وہ باعظمت و باوقار شخصیت ہیں کہ جنہوں نے عاشورہ میں اپنی قربانیوں کا نذرانہ خدائے واحد کے سامنے پیش کیا اور دنیا والوں کو باور کروایا کہ خدا واحد ویکتا ذات ہے۔ خدا ہی وحدت کا عظیم مرکز و محور ہے۔ حضرت امام حسین ؑ نے جو عاشورہ کے دن قربانیاں دیں ان میں عجیب وغریب وحدت کا موجیں مارتا ہوا دریا نظر آتا ہے کہ جنہوں نے رہتی دنیا تک کے لئے مثال پیش کی کہ اس دریا کی موجیں نظریاتی طور پر کتنی متحد و موجدہیں۔
کربلا میں بڑا تو بڑا مگر بچہ بھی اتحاد و اتفاق کا ثبوت دے رہا ہے۔ جہاں کربلا میں کئی پہلو روشناس ہوتے ہیں وہاں پر اتحاد کا پہلو بھی اظہر من الشمس نظر آتا ہے کہ دنیا والے حسین ؑ اور حسین ؑ کے اعوان و انصار سے اتحاد کا درس لیں اس معرکہ میں بڑے تو بڑے مگر بچے بھی وحدت کا نمونہ بن گئے۔ یہ لفاظی نہیں کہ جس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہ ہو بلکہ یہ وہ حقیقت ہے کہ جس کو تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ کر رکھا ہے۔
اور اس حقیقت کا ثبوت تاریخ نے ننھے علی اصغر ؑ کی قربانی سے لیا جو اس معرکہ میں سب سے چھوٹا ہے مگر سپاہی نظر آتا ہے، یہی ننھا سپاہی ہے کہ جس نے گمراہی کے دروازے بند کردیے اور دنیا والوں کو بتایا کہ حسین ؑ کی طرف سے قربان ہونے والا یہ علی اصغر ؑ حق و حقانیت کا ثبوت ہے اور آنے والے تعصب پسند لوگوں کے افکار و قلم پر مہر ثبت کردیا۔ ان لوگوں کی اس فکر کو تاقیامت تالا لگاکر بتا دیا کہ خبردا رکوئی سوچنے والا یہ نہ سوچے کہ حسین ؑ کی جنگ اقتدار و سلطنت کے حصول کے لئے تھی یا حسین ؑ کی جنگ سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے تھی ، نہیں نہیں۔۔۔بلکہ حسین ؑنے خدائے واحد کے دین کو بچانے اور امت رسول کو اصلاح اور وحدت کا درس دینے کے لئے جنگ کی تھی۔
حسین ؑ نے اس معرکہ عظیم میں امت رسول کو جذبہ وحدت کا درس دیا کہ رسول اکرم کی امت کو وحدت کی ضرورت ہے۔ اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ حسین ؑ آج اتحاد و اتفاق کے علمبردار و پیامبر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ آج سب حسین ؑ کے نام سے متحد نظر آتے ہیں۔
اس حقیقت سے کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی فکر انکار نہیں کر سکتی کہ ”حسین ؑ مرکز وحدت “ ہے اسی وحدت کے جذبہ کو محسوس کرتے ہوئے عظیم الشان فکر کے مالک شاعر مشرق حکیم امت کہتے ہیں۔
بیان اگر سرشہادت کی تفسیر ہو جائے
مسلمانوں کا کعبہ روضہ شبیر ہو جائے
یعنی کہتے ہیں کہ اگر حسین ؑ کی شہادت کا فلسفہ بیان کیا جائے جو وحدت کا بے پناہ راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے تو آج کے مسلمان روضہ حسین ؑ کو اپنا مرکز بناتے۔
اور دیکھئے کتنی خوبصورت فکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خواجہ معین الدین چشتی ؒ فرماتے ہیں۔
حقا کہ بنائے لاالہ است حسینؑ
آج مسلمان لاالہ کی وجہ سے متحد ہیں تو اس کی بھی بنا حسین ؑ سے ہے یہ حقیقت ہے کہ حسین ؑ ہی کی وجہ سے لاالہ باقی ہے۔
یہی تو سبب ہے کہ ”حسین ؑ مرکز وحدت“ ہے کہنے والے کو کہنا پڑا
کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسین ؑ
چرخ نوعِ بشر کے تارے ہیں حسین ؑ
انسان کو بیدار تو ہولینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؑ
اسی حسین ؑ کی بدولت جو اتحاد کا بڑا پلیٹ فارم عزاداری کے نام سے ہمیں ملا ہے بڑی نعمت ہے۔ ہم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس عزاداری کی حفاظت کریں، اس عزاداری کا دورانیہ جو پہلی محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے اور ۸ربیع الاول تک ایام عزاء کے نام سے چلتا ہے اس کا مقصد یہ نہیں کہ حسین ؑ اور مقصد حسین ؑ محدود ہے ان دو ماہ اور۸دن تک بلکہ مشہور قول ہے کہ” کل یومٍ عاشورہ کل ارضٍ کربلا “یعنی ہر روز روزِ عاشورہ اور ہر زمین زمینِ کربلا ہے۔ یعنی ہر وقت اور ہر جگہ ہمہ تن ہو کر مقصد حسین ؑکو ترجیح دینی چاہیے۔ یعنی اتحاد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے متحد رہنے کی کوشش کریں اور ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ مقصد حسین ؑ کو پامال کرنے میں ہم خود شامل ہو جائیں ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اس کو صحیح طور پر ادا کررہے ہیں یا نہیں، عزاداری جو ذریعہ ہدایت و اتحاد ہے ہم اس کی حفاظت کررہے ہیں کہ نہیں اور اسی عزاداری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صحیح و سالم افکار کی ترویج کررہے ہیں یا نہیں۔
دنیا آج تک حیران و پریشان ہے کہ ہم نے امت مسلمہ کو مختلف گروہوں اور مختلف فرقوں میں بانٹ دیا ہے یا سیاسی حوالے سے ان کو بانٹ دیا مگر عجیب اتفاق ہے اور حیرانگی اور پریشانی کی بات ہے کہ ہم نے اتنی محنت اور جفاکشی کے ساتھ اس امت مسلمہ کو فرقوں اور سیاسی گروہوں میں بانٹ دیا مگر حسین ؑ کے پیغام میں عجیب مقناطیسی قوت ہے کہ محرم کا چاند طلوع ہوا نہیں لوگوں نے اپنے ذاتی اختلافات بھلا دیئے سیاسی اختلافات بھلا دیئے مذہبی اختلافات بھلا دیئے اور اس فکر کے ساتھ کہ ایام حسین ؑ آگئے ہیں حسین ؑکو پرسہ دینا ہے ایک جگہ اکٹھے ہو کر پرسہ دیں عزاداری کے نام سے جو ہمارا پلیٹ فارم موجو دہے وہاں جمع ہو کر سب حسین ؑ کو پرسہ دینے آتے ہیں۔
اب اس عزاداری کے پلیٹ فارم میں ہندو بھی موجود، عیسائی بھی موجود، غیر مسلم بھی موجود ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا ہر شخص موجود اور ہر سیاسی تحریک سے تعلق رکھنے والا شخص بھی موجود ہے اب کسی کو بھی اپنی انفرادی حیثیت کا احساس نہیں۔ عزاداری کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر سب اپنے آپ کو حسینی کہلوارہے ہیں۔ اس بناء پر کہ حسین ؑاتحاد واتفاق کے مرکزو محور ہیں کیونکہ آج جو عزاداری کے پلیٹ فام پر متحد نظر آرہے ہیں صرف حضرت حسین ؑ کی وجہ سے یہی تو امام حسین ؑ کا مقصد اور فکر تھی کہ پوری امت متحد ہو جائے اور اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس فکر حسینی ؑکو تقویت پہنچائیں اس فکر کو عزاداری کے ذریعے عام کریں اسی فکر کو منبروں سے عام کریں عزاداری ہی وہ عظیم پلیٹ فارم ہے جہاں سے فکر حسینی ؑکو آسانی کے ساتھ عام کیا جا سکتا ہے۔
