تحریر: فدا حسین ساجدی
مقدمہ:
اگرچہ انسانوں کی خلقت کی ابتداءہی سے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت، نجات اور معاشی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے انبیاءو اوصیاءکا سلسلہ شروع کیا، لیکن لوگ ان کی اہمیت سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے ان کی پیروی کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی۔ دور معاصر میں دنیا کی مختلف جگہوں سے انسانی حقوق کے دفاع کی خاطر قدم اٹھانے والے یا اپنی اس تحریک اور نہضت میں مخلص نہیں تھے یا ان کے پاس کوئی جامع عقل اور وحی پر مبنی اصول اور قانون نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف انسانوں کے لوٹائے گئے حقوق ان کو واپس نہیں دلا سکے بلکہ ابتدائی حقوق سے محروم لوگوں کو ظاہری چمک اور دمک سے فریب دیکر سوشلیزم اور کمونیزم جیسے مکتبوں کے جال میں پھنسا دیئے۔ جس کے نتیجے میں بشریت مختلف قسم کے مصائب اور مشکلات کا شکار ہوگئی۔
لہذا انسانوں کی نجات کا واحد راستہ اسلامی اصول سے آگاہ ہو کر ان پر عمل کرنے میں پوشدہ ہے، اسی بنا پر انسانوں کی نجات کی خاطر اسلامی اصول کو دنیا والوں تک پہنچانا علماءاسلام کی ذمہ داری ہے، انہی اسلامی اصول میں سے ایک اصل انتظار ہے۔ اسلام کے دامن میں پروان چڑھنے والے کبوتروں کے پاس دو بال ہیں، جو ان کو شاندار آیندہ اور معنوی کمال کی طرف لے جائیں گے، پہلا، بال سرخ کربلا ہے اور دوسرا بال سبز انتظار ہے، لیکن وہ انتظار جو انسان کو زندگی میں با احساس، مسﺅلیت پذیر، دیندار، ظلم ستیز اور عدالت پیشہ بنائے اور انتظار کرنے والے کو عقیدے میں مضبوط، عمل میں پکا اور دینی و اسلامی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصمم بنائے۔
انتظار کی اہمیت
انتظار کے اثرات اور انتظار کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں بیان کرنے سے پہلے قارئین کی خدمت میں چند رواتیں پیش کرتے ہیں، جن سے انتظار کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔ حضور اکرم (ص) امام زمان (ع) کے ظہور کے لئے انتظار کرنے کو افضل ترین اعمال میں شمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: افضل اعمال امتی انتظارالفرج» "میری امت کا سب سے بہتر عمل ظہور اور فرج کا انتظار ہے” اور آنحضرت نے ایک اور حدیث میں انتظار کو بافضیلت ترین عبادتوں میں سے قرار دیا ہے، فرمایا: افضل العبادة انتظار الفرج» حضرت علی (ع) انتظار فرج کو خدا کے پاس سب سے زیادہ محبوب عمل سمجھتے ہیں، جیسا کہ فرماتے ہیں: خدا کی طرف سے فرج اور ظہور کے انتظار میں رہو اور خدا کی رحمت سے مایوس مت ہو جاو کیونکہ انتظار فرج خدا کے پاس محبوب ترین اعمال میں سے ہے اور جو بھی ہمارے امر پر اعتقاد رکھئے وہ قیامت کے دن حظیرہ قدس (بہشت برین میں ہمارے ساتھ ہونگے اور حقیقی معنوں میں انتظار کرنے والے اس شخص کے مانند ہیں، جو راہ خدا میں شہید ہو کر اپنے لہو میں لہو لہان ہوا ہو۔
