Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

انسان اور اس کی حق و باطل کی طرف دو اندرونی کشش

آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
انسان میں مختلف جہتوں سے دو طرح کی کشش موجود ہے، ایسا موقع فراہم ہونا چاہیے تاکہ معلوم ہو جائے کہ انسان حق و باطل کے درمیان ان دو کششوں کے تضاد اور مقابلے میںسے کس کی طرف زیادہ تمائل رکھتا ہے ۔ کبھی وہ جس حق کے کام کو انجام دیتا ہے وہ اس کی مرضی اور خواہش سے متضاد اور مخالف نہیں ہوتا ہے۔ اس صورت میں اس کا انجام مشکل نہیں ہے۔ مشکل وہاں ہے جب د و کششوں کے درمیان تعارض اور تضاد پیدا ہو جائے، خدائے متعال جس کا حکم دے شیطان اُس چیزکے خلاف مائل کرے ، نفس ایک چیز کو چاہتا ہو اور خدا دوسری چیز کو۔یہاں پر انسان امتحان و آزمائش سے روبرو ہوتا ہے اور کام کی قدرو منزلت مشخص ہوتی ہے۔ اس صورت میں انسان نفسانی خواہشات سے مقابلہ کرکے اس کی مخالفت کرے ، اس کا ثواب زیادہ ہے اور نفسانی خواہشات سے اس کی وہ مخا لف اس کے معنوی تکامل و ترقی میں نمایاں اثر رکھتی ہے۔
جو جوان جبلی جذبات و تمایلات کے باوجود اس گناہ سے پرہیز کرتا ہے، اس کی قدرو منزلت اس بزرگ سے زیادہ ہے جو اس گناہ کو ترک کرتا ہے۔ اس بزرگ کے لئے اس گناہ کو ترک کرنا مشکل نہیں ہے کیونکہ وہ اس گناہ سے زیادہ تمایل نہیں رکھتا ہے۔ اس صورت میں اس جوان کا ثواب زیادہ ہے، اس کے مقابلے میں اگر وہ بزرگ اس گناہ کا مرتکب ہو جائے ، تو اس کا گناہ بہت زیادہ ہے کیونکہ وہ کسی دباﺅ میں نہیں تھا اور اس گناہ کے بارے میں زیادہ تمایل بھی نہیں رکھتا تھا (بہت برا ہے ایک بزرگ مرتکب زنا ہو جائے) اگر خدانخواستہ ایک جوان زنا جیسے کسی گناہ کے خطرہ میں پڑنے کے باوجود اپنی جبلی خواہشات پر قابو پاسکے تو وہ عروج پر پہنچتا ہے اور اس گناہ سے پرہیز کرنا اس کے کمال میں اضافہ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ فراوان اندرونی تلاش اور خدا سے شدید لگاﺅ اور بلند ایمان کی بنا پر گناہ سے پرہیز کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ پس فطری بات ہے کہ اس دنیا میں گناہ شیرین ہو اور حق تلخ ، تاکہ انسان کا امتحان لیا جائے اور نتیجہ کے طور پر مشخص ہو جائے کہ کون خدائے متعال کو ترجیح دیتا ہے اور کون اپنی نفسانی خواہشات کا انتخاب کرتا ہے اور کون باطل کو پسند کرتا ہے ۔
البتہ انسان کی فضیلت او ربلندی اس میں ہے کہ اس کا تکامل وارتقا اختیاری ہو، وہ پورے اختیار و آزاری سے اپنی نفسانی خواہشات سے مبارزہ کرے اور اپنے اختیار اور خدا کی محبت اور اس کی خوشنودی کے لئے نیک کام انجام دے اور گناہوں سے پرہیز کرے۔
