تحریر: رضا ثاقب بلوچ
آج دنیا انسانی حقوق، امن، جمہوریت، مذہبی رواداری اور قانون کی حکمرانی کے ایجنڈے پر اکٹھی ہو رہی ہے لیکن ہم فرقہ واریت، نسلی، لسانی و علاقائی تعصبات، انتہاءپسندی، دہشت گردی، جنونیت، بنیاد پرستی، پسماندگی و جہالت سے پرانا یارانہ توڑنے پر آمادہ نہیں۔ برصغیر سرزمین اولیائ و سرزمین محبت ہے۔ اس سرزمین پر مذہبی رواداری اور بھائی چارے کی سنہری تاریخ موجود ہے، مگر استعمار کی آمد کے بعد اور تقسیم برصغیر کے وقت معروضی حالات کو بدلا گیا۔ انتہاءپسندی، شدت پسندی اور عدم برادشت کا بیج بویا گیا، جس سے دہشتگردی، تعصبات، فرقہ واریت، قتل و غارت اور بےامنی کی فصل پکتی رہی، جس کا پھل ہم مہذب معاشروں سے جدائی کی صورت میں کھاتے رہے اور نتیجتاً اپنی حقیقی اقدار و روایات کو فراموش کرتے ہوئے اپنی اصل پہچان کھوتے رہے۔ وطن عزیز جو کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا، اس کے قیام میں شیعہ و سنی دونوں مسالک نے مشترکہ جدوجہد کی۔ دونوں نے مل کر قربانیاں دیں، دونوں مسالک کے قائدین تحریک آزادی میں سرگرم عمل رہے۔
بعد از قیام بھی مذہبی رواداری کی عظیم مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے 1980ءکی دہائی میں مذہب کا سیاسی استعمال شروع کیا گیا۔ جنرل ضیاءالحق نے اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے مذہب کو معاشرے میں انتہاءپسندی، شدت پسندی، عدم برداشت اور فرقہ واریت کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ مبلغین کی ایک نئی فوج سرکاری سرپرستی میں تیارکی گئی جنہوں نے ضعیف مذہبی روایات کو انتہاءپسندی اور عدم برداشت کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ بےشمار مدارس قائم کیے گئے، جن کا نظام عصری تقاضوں سے یکسر مختلف رکھا گیا۔ ان مدارس نے معاشرے میں انتہاءپسند اور مذہبی جنونی پیدا کیے، جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان تو کجا انسان سمجھنے کو بھی تیار نہیں۔ جنرل ضیاءالحق کی آمرانہ حکومت نے انتہاءپسندی کو عروج کی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ انتہائ پسندی کی سرکاری سرپرستی میں آبیاری کی گئی اور اسلام کے نام پر مسلمانوں میں تکفیر کا ایک خطرناک سلسلہ شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں فرقہ واریت، قتل و غارت اور خودکش حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جو آج تک تھم نہیں سکا۔
ایک المیہ ہے کہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں جدید علوم و فنون زیربحث ہیں۔ ترقی کی نئی راہیں کھولی جا رہی ہیں۔ تسخیر کائنات کا مقدس انسانی فریضہ سرانجام دیا جا رہا ہے۔ فاصلوں کو سمیٹا جا رہا ہے۔ انسانی زندگی کو پرآسائش بنانے کے لیے ایجادات و اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ ہمارے تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتیں ایک دوسرے کو کافر و مسلمان ثابت کرنے میں کھپ رہی ہیں۔ یہاں کبھی سیفی علی کی متنازعہ میڈیا ٹاک مہینوں تک ہمارے جذبات کو مچلتی رہتی تو کبھی آصف جلالی کی اختلافی تقریر ہمیں سڑکوں پر لے آتی ہے تو کبھی ہماری صوبائی اسمبلی میں اقتدار کے نشے میں مست بیٹھے حکمرانوں کا منظور کردہ متنازعہ بل ہمیں احتجاج پر مجبور کرتا، تو کبھی آصف علوی کی مبینہ گستاخی ہمیں آپے سے باہر کر دیتی ہے۔ یہ کھیل مسلسل کھیلا جا رہا ہے، کوئی جان کر اس کا حصہ بنا ہے تو کوئی انجانے میں۔
الحمدللہ نفرتوں کے اس دور میں محبت کے علمبردار بھی موجود ہیں، جو تعصبات کے اندھیروں میں امن کے جگنو ہیں، امن کے سفیر ہیں۔ جیسے علامہ اقبالؒنے فرمایا تھا کہ:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
جہاں ہمیں بڑے بڑے انتہاءپسند لشکر، تحریکیں، تنظمیں، سپاہیں اور آصف جلالی و آصف علوی جیسے کردار نظر آتے ہیں، وہیں معتدل، بابصیرت، وسیع القلب اور مصلح اکابرین، عمائدین اور علمائے کرام مولا ناطارق جمیل، علامہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ ناصر عباس جعفری، علامہ امین شہیدی، مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا ثاقب مصطفوی، راغب نعیمی و لیاقت بلوچ کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ نے مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تاریخی فتویٰ جاری کیا کہ جس میں وہ فرماتے ہیں کہ "برادران اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرنا، چاہے وہ خلفائے اہلسنت کے متعلق ہو یا پھر ازواج پیغمبر اکرم کے عنوان سے ہو، حرام ہے اور وہ شخص خداوند متعال کے نزدیک مجرم ہے، جو اپنی زبان یا اپنے قلم سے ایسا غیر ذمہ درانہ عمل انجام دیتا ہے۔”
سرزمین پاکستان پر جب معاشرتی درجہ حرارت اپنی انتہاءکو پہنچ چکا ہے اور خود ساختہ اسلام کے ٹھیکدار اسلامی اقدار و روایات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، وہاں قبلہ مفتی محمد رفیع عثمانی کا اتحاد امت و ملی یکجہتی کے حوالے سے بیانیہ قابل تحسین ہے۔ مفتی صاحب نے اپنے خطبہ جمعہ میں وطن عزیز میں مکتب تشیع کی تکفیر کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ شیعہ مسلمان اور ہمارے بھائی ہیں۔ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنا گناہ اور حرام ہے۔ اس سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی مسلمان ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے، بیرونی طاقتیں ہمیں داخلی اختلافات و فسادات میں الجھا دیتی ہیں۔ انہوں نے اپنا مسلک نہ چھوڑنے اور دوسروں کے مسلک کو نہ چھیڑنے کی تلقین کی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور غور و فکر کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ عقل و دانش کا معیار ایک نہیں ہے، درجات مختلف ہیں، اس لیے اختلاف کا ہونا ایک فطری بات ہے، لیکن ضروری ہے کہ ہر اختلاف کو اس کی سطح پر رکھا جائے۔ ہر اختلاف کی اپنی سطح اور نوعیت ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر اختلاف کو حق و باطل اور کفر و اسلام کے لہجے میں بیان کرنے کا مزاج بن گیا ہے جو کہ انتہائی خطرناک اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ اگر ہمارے اکابرین، عمائدین اور علمائے کرام عوامی محاذ پر ملی و قومی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حسن ظن کی تعلیم دیں، مناظرہ کی بجائے مکالمہ کا احیاء کریں، دافعہ کی بجائے جاذبہ کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کی بجائے مشترکات کو اجاگر کریں تو وطن عزیز میں امن اور مذہبی روداری و ہم آہنگی کی فضاءقائم ہوسکتی ہے۔


































