استاد شہید مرتضیٰ مطہری ؒ
عزاداری شیعہ مذہب کے مسلمات میں سے ہے۔ آئمہ اطہار ؑ نے بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے کہ عاشورا کی یاد کو قائم رکھا جائے۔ شعراءکو ہدایت کی گئی ہے کہ اس موضوع پر شعر کہیں اور لوگوں کے احساسات کو جھنجھوڑیں۔ جو لوگ عاشورا کی یاد سے متاثر ہو کر آنسو بہاتے ہیں ان کے اس فعل کو مقدس قرار دیا گیا ہے۔ بکثرت احادیث میں گریہ و بکا کی فضیلت آئی ہے۔
آئمہ ؑدین نے یہ تاکید کیوں کی ہے کہ امام حسین ؑ کے قیام کی یاد ہمیشہ باقی رکھی جائے اور بھلائی نہ جائے۔ آخر عاشورا کے موضوع کو زندہ رکھنے کا فلسفہ کیا ہے؟
ہم شیعوں کے عقیدے کے مطابق دین کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں، اس لئے اس کی بھی حکمت معلوم ہونی چاہیے۔ اگر یہ حکمت معلوم ہو جائے تو اس وقت معلوم ہوگا کہ ان احکام کی کیا اہمیت ہے اور واقعہءکربلا سے متعلق احکام سے ہمیں کس قدر زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔
آئمہ ؑ دین نے مجالس غم برپا کرنے کی وصیت فرمائی، اس کی وجہ یہ ہے کہ امام حسین ؑ نہ اپنی کسی ذاتی غرض کے لئے شہید ہوئے، نہ امت کے گناہوں کے کفارہ کے طور پر انہوں نے اپنی جان عزیز قربان کی۔ آپؑ نے تو راہ حق میں اپنی جان دی اور باطل کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ اس لئے آئمہ اہلبیت ؑنے یہ چاہا کہ امام حسین ؑ کا مکتب شہادت باقی اور ان کی تحریک زندہ رہے۔
شہادت حسین ؑ چونکہ حق و باطل کے مقابلہ کی تحریک ہے اس لئے اسے ہمیشہ قائم و دائم رہنا چاہیے ورنہ امام حسین ؑ کو اس سے کیا فائدہ کہ ہم روئیں یا نہ روئیں۔ اور ہمیں خود بھی اس سے کیا فائدہ کہ پہلے تو بیٹھ کر روئیں اور پھر کپڑے جھاڑ کر چل دیں۔ آئمہ اہلبیت ؑ تو یہ چاہتے تھے کہ قیام امام حسین ؑایک تحریک اور ایک مشعلِ راہ کے طور پر ہمیشہ باقی رہے کیونکہ یہ حقیقت دوستی اور حقیقت طلبی کا ایک چراغ ہے اور حق طلبی، حریت اور آزادی کی پکار۔ اس حریت و آزادی کی تحریک اور ظلم و استبداد کے مقابلہ کی تعلیم کو باقی اور زندہ رہنا چاہیے۔
اس حکم کا نتیجہ یہ نکلا کہ خود آئمہ اطہار ؑ کے زمانے ہی میں انقلاب برپا ہوگیا اور خود امام حسین ؑ کا نام ظلم کے خلاف انقلاب کا نعرہ بن گیا، بہت سے انقلابی شاعر پیدا ہوگئے۔ کمیت اسدی پیدا ہوگیا، دعبل خ ±زاعی وجود میں آگیا۔ جانتے ہو کمیت اسدی کون تھا؟ دعبل خ ±زاعی کون تھا؟ یہ دونوں روضہ خواں تھے لیکن ہماری طرح کے روضہ خواں نہیں۔ یہ مرثیہ گو شاعر تھے۔ آپ کمیت اسدی، دعبل خ ±زاعی، ابن الرومی اور ابو فراس ہمدانی کے عربی اشعار پڑھیں تاکہ آپ ان کا موازنہ محتشم کے اشعار سے کر سکیں جس کی تعریف و توصیف میں ہزاروں داستانیں زباں زد ہیں۔ مگر کہاں یہ اور کہاں وہ۔ خاک کو آسمان سے کیا نسبت؟ ان شعراءکے اشعار حسینی ؑ تعلیمات کی عکاسی کرتے تھے۔
صرف کمیت اسدی کے اشعار بنی امیہ کے لئے پورے ایک لشکر سے زیادہ ضرر رساں تھے۔ یہ شخض کون تھا؟ ایک مرثیہ گو تھا مگر ایسا مرثیہ گو نہیں کہ آکر چند الٹے سیدھے اشعار سنائے اور کچھ روپے جیب میں ڈال کر چل دے۔ وہ شعر کہتا تھا تو دنیا کو ہلا دیتا تھا، دربارِ خلافت پر لرزہ طاری کردیتا تھا۔