کہا گیا ہے کہ حق تلخ ہے اور باطل شیرین ، لیکن باطل کی شیرینی اور حق کی تلخی عام لوگوں کے لئے ہے، نہ سبھی کے لئے۔ عام لوگ اپنے فطری تقاضوں کے تحت اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے درپے ہوتے ہیں اور جو فرائض ان کے لئے محدودیت ایجاد کریں، وہ ان کے لئے دشوار اور سخت ہوتے ہیں ۔ اس کے مقابل باطل، ان کے لئے سہل اور آسان ہے ، کیونکہ اس کے انجام میں کسی قسم کی محدودیت اور دشواری نہیں دیکھتے۔ انسان کے لئے بہت آسان ہے کہ بیہودہ و لغوبات کرے، لیکن اگر صحیح بات کرنا چاہے تو اسے اپنے ایک ایک کلمہ پر غور و فکر کرنا ہوگا، ایسا نہ ہو کہ بے جابات منہ سے نکل جائے اور ایسا نہ ہو کہ وہ بات چغل خوری ، غیبت اور تہمت شمار ہو جائے اور ایسانہ ہو کہ اس بات کے ذریعے کسی کا مذاق اڑایا جائے کہ جس سے اس کو اذیت پہنچے وہ ہر پہلو سے فکر کرتا ہے کہ اس کی بات کے کیا آثار اور نتائج نکلیں گے لیکن اگر بکواس کرنا چاہے تو اپنا منہ کھولتا ہے اور جو چاہتا ہے کہہ ڈالتا ہے۔
یہ جو کہا جاتا ہے کہ ”پل صراط“ بال سے زیادہ باریک اور شمشیر سے زیادہ تیز ہے، وہ اس لحاظ سے ہے کہ انسان جو قدم اٹھانا چاہے اور جس راہ پر بھی چلنا چاہے ، اس کو ہوش و حواس میں رہنا چاہیے کہ یہ راستہ کہاں پر منتہی ہوتا ہے اور کونسے لوازمات کی ضرورت ہے، کیا خدائے متعال راضی ہے یا نہیں، اسے ہمیشہ اپنے ہر کام اور ہر رفتار کے سلسلے میں اپنے محرک کی فکر میں رہنا چاہیے اس بناءپر اسے اپنی زبان کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے کہ ہر بات کو نہ کہے اور اپنی آنکھوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہر جگہ نگاہ نہ کرے۔ یقینا تمام جوانب کی رعایت کرنا بہت مشکل ہے اور فرائض کی انجام دہی خون جگر پینے کے مترادف ہے ۔ اس کے مقابل اگر انسان باطل ار اپنے نفسانی خواہشات کے مطابق عمل کرنا چاہے، تو اس کے لئے بہت آسان ہے اوروہ زندگی میں خوشی اور حلاوت کا احساس کرتا ہے۔ البتہ حق کے طالب کے لئے ساری مشکلات دنیا وی ہیں اور بہشت میں اس کے لئے کسی قسم کا رنج و الم نہیں ہے۔
”اس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے اسی رہنے کی جگہ پروارد کیا ہے جہاں نہ کوئی تھکن ہمیں چھو سکتی ہے اور نہ کوئی تکلیف ہم تک پہنچ سکتی ہے۔“ (سورہ فاطر،35)
بہشت میں نہ صرف دنیا میں موجود ہ سختیوں اور مشکلات نہیں ہیں بلکہ بہشتی بھوک کا بھی احساس نہیں کرتے، جبکہ غذا کھانے کیطرف تمایل رکھتے ہیں اور اس سے کھانے کی لذت اٹھاتے ہیں ۔ انسان کی دنیاکی فطری زندگی سے رنج و مشقت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، مومن و کافر دونوں سختی و مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں :
” ہم نے انسان کو مشقت میں رہنے والا بنایا ہے۔“ (سورہ بلد،4)
یہی دنیا کی زندگی کا فر و مومن دونوں کے لئے ہے اہل حق اور اہل باطل میں فرق ہے ، اہل باطل نسبی آرام و آسائش کے مالک ہیں اور زندگی سے شیرینی کا احساس کرتے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں اہل حق کے لئے زندگی تلخ ہے ۔ البتہ ایسا نہیں ہے کہ اہل حق کے لئے پوری زندگی تلخ ہو بلکہ دنیا کی تلخی ان کے لئے نسبی ہے ، اولیائے الہٰی کے لئے بھی خاص لذتیں ہیں ۔ وہ بھی کھانے اور سونے کی لذت سے بہرہ مند ہیں ، لیکن ان کی یہ سختیاں اور مشکلات اہل باطل کی مشکلات سے زیادہ ہیں ۔