انسان اپنی زندگی میں مختف قسم کی مشکلات سے گرفتار ہوسکتا ہے تو ان مشکلات سے تجات پانے کا بہترین راستہ انتظار فرج ہے۔ امام جواد (ع) اس حوالے فرماتے ہیں:”ہمارے شیعوں کا بہترین عمل انتظار فرج ہے، جو شخص اس مطلب کو جان کر اس پر اعتقاد رکھے تو اس انتظار کی بدولت اس کی مشکلات حل ہو جائیں گی۔” امام علی النقی (ع) کے صحابی علی ابن مہزیار کہتے ہیں، میں نے امام (ع) سے کسی خط میں فرج اور ظہور امام زمان کے حوالے سے سوال کیا تو امام (ع) نے فرمایا: "جب تمھارے امام اور رہبر ظالم اور جابر لوگوں سے مخفی ہو جائیں تو ان کے ظہور کا انتظار کرو” ائمہ معصوم (ع) کا کوئی بھی قول اور فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ لہذا اس حدیث میں امام، غیبت کے زمانے میں ہمیں انتظار کا حکم دیتے ہیں، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ظالم اور جابر حاکموں کے دور میں ہماری نجات اور کامیابی انتظار یی میں پوشیدہ ہے۔ ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادقؑ سے سوال کیا، وہ شخص جو آئمہؑ کی ولایت کا قائل ہے اور حکومت حق کا انتظار کر رہا ہے، ایسے شخص کا مرتبہ اور مقام کیا ہے۔؟ امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: "وہ اس شخص کے مانند ہے، جو امام کے ساتھ ان کے خیمے میں ہو۔”
انتظار کیا؟ (انتظار کی تعریف)
انتظار (تنظر) سے ہے، جس کا لغوی معنی کسی شئے کی امید رکھنا ہے اور منتظر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی کی آمد اور نئی و اچھی حالت پیدا کرنے کا امید وار ہو، جیسے وہ بیمار جو شفایابی کا انتظار کرتا ہے۔ یہاں سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے، وہ یہ کہ انتظار کرنے والا ہمیشہ موجودہ حالت سے ناراحت ہے اور بہتر حالت کی امید رکھتا ہے۔ اس مقالے میں انتظار سے مراد منجی عالم بشریت حضرت امام زمان (عج) کے ظہور کا انتظار ہےو جس کے لئے شیعخ روایتوں میں ایک خوبصورت تعبیر ملتی ہے، وہ ہے انتظار فرج » فرج کا معنی فتح، پیروزی، گشایش اور تنگی و غم سے نجات اور رہایی پانے کو کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام (عج) کے ظہور کے ساتھ انسان ہر قسم کی مشکلات اور غموں سے نجات پایے گا۔ جب امام رضا سے ظہور امام مہدی (عج) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے اس مطلب کی طرف اشارہ کیا کہ "مومنین کو راحت اور سکون فقط اسی وقت حاصل ہوگا، جب امام عج ظہور فرمائیں گے۔”
کلمہ انتظار اور فرج دونوں کے لغوی معنی کے پیش نظر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انتظار فرج کا مطلب امام (عج) کے ماننے والے، امام کی غیبت اور ظالم حکمرانوں کے ظلم و بربریت سے تنگ آکر ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کی موجودہ حالت سے سخت ناراحت ہیں اور امام کی آمد کی امید رکھتے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ امام کے ظہور کے بعد بنی نوع انسان پر چھائی ہوئی ظلم و جور کی تاریک گھٹائیں ختم ہوکر سعادت اور خوش بختی میں تبدیل ہو جائیں گی اور انسان امام کے سایہ میں فلاح و بہبود، خوشحالی اور ترقی کی اعلیٰ منزل پر پہنچ جائے گا۔ انتظار کا معنی روشن ہونے کے ساتھ انتظار کرنے والے کی تعریف بھی واضح ہوئی۔ ایک کلمہ میں اگر بیان کرنا چاہیئں تو واقعی انتظار کرنے والا وہ ہے، جو اسلامی اور شیعہ مذہب کے اعتقادات پر صحیح طور پر عقیدہ رکھے۔
امام مہدی (عج) کی صحیح معنوں میں معرفت حاصل کرنے کے علاوہ فرعی مسائل میں پابندی کے ساتھ اپنا وظیفہ انجام دیں، خاص طور پر انتظار کے حوالے سے جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے، اسے جامہ عمل پہنائے۔ یہاں پر اس مطلب کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ انتظار کا معنی کبھی یہ نہیں ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اس خوش فہمی میں بیٹھ جائیں کہ امام زمانہ علیہ السلام ظہور کریں گے اور معاشرے کی اصلاح کریں گے، بلکہ ہمیں بھی اپنے نفوس کو اخلاق کی برائیوں سے پاک کرنے کے ذریعے اپنی اصلاح کرنی چاہیئے، کیونکہ تمام انسانی معاشروں کی اصلاح اور پوری دنیا میں عدل و انصاف کی حکومت برپا کرنے والے کا منتظر کبھی اپنے نفس کی اصلاح سے غافل نہیں ہوتا ہے۔
انتظار کیوں (فوائد انتظار)
غیبت کے دور میں انتظار، امام کے ماننے والوں کے لئے بہت سخت اور کھٹن ہے، کیونکہ ایک طرف امام (عج) کی غیبت اور ان کی زیارت سے محروم اور دوسری طرف ظالموں کی حکومت اور جرائم پیشہ افراد کے باگ ڈور ہمارے لئے قابل برداشت نہیں، لیکن کام جتنا سخت ہو، اتنا ہی اس کا نتیجہ زیادہ اچھا ہوتا ہے اور عمل جتنا مشکل ہو، اتنا ہی اس کے لئے ثواب اور اجر زیادہ ملے گا۔ لہذا امام (عج) کے ظہور کا انتظار ان اعمال میں سے ہے، جو سخت اور مشکل ہونے کی وجہ سے روایتوں میں صحیح معنوں میں انتظار کرنے والوں کے لئے بے شمار اجر اور ثواب ذکر ہوا ہے اور منتظرین کو بلند اور پرمحتویٰ تعبیرات کی ذریعے سراہا گیا ہے۔
دگنا ثواب
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے ہر حال میں بے نیاز ہے، اس کے باوجود ان کو نعمت وجود عطائ کرنے کے علاوہ انسانوں کو کچھ تکالیف دیں، تاکہ اسی بہانے ان کو اپنی بہترین نعمتوں سے نوازے، لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اپنے بندوں پر اتنا زیادہ ہے کہ بعض اعمال کے لئے بعض حالات میں دگنا ثواب رکھا ہے۔ انہی حالات میں سے ایک حالت انتظار کا زمانہ ہے، جس میں مومنین کے ہر اچھے عمل کو دو برابر ثواب ملے گا۔ عمار ساباطی کہتے ہیں، میں نے امام صادق (ع) سے عرض کیا مولا: باطل حکومت کے دور میں آپ میں سے امام حق کے ساتھ چھپی ہوئی عبادت بہتر ہے یا دولت حق کے زمانے میں امام حاضر کے ساتھ کھلے عام عبادت کرنا بہتر ہے۔؟ امام نے جواب میں فرمایا: عمار مخفی طریقے سے صدقہ دینا کھلے عام صدقہ دینے سے بہتر ہے اور اسی طرح اللہ کی قسم امام حق پردہ غیب میں ہونے کی وجہ سے باطل حکومت کے دور میں دشمن کے خوف سے تمھارا دوسروں کی نظر سے چھپ کر عبادت کرنا امام حاضر کے ساتھ حق کی حکومت میں کھلے عام عبادت کرنے سے بہتر ہے اور کبھی بھی باطل کی حکومت میں خوف و ہراس کے ساتھ عبادت کرنا حق کی حکومت میں آرام و راحت عبادات کرنے کی مانند نہیں ہے۔
جان لو کہ تم میں سے ہر ایک اگر دشمن سے مخفی ہو کر وقت پر کامل طریقے سے ایک نماز جماعت پڑھے، خدا پچاس نماز جماعت کا ثواب تمھارے نامہ عمل میں لکھے گا اور اگر تم دشمن کے خوف سے چھپ کر فرادا ایک نماز وقت پر کامل طریقے سے پڑھوں گے تو خدا پچیس نماز فرادا کا ثواب لکھے گا اور اسی طرح ایک نماز نافلہ بروقت مکمل طور پر ادا کریں، اللہ تعالی دس نافلہ نماز کا ثواب اسے عطائ کرے گا اور تم میں سے کوئی بھی اچھا کام انجام دے، خدا بیست حسنہ اس کے نامہ اعمال میں لکھے گا اور پھر اللہ تعالیٰ مومنین کو دگنا ثواب عطائ کرے گا۔ اگر وہ لوگ اپنے نفس، امام اور دین کی حفاظت کے لئے تقیہ کے ساتھ اپنے اعمال کو نیک طریقے سے انجام دیں اور اپنی زبان کو حرام سے بچائیں تو خدا اسے دوگنا اور چوگنا اجر دے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ بی حساب کرم کا مالک ہے۔
حقیقی اور سچے شیعہ
صراط مستقیم پر ثابت قدم ہوکر ایک مقدس اور بلند ہدف کی طرف حرکت کرنا ایک ایسی سعادت ہے، جو ہر کسی کو نہیں ملتی۔ اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں محب اور پیروکار اہلبیت ہو تو وہ بتحقیق صراط مستقیم پر گامزن ہے، لیکن حقیقی معنوں میں شیعہ ہونا کوئی آسان کام نہیں، جبکہ روایات میں امام زمان (ع) کے ظ?ور کا انتظار کرنے والوں کو خود اہلبیت (ع) نے حقیقی اور سچے شیعہ سے یاد کیا ہے۔ امام زین العابدین (ع) فرماتے ہیں: وہ لوگ جو امام المنتظر (عج) کی غیبت کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں اور امام المنتظر (عج) کی امامت کے قائل بھی ہیں اور ان کے ظہور کا انتظار بھی کرتے ہیں، وہ لوگ تمام زمانوں کے لوگوں سے افضل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی یاداشت، قوت عقل، فکر و فہم اور معرفت الہیٰ عطا کی ہے، جس کی وجہ سے امام (ع) کے غائب ہونے کے باوجود ان کا امام (ع) کے بارے میں ایمان ایسا ہی ہے، جیسے وہ امام (ع) کو دیکھ رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اس زمانے میں ان مجاہدین کا درجہ عطا کرے گا، جنہوں نے رسول اکرم (ص) کے ساتھ مل کر تلوار کے ساتھ جہاد کیا ہو اور یہی وہ لوگ ہیں، جو حقیقی مخلص، ہمارے سچے شیعہ اور اللہ کے دین کی ظاہر بظاہر اور چھپ کر دعوت دینے والے ہیں۔ (بحارالانوار، ج52، ص 122)
اولیاءالہیٰ میں شامل
اولیاءاللہ وہ افراد ہیں، جو مقام تقرب میں اس منزل پر فائز ہونگے، جہان جلوہ ربوبیت ہر آن ان کی نگاہ کے سامنے رہتا ہے اور ایسے افراد اس قدر غم دنیا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں کہ انہیں نہ دنیا کا خوف ہوتا ہے اور نہ اس کے فوت ہو جانے کا رنج ہوتا ہے۔ لہذا منتظران ظہور کو ایسا مقام حاصل ہے۔ ابو بصیر نے امام صادق (ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے قرآن کی اس آیت» الانعام: 158) کی تفسیر میں فرمایا: اس دن سے مراد خمارے قائم منتظر کے ظہور کا دن ہے۔ آگے امام انتظار کرنے والوں کا مقام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہمارے قائم کے ظہور کا انتظار کرنے والے شیعوں کو خوشخبری ہو، جو ظہور کے بعد ان کے اطاعت گزار ہونگے، یہ لوگ اولیاءخدا ہیں اور اولیاءخدا پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ وہ محزون اور رنجیدہ ہوتے ہیں۔
انتظار کیسے؟ (انتظار اور ہماری ذمہ داریاں)
امام کی معرفت
