
انسانی حقوق کی منظم پامالیوں کی تحقیقات ہوگی جن سے تشدد کا سائیکل شروع ہو جاتا ہے، تنازع کی بنیادی وجوہات بھی سامنے لائی جائیں گی، قرارداد منظور
اسرائیلی حملوں میں تباہ عمارتیں فوجی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے شواہد نہیں ملے، اسرائیلی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں ، سربراہ کونسل
جنیوا(نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا، کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کے حق میں کونسل کے 47 رکن میں سے 24 نے ووٹ دیا 14 رکن نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا،جس میں بہماس، برازیل، ڈنمارک، فجی،فرانس،انڈیا، اٹلی،جاپان،نیپال،نیدرلینڈ،پولینڈ، کوریا،ٹوگو اور یوکراین شامل ہیں، جبکہ آسٹریا، بلغاریہ،کیمرون، چیک ریپبلک، جرمنی، ملاوی ، مارشل آئی لینڈ، برطانیہ اور یوروگوائے سمیت 9 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا،قرارداد او آئی سی اور فلسطینی وفد کی طرف سے پاکستان نے پیش کی ، قرارداد کے ذریعے نہ صرف حالیہ تنازع سے جڑے پامالیوں کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے بلکہ منظم پامالیوں کی بھی تحقیقات ہوگی جن کی وجہ سے تشدد کا ایک سائیکل شروع ہو جاتا ہے، تنازعے کی بنیادی وجوہات بھی سامنے لائی جائیں گی، کمیشن نے ایک آزادانہ عالمی کمیشن آف انکوائری مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول یروشلم اور اسرائیل میں قائم کرنے پر اتفاق کیا،تحقیقات کرنے والے حقائق کو سامنے لانے اور قانونی کاروائی کے لیے ثبوت اکھٹا کرنے کی کوشش کریں گے اور اس بات کو مدنظر رکھیں گے کہ ان پامالیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی ہو تاکہ ان کو کٹہرے میں لایا جائیں،قرارداد میں ممالک پر زور دیا گیا کہ رسائی کی صورت میں اسلحے کی منتقلی سے گریز کریں کیونکہ یہ اسلحہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں استعمال ہو سکتا ہے، کونسل کے سربراہ مشیل بیچلیٹ نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملے شہری آبادی اور شہری املاک پر اپنے اثر کے اعتبار سے بلا امتیاز اور غیر متناسب دکھائی دیتے ہیں،یہ حملے ‘جنگی جرائم’ کے زمرے میں آ سکتے ہیں، ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن کے مطابق اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی عمارتیں فوجی مقاصد کیلئے استعمال کی جارہی تھیں، انہوں نے حماس کی جانب سے اندھا دھن راکٹ حملوں کو بھی بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا، قرارداد کی منظوری کو صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے شرمناک قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ غزہ پر حملہ اور فلسطینی بچوں اور خواتین کا قتل عام قانونی تھا، اس سے صرف فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کا حوصلہ ملے گا ،یہ شرمناک فیصلہ انسانی حقوق کونسل کے اسرائیل مخالف جنون کی ایک اور مثال ہے ،انہوں نے دعوی کیا کہ ایک بار پھر کونسل میں غیر اخلاقی اکثریت نے ایک دہشت گرد گروہ کو نظر انداز کیا۔


