عبداللہ بن حسن بن علی ؑالمعروف بہ عبداللہ محض، کمیت کے جاندار اشعار سے ایسے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنے کھیت کا قبالہ لاکر اسے پیش کردیا۔ کمیت نے کہا یہ تو کسی طرح ممکن نہیں کہ میں اسے قبول کرلوں، میں تو سیدالشہداءؑ کا مرثیہ خواں ہوں اور صرف رضائے الہٰی کی نیت سے مرثیہ کہتا ہوں، میں پیسے کمانے کے لئے شعر نہیں کہتا۔ عبداللہ کے بے حد اصرار پر اسے ماننا پڑا اور اس نے قبالہ لے لیا۔ کچھ دن بعد کمیت عبداللہ بن حسن بن علی ؑ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری آپ سے ایک درخواست ہے اگر آپ منظور کرلیں۔ عبداللہ نے کہا ضرور منظور کرلوں گا مگر بتاو ¿ تو سہی بات کیا ہے؟ کمیت نے کہا پہلے آپ پختہ وعدہ کیجئے پھر بتاو ¿ں گا غرض عبداللہ نے وعدہ کرلیا اور شاید قسم بھی کھالی۔ جیسے ہی انہوں نے وعدہ کیا، کمیت نے قبالہ واپس کردیا اور کہہ دیا کہ میں قبالہ نہیں لے سکتا۔
ایک اور موقع پر بنی ہاشم نے کچھ روپے جمع کرکے اسے دینے چاہے، ہر ممکن تدبیر کی مگر اسے نہ لینے تھے نہ لیے اور صاف کہہ دیا کہ یہ قطعی ناممکن ہے کہ میں آپ سے روپے لوں۔
اس شخص نے اپنے اشعار اور اس نوع کی مرثیہ خوانی کی بدولت کیا کیا سختیاں نہیں جھیلیں، کیسی کیسی تکلیفیں نہیں اٹھائیں مگر اس کے پائے استقامت کو ذرا جنبش نہیں ہوئی۔ آخر کار اسے پکڑ کر حاکم کوفہ کے گھر لے گئے اس نے آٹھ آدمی اس کے بدن پر چرکے لگانے کے لئے مقرر کردیئے۔ جب اس کا دم آخر ہوا تو آخری الفاظ جو اس نے کہے یہ تھے:
”خدایا اہلبیت پیغمبر! خدایا اہلبیت ? پیغمبر!“
دعبل بن علی خ ±زاعی کو تو آپ جانتے ہیں؟ وہ کہتا تھا کہ ”میں پچاس سال سے خانہ بدوش ہوں۔“
ان مرثیہ گو شعراءکی ادبی قدر وقیمت کا اندازہ کیونکر لگایا جاسکتا ہے کہ جن کی تربیت خود آئمہ ؑنے کی ہو۔ یہ صرف مرثیہ گو اور مرثیہ خواں ہیں۔ یہ مرثیہ کہتے تھے لیکن ان کے مرثیوں میں نوحہ اور بین نہیں تھا، وہ رزمیہ مرثیے کہتے تھے۔ ان کے قصیدے ایک انقلابی مفکر کے مقالات کی طرح پر اثر تھے۔ انہوں نے سید الشہداء امام حسین ؑ کے زیر سایہ بنی امیہ اور بنی عباس پر ایسی سخت تنقید کی کہ انہیں خون کے آنسو رلوادیا۔
سید الشہداءؑ کے مرثیہ گو جب تک تعلیمات آئمہ ؑ کی پیروی کرتے رہے معاشرے میں ان کا کردار لائق صد تحسین رہا۔ ان باتوں کو اگر سمجھ لیا جائے اور ان کا سمجھنا ہے بھی ضروری، تو عزاداریءامام حسین ؑ سے صحیح استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
پھر بھی میں یہ کہوں گا کہ باوجود تمام کوتاہیوں کے سید الشہداءؑ کی نسبت آج بھی لوگوں کے جذبات و احساسات حقیقی اور پاک ہیں۔ اگرچہ کچھ لوگ جن کی نیت بری نہیں، جب یہ دیکھتے ہیں کہ عزاداری کا مطلب غلط سمجھ لیا گیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بہتر ہے کہ اب اس قصہ کو ختم ہی کردیا جائے کیونکہ لوگ محض اس لئے گریہ و بکا کرتے ہیںکیونکہ انہوں نے یہ سن رکھا ہے کہ اس طرح گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اگر یہ بات نہ ہو تو وہ قطعاً نہ روئیں۔ لیکن یہ غلط فہمی ہے، حقیقت یہ نہیں۔ کسی کو لالچ دے کر رلایا نہیں جاسکتا۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو کچھ لوگوں کو جمع کرکے ان سے کہیے کہ کسی اور شخص کے لئے، مثلاً شاہ کے لئے ذرا آدھا گھنٹہ بیٹھ کر روئیں تو ہم ہر ایک کو ایک ہزار تومان دیں گے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟
رونے کے لئے احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک آدمی متاثر نہ ہو اسے رونا نہیں آتا۔آدمی اسی وقت رو سکتا ہے جب وہ غمگین ہو یا اس کے دل میں تڑپ ہو۔ سید الشہداءؑ کی نسبت لوگوں کے جذبات واقعی ایک طرح سے حقیقی ہیں۔ لوگوں کو امام حسین ؑ سے سچی محبت اور عقیدت ہے اور وہ دل سے ان کے لئے آنسو بہاتے ہیں۔ محرم او رصفر کے مہینوں میں ڈھیروں آنسو بہائے جاتے ہیں۔ جب تک گم و اندوہ نہ ہو، عشق و محبت نہ ہو، احساسات و جذبات نہ ہوں رونا نہیں آتا۔ یہ جذبات قیمتی اور بڑے قیمتی ہیں، مگر ابھی تک ہم نے ان جذبات سے جیسا کہ چاہیے ویسا فائدہ نہیں اٹھایا۔
جس قدر لوگ حسین ؑبن علی ؑ کے نام پر جمع ہوجاتے ہیں، اتنے کسی اور کے نام پر جمع نہیں ہوتے، اس لئے یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ اس طرح کا دستور موجود ہے۔ اب یہ کہ اس پر کس طرح عمل ہوتا ہے، یہ موقوف ہے ذاکر کی اپنی لیاقت اور قابلیت پر اور اس پر کہ وہ عقائد اور اصول دین بیان کر سکتا ہے، لوگوں کو پندونصیحت کر سکتا ہے، حرام و حلال سمجھا سکتا ہے اور لوگوں کو ان کے دینی و دنیاوی مفاد سے آگاہ کر سکتا ہے۔لوگ بہرحال حسین ؑبن علی ؑ کی برکت سے سننے کے لئے تیار ہیں۔ اب یہ ذاکر پر ہے کہ اس میں ان حقائق کو بیان کرنے کی قابلیت ہے یا نہیں۔
جب یہ صورت ہے تو پھر یہ ضروری ہوا کہ اس معاملے پر مناسب غور و فکر کرکے ہر دو پہلو سے اس کی اصلاح کی تدبیر کی جائے۔ مرثیہ خوانی کے پہلو سے بھی اور لوگوں کی ہدایت و ارشاد کے پہلو سے بھی۔
جہاں تک مرثیہ خوانی کا تعلق ہے مرثیہ خواں حضرات کو چاہیے کہ سید الشہداءؑکی تحریک کی حقیقی روح اور اس کے مقصد کی طرف توجہ دیں او ران احکامات و ہدایات کی علت غائی کو ذہن میں رکھیں جو آئمہ اطہار ؑ نے عزاداری کے بارے میں دی ہیں۔ چونکہ یہ ہدایات بلاوجہ نہیں دی گئیں۔ اس لئے ان حضرات کو چاہیے کہ تحریک کربلا کے مقصد اور عزاداری ءسید الشہداءؑ کے فلسفہ سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ یہ بات ایک دو بار نہیں سینکڑوں بار، بلکہ ہمیشہ لوگوں کے کانوں میں پڑتی رہنی چاہیے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ذاکرین خود صاحب بصیرت ہوں، ان کی معلومات چند پیش پا افتادہ جنگ ناموں تک محدود نہ ہوں اوروہ خود ساختہ لسان الذاکرین اور صدرالواعظین نہ ہوں۔ لوگ بہت سی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے سننے کو ملتا ہے کہ فلاں لسان الذاکرین نے بیان کی ہے۔ مطلب یہ کہ کسی کتاب میں نہیں دیکھی، محض ادھر ادھر سے سنی ہے۔
ضروری ہے کہ تاریخی واقعات صرف معتبر تاریخی کتابوں سے معتبر مورخین کے قول کے مطابق نقل کئے جائیں۔
قیام حسینی ؑ کا مقصد اور عزاداری کا فلسفہ منبروں سے بار بار بیان ہوتے رہنا چاہیے تاکہ وہ فائدہ مرتب ہو اور وہ مقصد حاصل ہو جس کے لئے امام زین العابدین ؑ، امام باقر ؑ، امام صادق ؑاور امام کاظم ؑ عزاداری کی تلقین کرتے رہے تھے تاکہ کمیت اور دعبل جیسے شاعر پیدا ہوں اور ان کے مرثیوں سے وہی پہلے جیسے نتائج برآمد ہوں۔
کوئی ایسا کام ہرگز نہیں کرنا چاہیے جس سے جذبات سرد پڑ جائیں بلکہ وہ کام کرنا چاہیے جس سے جذبات میں اور بھی شدت پیدا ہو۔ حق و صداقت سے لوگوں کی محبت او رباطل سے نفرت میں اضافہ ہو۔
حاجی نوری ؒنے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ”لو ¿لو ¿ و مرجان“ ہے۔ یہ کتاب مرثیہ خوانی اور مرثیہ خواں حضرات کے بارے میں ہے۔ انہوں نے مرثیہ خوانی کے لئے دو شرطیں بیان کی ہیں ایک ”اخلاص“ اور دوسرے ”راست گوئی۔“ ان دونوں نکتوں پر بلند پایہ بحث کی ہے۔ حاجی نوری محدث، بڑے پابند شریعت اور متقی شخص تھے اور مرحوم حاجی شیخ عباس قمی اعلی اللہ مقامہ کے استاد تھے۔


































