
صدارتی الیکشن کا ٹرن آوٹ 78.6فیصد رہا، بشار الاسد کو 95فیصد ووٹ ملے،کامیابی پر عوام قومی پرچم اور بشار الاسد کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے
ملت شام نے دہشت گردی اور وطن کے دشمنوں کے خلاف حقیقی انقلاب برپا کیا ،، دشمنوں تک انتخابات کا پیغام پہنچ گیا ہے، شامی صدر کا قوم سے خطاب
دمشق(نیوز ڈیسک) شام کے صدر بشار الاسد نے بھاری اکثریت سے چوتھی بار صدر منتخب ہوکر امریکا ،سعودی عرب،عرب امارات ،اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو مایوس کردیا، صدارتی انتخابات میں عوام نے بڑے پیمانے پر نہایت پر جوش انداز میں حصہ لیا، صدر بشار اسد اور ان کی اہلیہ نے دمشق کے مضافاتی شہر دوما میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا، پولنگ اسٹیشنوں پر لوگوں کی بھیڑ کے پیش نظر ووٹنگ کے وقت میں کئی بار توسیع کی گئی اور یہ سلسلہ رات بارہ بجے تک جاری رہا،جبکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں شام کے سفارت خانوں میں ووٹنگ ہوئی،الیکشن میں بشار اسد ، سوشلسٹ یونین پارٹی کے رکن عبداللہ سلوم عبداللہ اور حکومت مخالف رہنما محمود احمد مرعی کے مابین مقابلہ ہوا، الیکشن میں ایک کروڑ 80لاکھ رجسٹرڈ ووٹر ز میں سے 78.6فیصد یعنی ایک کروڑ 35لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا،بشار الاسد کو 95فیصد ووٹ پڑے،انہیں 2014میں 89فیصد ووٹ پڑے تھے، بشار الاسد کے مخالفین کہتے ہیں اتنے ووٹ پڑنا ممکن نہیں کیونکہ کرد علاقوں سمیت کئی علاقے مخالفین کے کنٹرول میں ہیں، بشار اسد زبردست فتح کے بعد عوام نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا، دمشق اور دوسرے شہروں میں عوام قومی پرچم اور بشار الاسد کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے اور بھرپور جشن منایا ،شہریوں نے آتش بازی کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا، ایران ،چین ،روس ،ونیزویلا سمیت مختلف ممالک نے بشار الاسد کو چوتھی بار صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ، شام کے صدر بشاراسد نے کہا ہے کہ عوام نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر شرکت کرکے دشمنوں کی سازشوں کا ناکام بنا دیا، انتخابات میں کامیابی کے بعد ٹی وی پر قوم سے خطاب میں بشار الاسد نے کہا کہ ملت شام نے انتخابات میں دہشت گردی اور وطن کے دشمنوں کے خلاف حقیقی انقلاب برپا کیا ہے، دشمنوں تک انتخابات کا پیغام پہنچ گیا تاہم دشمن پیغام کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہا ہے،عوام نے تمام معیارات اور کھیل کے اصول تبدیل کر دیئے اور وطن دوستی کا نیا مفہوم رقم کیا


































