درخت لگانا
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑ مدینہ میں سب سے زیادہ درخت لگانے والی ہستی ہیں ۔ اس وقت بھی آپ کے ہاتھوں سے لگائے کھجور کے درخت موجود ہیں ان کے علاوہ بہت سے درخت کاٹ دیئے گئے ہیں اور ان کی جگہ پر اور درخت لگائے گئے ہیں ۔
آپؑ بہت سے چشموں کو بھی وجود میں لائے، جن پچیس سالوں میں آپ کو ظاہری حکومت سے دور رکھا گیا ، آپ نے اس عرصہ میں مسلسل کام کیا۔
مدینہ کے لوگوں سے ارشاد فرماتے ہیں ۔
”جو شخص کسی درخت کوپانی دے وہ اس طرح ہے کہ اس نے کسی تشنہ (پیاسے) مومن کو سیراب کیا ہے۔“
حضرت امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں ۔
” کاشتکاری کرو، یہ تو زمین میں پوشیدہ اللہ کے خزانے ہیں ۔“
اس کے ساتھ ہی حضرت امام جعفر صادق ؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ زراعت کے پیشہ والے کو دوست رکھتا ہے، جب تک زندہ ہوں کاشتکاری کرتا رہوں گا۔
درخت باعث برکت ہیں
پیارے بچو! یقینا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کس قدر پانی ضائع ہوتا ہے ۔ کئی کئی کلو میٹر تک پانی زمین کو گھیرے رکھتا ہے۔ اگر ہم فقط لکڑیاں پیدا کرنے کے لئے ہی درخت کاشت کرلیتے تو ہمارے پاس اس کا بہت بڑا ذخیرہ محفوظ ہو جاتا ، یہی وجہ ہے کہ درخت کا وجود سراسر خیرو برکت ہے۔
ہر درخت دن ، مہینے اور سال میں ترقی کرتا ہے ہر سال اس کا وزن پانچ کلو میٹر بڑھ جاتا ہے ۔ جس قدر ہمارے پاس درخت زیادہ ہوں گے ہم اسی قدر زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں گے۔ اس کے پتے، پھول اور سایہ وغیرہ یعنی درخت مکمل طور پر فائدہ مند ہیں ۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان جیسا ملک جس کے پاس پانی جیسی دولت موجود ہو اور وہ اس سے بہرہ مند (فائدہ حاصل) نہ ہو، ہمارے ملک میں بہت سے ایسے گاﺅں ہیں جہاں ایک درخت بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔
اگر ہر شخص ایک ایک درخت لگالے تو نہ معلوم کتنی بڑی دولت ہاتھ لگ جائے، نجانے ہم اتنی اہم عبادت کیوں انجام نہیں دیتے؟ ہمیں چاہیے کہ ایک درخت ہی کاشت کرلیں ۔ ہر روز وہ جتنا بڑا ہوگا ہمارے معاشرے کے لئے اتنا خیر و برکت کا موجب (باعث) بنے گا۔ ہم ہوں یا نہ ہوں یہ اپنی برکتیں بانٹتا رہے گا۔


