مگر میں ایک جانب اشارہ کرکے آپ کے اذہان کو متوجہ کررہا ہوں کہ آج ہمیں اسی عزاداری کے ذریعے جدا اور الگ کیا جارہا ہے۔ صرف ہماری عدم توجہی کی وجہ سے کیونکہ ہم دیکھتے نہیں کہ حسین ؑ کے نام سے منبر پر آنے والا حسینیوں کو کس طرح الگ الگ کرنے والی فکر کو عام کررہا ہے۔ ہم یہ نہیں دیکھ رہے کہ کون سا خطیب ہے جو منبر کا سہارا لے کر منبر سے سوءاستفادہ کررہا ہے اور ہمارے سیدھے سادھے عقیدت میں ڈوبے عزادار، مولا علی ؑ کی
محبت کے نشہ میں اتنے مسرور ہیں کہ انہیں اس چیز کا احساس ہی نہیں ہورہا کہ منبر کے ذریعے علی ؑ علی ؑ کے نعروں کے ذریعے انہیں الگ الگ گروہوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔
کیونکہ اس حقیقت کا اعتراف ”برطانیہ کے وزیراعظم گلیڈ اسٹون نے بھی کیا کہ اس قوم کو عزاداری ہی کے ذریعے الگ کیا جاسکتا ہے“ (حوالہ: اساس عزاداری )۔ عزادار ذکر علیؑ میں اتنے محو ہیں کہ انہیں اس چیز کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے ساتھ کون سا کھیل کھیلا جارہا ہے۔سفید پوش منبر پر آکر ان کے اتحاد کو کس طرح پارہ پارہ کررہے ہیں۔اس منبر سے سوء استفادے کے باعث کئی علاقوں میں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ جہاں پر حسینی سب اکٹھے تھے ایک محلے میں ایک مسجد تھی، ایک امام بارگاہ تھی، اب ایک ہی محلہ میں دو مسجدیں اور دو امام بارگاہیں ہیں کیونکہ قوم نے بے حسی کا مظاہرہ کیا،وہ خوش تھے کہ منبر سے علی ؑ علی ؑ کے نعرے لگوائے جارہے ہیں، اپنے مسلک کے تو کیا دوسرے مسلک کے حضرات بھی منبر پر آکر علی ؑ علی ؑ کررہے ہیں، بس سب اسی سادگی میں ڈوبے رہے کہ دوسرے مسلک والا علی ؑ علی ؑ کررہا ہے یہ معجزہ ہے مگر اس سادی قوم کو کیا پتہ کہ اس علی ؑ علی ؑ کے نعرے سے سوءاستفادہ کیا جا رہا ہے۔ان حالات کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ان حسینیوں کو کیا ہوگیا ہے اور ہم کہاں جارہے ہیں، کل تک تو یہ اتحاد بین المسلمین کا نعرہ لگاتے رہے مگر آج قوم بکھری ہوئی نظر آتی ہے،کیوں صرف اس وجہ سے کہ ہم نے یہ نہ دیکھا کہ دینے والا منبر سے ہمیں کیا دے رہا ہے ہمارے بزرگ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ تقریباً تین دہائی پہلے سنی برادران اور شیعہ حضرات ساتھ ساتھ جلسہ وغیرہ منعقد کرتے تھے مگر اسی غلط فکر ملنے کی وجہ سے آج الگ ہوگئے تبھی تو سرکار خمینی ؒ نے فرمایا تھا کہ ”سنی شیعہ کو آپس میں لڑانے والا استعمار کا ایجنٹ ہے۔“اور”سنی اور شیعہ اسلام کے دو طاقتور بازو ہیں۔“
مگر آج ان بازوو ¿ں کو کس نے الگ کروا دیا، انہی استعماری ایجنٹوں نے۔ مگر الحمدللہ ابھی حالت اتنی خراب نہیں ہوئی، اگر ہم نے اپنے آپ کو نہ سنبھالا تو ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے۔ ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔دشمن نے سنی شیعہ تفرقہ کا حربہ شیعوں کے لئے بھی اختیار کیا کہ حساس موضوعات پر منبروں سے گفتگو کرکے ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے نفرت پیدا کریں۔
افسوس صد افسوس سادہ لوح لوگوں کو کیا پتہ کہ اس خطیب کی ان باتوں سے انتشار کی بو آرہی ہے ، یہی لوگ ہیں جو استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ ہم خوش ہوتے ہیں کہ خطیب فضائل اہلبیت ؑ پڑھ رہا ہے۔ کہہ رہا ہے کہ نماز میں علی ولی اللہ پڑھو علی ؑافصل ہیں نماز سے، نماز کی عزاداری کے سامنے کوئی حیثیت نہیں، سب لوگ خطیب کے ان جملوں پر جھوم جھوم کر نعرے بھی لگا رہے ہیں مزے بھی لے رہے ہیں مگر ان کو یہ نہیں معلوم کہ اس خطیب کا ان نعروں کے پیچھے بڑا استعماری مقصد ہے۔
کسی ذمہ دار خطیب کا کہنا ہے کہ جنگ صفین میں باغیوں نے نیزوں پر قرآن اٹھا کر نعرہ لگایا کہ” لاحکم الا للہ“ کسی کا حکم نہیں مانیں گے سوائے اللہ کے، یہاں پر مولا علی ؑ کے اپنے ساتھیوں نے ساتھ چھوڑ دیا اور کہا کہ ہم قرآن کی بات مانیں گے، مولا علی ؑ نے کہا کہ اگر یہی بات ہے تو قرآن ناطق میں ہوں میں اسی قرآن کی تفسیر ہوں جو میں کہتاہوں وہ کرو، یہ عمل ان باغیوں کی سازش ہے، کیا میں تم پر خدا کی طرف سے حجت نہیں ہوں ،مگر وہ نہ مانے اور آخر کار جنگ روکنا پڑی۔ باغیوں کا نعرہ لاحکم الا اللہ تو صحیح تھا مگر ان کی نیت خراب تھی ان کے ارادے خراب تھے۔
تو بالکل یہی حالت ان استعماری ایجنٹوں کی ہے کہ باتیں تو اچھی کرتے ہیں جو فضائل اہلبیت ؑ پر مشتمل ہوتی ہیں مگر ان کے ارادے اور ان کی نیتیں خراب ہیں۔ اگر ان کے ارادے اور نیتیں خراب نہ ہوتیں تو ان کی تقریر کے دوران ان کے چیلے ہمارے بزرگ علماء پر لعن طعن کے نعرے نہ لگاتے راقم نے کئی مرتبہ یہ مناظر خود دیکھے ہیں، میں سوچتا ہوں کہ اس وقت ہماری غیرت کو کیا ہو جاتا ہے کہ جن کے پیچھے ہم نمازیں پڑھتے ہیں ، جن مجتہدین کی تقلید کرتے ہیں، انہی کے خلاف مجلسوں میں مغلظات سن کر چپ کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔
یہ استعماری ایجنٹ علماء اور مجتہدین کی مخالفت کرتے ہیں اورہم سے کہتے ہیں کہ جو میں تمہیں کہہ رہا ہوں اس کو مانوکیا ہم ان کو چھوڑ دیں جنہوں نے اسلام کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کیا ہم ان کو چھوڑ دیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنی داڑھیاں نوچوائی ہیں، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔علماء کے خلاف لوگوں کو اکسایا جارہا ہے کہ ان سے دوری اختیار کرو ان سے نفر ت کرو تاکہ ان استعماری ایجنٹوں کے لئے امت کو گمراہ کرنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
پس خدا کے لئے بیدار ہو جائیے اس غفلت کی نیند سے،میری تمام بانیان مجالس اور عزاداران سے گزارش ہے کہ ایسے خطیبوں سے گریز کریں جو حسین ؑ کے نام سے منبر پر آکر مقصد حسین ؑکو حیات دینے کے بجائے موت دینے کی کوشش کررہے ہیں،ہمیںیہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حسین ؑ کے مقصد کو نقصان پہچانے والا یزیدی ہے اور مقصد حسینؑ کو زندہ کرنے والا سیرت ثانی زہرا(س) پر عمل کرتے ہوئے حسینی ہے۔
یزید مٹ گیا مگر حسینؑ مرکز وحدت بن کر آج بھی زندہ ہے اور تاقیامت زندہ رہے گا۔


