انتظار کرنے والے کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں امام زمان کی معرفت حاصل کرے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف سے امام (عج) کی محبت کو اجر رسالت قرار دیا گیا ہے اور دوسری طرف امام کی ولایت کو تہ دل سے قبول کئے بغیر ہمارا دین قرآن کی نگاہ میں مکمل نہیں ہے اور یہ دو امر یعنی محبت اور ولایت پذیری امام (ع) کی شناخت اور معرفت کے بغیر ممکن نہیں۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: "اگر کوئی شخص اماموں کی معرفت کے بغیر مر جائے، درحقیقت وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔” ان کی معرفت سے مراد ان صفات اور نشانیوں کی پہجان ہے، جس کی وجہ سے اماموں کے بارے میں ہمارا عقیدہ مضبوط ہو اور ان کی پیروی کرنے سے دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی حاصل ہو۔
تزکیہ نفس
ظہور امام کا انتظار کرنے والوں کے مہم ترین وظائف میں سے ایک تزکیہ نفس اور خود سازی ہے۔ یہ موضوع اس قدر مہم ہے کہ پیغمبروں کا سب سے بڑا ہدف اور غرض انسانی نفوس کی پرورش اور پاک و پاکزہ بنانا ہے اور انسان کی فردی اور اجتماعی شخصیت کی سعادت اور دنیوی و اخروی شقاوت اسی سے وابستہ ہے۔ اسی وجہ سے انسان کا اپنے آپ کو بنانا ایک زندگی ساز اور سرنوشت ساز کام شمار ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام (ص) آئے ہیں تاکہ خود سازی اور نفس انسانی کی پرورش اور تکمیل کا راستہ بتلائیں اور نفوس انسانی کو رزائل اور برے اخلاق سے پاک اور اچھے اخلاق اور فضائل کی پرورش کریں اور ائمہ اطہار خود فضائل اخلاقی اور کمال انسانی کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز تھے اور انہوں نے انسانوں کو خود سازی کا درس دیا اور ان کو اخلاق کی شناخت اور خواہشات نفسانی پر قابو پانے میں مدد فرمائی۔ ان باتوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کی نظر میں خود سازی اور تزکیہ و تہذیب نفس کی کتنی اہمیت ہے۔
لہذا انتظار کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ روحی پاکیزگی، فضائل اخلاقی کا حصول اور اپنے نفس کو بری صفات سے پاک کرنے کی راہ میں ہمیشہ کوشاں رہیں، کیونکہ شیطان بھی ہمیشہ انسان کو راہ حق سے بھٹکانے کے درپے ہوتا ہے۔ علاوہ از ایں امام کی عادلانہ حکومت صرف ان لوگوں کے لئے قابل برداشت اور ہضم ہے، جنہوں نے اپنے آپ کو پاک دل، پاک صفت، پاک کردار اور پاک ضمیر بنایا ہو، ورنہ جس طرح امیرالمومنین کے دور میں لوگوں کے نفوس پاک نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی عادلانہ حکومت کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا ہوا، اسی طرح انتظار کرنے والوں کے نفوس پاک نہ ہوں تو امام (عج) کے ظہور میں تاخیر ہوگی۔ خاص طور پر روایات میں منتظر امام کو تقویٰ اور کسب فضائل اخلاق کی سفارش ہوئی ہے۔ امام صادق فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص قائم آل محمد امام زمان کے یاران میں سے ہونا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ حقیقی معنوں میں انتظار کرے، در حالیکہ اس کے اعمال پرہیز گاری اور اچھے اخلاق کے ساتھ ہوں، تب وہ واقعی منتظر شمار ہوگا۔
حکومت جہانی کی تیاری
جو شخص حقیقی طور پر حجت خدا کے ظہور، فرج اور حکومت عدل کے قیام کا انتظار کر رہا ہو، اس کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو عدل و انصاف پر استوار کرے اور حکومت عدل کی تشکیل سے پہلے ہی اپنی زندگی میں ایسی حکومت کو نافذ کرے اور اپنے معاشرے میں اس قسم کی حکومت اجرا کرنے کے لئے کوشاں رہے، کیونکہ، حقیقی انتظار فرج کی بنیاد، حکومت عدل کو فردی زندگی، انسانی معاشروں اور پھر عالمی لیول پر نافذ کرنے کے لئے تیاری پر رکھا گیا ہے اور یہ مہم صرف الفاظ اور نعروں سے حاصل نہیں ہوتی اور نہ یہ دینی تعلیمات سے لاپرواہی کے ساتھ سازگار ہے۔ یہیں سے انتظار فرج کی ایک تفسیر کے غلط ہونے کا پتہ چلتا ہے، کیونکہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انتظار فرج یعنی انسانی معاشروں میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے لاتعلقی اختیار کرنا ہے اور اس امید سے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا کہ امام زمانہ علیہ السلام ظہور کریں گے اور معاشرے کی اصلاح کریں گے۔
حالانکہ حقیقت انتظار یہ ہے کہ انتظار کرنے والا انسان، اپنے آپ کو، اپنے ماحول اور معاشرے کو امام زمانہ علیہ السلام کے آنے اور عالمی لیول پر حکومت عدل کے قیام کے لئے آمادہ کرے اور ہر ایک اپنی قدرت کے حساب سے اس لائن میں کوشش کرے۔ امام صادق فرماتے ہیں: تم میں سے ہر ایک کی ذمہ داری کہ قائم کے ظہور کے لئے ایک تیر ہی کیوں نہ ہو، اسلحہ تیار کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کی نیت سے آگاہ ہے۔ امید ہے کہ اس کی عمر کو خدا اتنا طولانی کرے کہ وہ امام کو درک کرے اور وہ امام کے اعوان و انصار میں سے قرار پائے۔ (بحار، ج52، ص366)
شیعہ اور منتظر ہونے کا ثبوت
لقلقہ زبان پر شیعہ اور منتظر ہونے کا ادعا کرنا کوئی مشکل کام نہیں اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ لہذا اگر ہم دنیا اور آخرت دونوں میں اہلبیت (ع) کی محبت کا مزہ چکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم عمل میں شیعہ ہونے کا ثبوت دیں اور منتظر کا بھی یہی حال ہے، جب تک عمل میں انتظار کے حوالے سے جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے، حقیقی معنوں میں ادا نہ کریں، جو فوائد انتظار کے لیے بیان ہوئے ہیں، ہمارے شامل حال نہیں ہوں گے۔ مندرجہ ذیل روایتوں میں غور کرنے سے شیعہ حقیقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ابو اسامہ امام صادق (ع) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے ابو اسامہ میں تمہیں تقویٰ الہیٰ، ورع، کوشش و تلاش، گفتار میں سچایی، اچھے اخلاق، پڑوسیوں سے نیکی کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ لوگوں کو زبان کے بغیر دین کی طرف دعوت دو، یعنی تمہاری رفتار و کردار اور اخلاق اتنا پاک اور صاف ہونا چاہیئے کہ لوگ تمہیں دیکھ کر مذہب شیعہ کی طرف مایل ہو جائیں) اور اے ابو اسامہ تم (شیعہ) ہماری لئے زینت بنو اور ہمارے لئے باعث شرم نہ ہو۔ امام صادق نے اپنے خاص صحابی عیسیٰ بن عبداللہ قمی سے فرمایا: اے ابن عبدالل?، وہ شخص جو کسی ایسے شہر میں زندگی کر رہا ہو، جس میں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگ بستے ہوں، اگر اس محب اہلبیت سے ایک اور شخص تقویٰ میں آگے ہو تو یہ ہمارا شیعہ نہیں ہے۔
علماءکی اطاعت اور مجتہدین کی تقلید
اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انسانوں کی ہدایت کا بندوبست کیا ہے۔ انبیاءکا سلسلہ ختم ہونے کے بعد ہمارے اماموں نے لوگوں کی راہنمائی کی اور ان کو سیدھے راستے پر لانے کے لئے بیش بہا قربانیاں دیں اور یہ مہم عصر انتظار میں علماءاور دینی دانشوروں کو سونپی گئی ہے اور دینی علماء غیبت امام کے شروع سے لیکر اب تک اس الہیٰ وظیفے کو احسن طریقے سے انجام دیتے آئے ہیں۔ لہذا عصر اتنظار میں امام م?دی (عج) کے انتظار کرنے والوں کی اہم ذمہ داریوں میں سے علماءکی پیروی اور مجتہدین کی تقلید ہے۔ جو لوگ تقلید پر اعتراض کرتے ہیں، وہ قطعاً غلط فہمی میں ہیں یا وہ واقعی شیعہ نہیں ہیں، کیونکہ جب خود امام ہمیں امر فرماتے ہیں کہ ہم جامع الشرائط مجتہدین کی تقلید کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا کوئی بھی عمل خدا کے ہاں تقلید کے بغیر قبول نہیں ہے۔ جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو دین اور شریعت کی نسبت نہیں پہچان سکتے ہیں، لہذا اگر عملی میدان میں مسلمان باقی رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہیں کہ دینی احکامات کو دریافت کرنے کے لئے اس دینی عالم کی طرف رجوع کریں، جو سالہا سال سے زحمت اٹھا کر فرعی مسائل کو کلی قواعد سے نکال کر آسان طریقے سے ہمارے اختیار میں دیتا ہے۔
اگر ہمارے لئے براہ راست خود امام (ع) کی تقلید کرنا ممکن ہوتا تو امام (ع) مجتہدین کی تقلید کرنے پر امر نہ فرماتے۔ در حالیکہ امام صادق (ع) فرماتے ہیں: پس فقہاءمیں سے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھنے والا، دین کا محافظ اور ہوا و ہوس کا مخالف اور اپنے مولا کا فرمانبردار ہو، عوام پر اس کی تقلید واجب ہے) اس کے علاوہ تمام دینی کاموں میں عصر انتظار میں شیعوں کی ذمہ داری ہے کہ علمائ کی اطاعت کریں۔ امام زمان ؑفرماتے ہیں «حوادث زمانہ میں ہماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو، وہ لوگ میری طرف سے تمھارے اوپر ججت ہیں» اور ان کی سعادت اور کامیابی کا واحد راستہ یہی ہے، کیونکہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں، جو علماءکے توسط سے ترجمہ شدہ کتابوں کو رٹنے سے نہیں سمجھ سکتے ہیں۔
عصر انتظار میں علماءکی ذمہ داری
انتظار کے دور میں علماءکی ذمہ داری کے حوالے سے بہت موضوعات قابل تحریر ہیں، ہم یہاں آیت اللہ حافظ بشیر دام ظلہ سے اس بارے چند جملات نقل کرتے ہیں: وہ اپنی کتاب ولادت امام مہدیؑ میں لکھتے ہیں: غیبت کبریٰ کے دوران دینی طلباءعلماء، مفکرین، مصنفین، مو ¿لفین، واعظین اور میدان خطابت میں یدطولیٰ رکھنے والوں پر بہت ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس موچودہ دور میں انسانیت اور خصوصاً اسلام اور مسلمانوں کی جو حالت ہم دیکھ رہے ہیں، وہ اس وقت سے قطعاً بہتر اور مختلف نہیں ہے، جس وقت غیبت کبریٰ رونما ہوئی تھی۔ آج بھی لوگ اسی طرح دنیا کی محبت میں غرق ہیں۔۔ اسی بنا پر دینی طلباءاور علماءپر واجب ہے کہ وہ اپنے آپ کو واجب الہیٰ امر بہ معروف، نہی از منکر اور اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے تیاری کریں اور ان پر واجب ہے کہ وہ انقلاب امام مہدی (ع) کی ضرورت کے بیان اور اس کی تشریح کے ذریعے ثقافت مہدویہ کو استحکام بخشیں۔
| ReplyReply allForward |


