اس کے پیش نظر کہ انسان فطرت کی آغوش میں بالیدگی اور پرورش پاتا ہے، قدرتی طور پر پہلے فطری حلاوت اور خوشیاں محسوس کرتا ہے۔ دنیوی، مادی اور حسی لذتوں کاا درک کرنے کے لئے اس کا ذائقہ آمادہ تر ہوتا ہے جبکہ معنوی ذائقہ پانے میں وقت لگ جاتا ہے۔ حق کے راستے پر اختیاری سفر کرنے والے کار خیر کی عادت، زندگی کی تلخیوں کو برداشت کرنا اور مادی لذتوں سے چشم پوشی کے ذائقہ کے ذریعے آہستہ آہستہ حق کی حلاوت کا مزہ چکھتے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے:
”صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگو، نماز بہت مشکل کام ہے سواءان لوگوں کے جو خشوع و خضوع والے ہیں ۔“ (سورہ بقرہ ،45)
خدائے متعال فرماتا ہے : نماز خاشعین کے علاوہ عام لوگوں کے لئے ایک سنگین بوجھ ہے۔ بعض لوگ صبح سویرے نیند سے اٹھ کر ورزش میں مشغول ہوتے ہیں اور سخت و سنگین کام انجام دیتے ہیں، لیکن اگر وہ دو رکعت نماز پڑھنا چاہیں تو سنگینی کا احساس کرتے ہیں : نماز کے لئے نیند سے نہیں اٹھتے ہیں، لیکن ورزش کے لئے نیند سے اٹھتے ہیں ، ممکن ہے ایک گھنٹہ تک ورزش کریں، دوڑیں اور کوہ نوردی کریں ، چونکہ ان کا ذائقہ نماز کی لذت کو درک نہیں کرتا اور ورزش کی لذت اور اس کے فائدہ کو محسوس کرتا ہے ، چونکہ کہا گیا ہے کہ ورزش بدن کے لئے مفید اور نشاط بخش ہے ، اس لئے لوگ اس سے لذت کا احساس کرتے ہیں ۔ اس کے مقابل میں ان کا ایمان اتنا قوی نہیں ہے کہ خداوند متعال کی فرمائش کے مطابق پیغمبر اور آئمہ معصوم ؑ پر ایمان لاکر اعتماد کریں ۔
اہل خشوع اور خدا کو پہچاننے اور اس پر ایمان لانے والوں کے لئے صرف نماز بارگراں نہیں ، بلکہ آسان بھی ہے اور وہ اس سے لذت محسوس کرتے ہیں۔ چونکہ وہ معنوی بلوغ کو پہنچے ہوئے ہیں، اس لئے نماز میں خدا سے محبت کرتے ہیں اور نماز کی حلاوت کا اس قدر احساس کرتے ہیں کہ اس سے فارغ ہونا نہیں چاہتے ان کے لئے نماز اور خدا سے مناجات سے بالاتر ین کوئی لذت نہیں ہے ۔ اس لحاظ سے بعض بزرگ فرماتے تھے : اگر دنیا کے بادشاہوں کو معلوم ہوتا کہ نماز میں کس قدر لذت ہے تو وہ اپنی سلطنت کو چھوڑ کرنماز کے پیچھے پڑ جاتے ! انبیاءاولیائے الہٰی اور ان کے مکتب کے تربیت یافتہ افراد کے لئے حق اس قدر شیرین اور دلچسپ ہے کہ اگر اس سے عدول کریں تو احساس کرتے ہیں کہ اپنے کسی عزیز ترین شخص کو کھو دیا ہے۔ انہوں نے راہ حق اور کار خیر انجام دینے کے بارے میں اتنا انس اور وابستگی پیدا کی ہے کہ اگر کسی نیک کام کو ترک کرتے ہیں تو احساس کرتے ہیں کہ کسی ایسی چیز کو گم کردیا ہے جس کی یاد کو اپنے دل سے نکالنا ان کے لئے ناممکن ہے ۔ جو لوگ سحر خیزی کے عادی ہیں اگر وہ کسی رات کو مناجات کے لئے نہ اٹھ سکیں تو وہ پریشان رہتے ہیں ۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular