مکڑی کے جسم میں ننھی ننھی نلکیاں یا ٹیوبیں ہوتی ہیں جنہیں تار بنانے والے عضو (Spinnerets) کہتے ہیں ۔
ٹیوبوں میں سے رقیق (نرم و ملائم) مادہ نکلتا ہے جو ہوا لگنے سے سخت ہو کر تار یا دھاگا بن جاتا ہے۔ مکڑی انہی دھاگوں سے جالا بنتی ہے۔
یہ دھاگے دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک دھاگہ لیس دار(چپکنے والا) ہوتا ہے۔ مکھی، مچھر اور دوسرے کیڑے مکوڑے اسی دھاگے میں پھنستے ہیں ۔ دوسرا دھاگہ لیس دار نہیں ہوتا۔
مکڑی جالے پر چلتی ہے تو اسی دھاگے پر پاﺅں رکھتی ہے ۔ اس لئے وہ جالے میں نہیں پھنستی۔
اگر کبھی غلطی سے مکڑی کا پاﺅں لیس دار جالے میں پھنس جائے تو اس کا جسم دھاگے سے چپک جاتا ہے۔ اس صورت میں وہ اپنے جسم سے ایک تیل جیسا مادہ نکالتی ہے جس سے اس کا جسم دھاگے سے چھٹ جاتا ہے۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- مکڑی اپنے جالے میں خود کیوں نہیں پھنستی؟
مکڑی اپنے جالے میں خود کیوں نہیں پھنستی؟
-
Ilyas - اکتوبر 16, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 16
- 1 minute read


































