Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

امریکہ میں غربت(1)

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس
دنیا میں امریکہ کی اکانومی کو سب سے بڑی اکانومی کہا جاتا ہے، یہ علیحدہ بات ہے کہ امریکہ اس وقت دنیا کے چند بڑے مقروض ممالک میں سے ایک ہے۔ امریکہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک مظہر سمجھا جاتا ہے لیکن اس ملک مین کتنے عام شہری بےگھر اور دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں۔ اس مختصر مضمون میں اس کی طرف اشارہ گیا گیا ہے۔ امریکہ میں جب گرمی عروج پر پہنچتی ہے تو لوگ مرنا شروع ہو جاتے ہیں اور جب سردی بڑھتی ہے تو اس سے بھی شرح اموات میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ یہ خبر پڑھنے سے یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ گرمی اور سردی میں وہ بھی ترقی یافتہ شہروں میں لوگ کیوں مرتے ہیں تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جو لوگ گھروں کے اندر ہوتے ہیں، وہ نہ سردی سے مرتے ہیں، نہ گرمی سے ہلاک ہوتے ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جو بے گھر ہیں اور ان کا سر چھپانے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں اور وہ کسی فٹ پاتھ یا دیوار کے سائے میں موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک بالخصوص امریکی حکام سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر مرنے والوں کے اول تو اعداد و شمار جاری نہیں کرتے اور اگر کرتے بھِی ہیں تو ان کو بہت کم دکھایا جاتا ہے۔ رہبر انقلابی اسلامی کے بقول یہ صورتحال یعنی گرمی اور سردی سے ہلاک ہونا بے گھر ہونے کی علامت ہے۔ امیر ترین ممالک میں امریکہ جیسے ممالک میں گویا ان ممالک میں امارت و خوشحالی کی چوٹیاں ہیں تو ان بلندیوں کے دامن میں اور درون میں بدبختی، بے سروسامانی اور فقر و غربت بھی موجود ہے۔ جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی کی گفتگو سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مغربی اور امیر ممالک میں بے گھر اور بغیر پناہ گاہ یعنی بے سروسامانی کا مسئلہ سماجی مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ امیر اور ترقی یافتہ ممالک بالخصوص امریکہ میں بے سروسامانی اور غربت کے عالم میں ایک بڑی تعداد میں شہریوں کا موت کے منہ میں چلا جانا انتہائی تشویش کا باعث ہے۔
مغرب میں مختلف طبقات کے شہریوں کو بے گھر ہونے کی سماجی مشکل کا سامنا ہے۔ ان طبقات مِیں بچے، بوڑھے، عورتیں، ان پڑھ اور تعلیم یافتہ ہر قسم کے افراد شامل ہیں۔ بعض اوقات تو امیر طبقے کے ان افراد کو بھی بے سروسامانی، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر مرتے دیکھا گیا ہے، جن کو خطرناک اور لاعلاج امراض لاحق تھے۔ البتہ بے گھر ہونے کے زیادہ تر واقعات منشیات کے عادی یا ذہنی امراض کے شکار افراد اور گھروں سے فرار کرنے والے افراد کو پیش آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خطرناک جسمانی امراض میں مبتلا افراد بھی گلی کوچوں میں موت کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سماجی مسئلہ کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو بے گھر اور بے سروسامانی کی بنیادی وجہ غربت و افلاس ہے۔
عالمی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ عشرے میں مغربی ممالک میں بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور جن مماک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، وہاں بے گھر افراد کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بعض مغربی ممالک میں تو بے گھر افراد کی اوسط میں 50 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یورپی ممالک میں ماضی میں منشیات کے عادی، جوئے کے عادی اور شراب زیادہ پینے والے افراد کے بے گھر ہوتے تھے، لیکن اب بے گھر افراد میں بے روزگار ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بعض اوقات تو بے گھر ماﺅں کو اپنے کم سن بچوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رات دن گزارتے دیکھا گیا ہے۔ مغرب میں بے گھر افراد کی فلاح و بہبود کے لیے بنائے گئے ادارے FEANTSA نے برسلز میں مارچ 2019ءمیں اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں مغربی شہریوں کے بے گھر ہونے کو مغربی معاشرے کی ایک بڑی لعنت اور بحران قرار دیا ہے۔
یورو نیوز ٹی وی چینل نے اس رپورٹ کے مندرجات کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہائشی گھروں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں، جس کی وجہ سے بے گھر افراد کی تعداد میں نمایان اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ کے ایک بڑی شہر مانچسٹر کے بعض محلوں میں زیرزمین بڑی بڑی سرنگیں دیکھنے کو ملتی ہیں، جہان پر چوہوں اور حشرات الارض کے ہمراہ کئی افراد اور خاندان زندگی کے دشوار ایام گزار رہے ہیں۔ انڈیپنڈنٹ اخبار کے مطابق اگر وکٹوریہ کے زمانے میں یہ منظر دیکھے جاتے تو لوگ خوف سے پاگل ہو جاتے۔ اس طرح کی بعض بڑی بڑی زیرزمین آبادیاں مانچسٹر کے بڑے بڑے شاپنگ پلازہ سے چند قدموں کے فاصلے پر ہیں۔
یہ غار نما علاقے معروف دریائے ایرو کے آخری حصے میں بھی موجود ہیں، جہاں پر استعمال شدہ لانچوں، خالی بوتلوں اور استعمال شدہ کپڑوں اور برتنوں کے ڈھیر کے قریب انسان بھی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ ان علاقوں میں منشیات کا استعمال روزمرہ کا معمول ہے۔ بے گھر افراد کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق برطانیہ کی سڑکوں اور گلیوں میں تین لاکھ بیس ہزار افراد رات کو کھلے آسمان تلے زندگی گزارتے ہیں۔ لندن جیسے شہر میں 9 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہیں۔ برطانیہ میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق 2017ءمیں 600 بے گھر افراد نے سڑکوں پر زندگی کی بازی ہاری ہے، یہ اضافہ ماضی کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔ فلاحی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق بے گھر افراد میں اتنی تیزی میں اضافہ ہو رہا ہے کہ فلاح وبہبود کی انجمنیں اس مشکل کو حل کرنے میں ناکام ہیں۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ رات کو گلی کوچوں اور فٹ پاتھوں پر سونے والوں کی تعداد میں 2 فیصد کمی ہوئی ہے، تاہم غیر جانبدار انجمنوں اور اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔ گارڈین اخبار کے مطابق برطانوی حکومت کو بے گھر افراد کے بارے میں اعداد و شمار جاری کرتے وقت احتیاط سے کام لینا چاہیئے، کیونکہ سالانہ بجٹ میں اس کے لیے بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ فرانس بھی یورپی ممالک میں ایک اہم ملک ہے، وہاں پر بھی بے گھر افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فرانس کے اعداد و شمار کے قومی ادارے INSEE کے مطابق فرانس میں بارہ ہزار افراد رات کو سڑکوں پر رات گزارتے ہیں۔ ان افراد کے پاس اپنے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں اور ان میں اکثریت غربت کی لائن سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
دوسری طرف مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق فرانس میں ہر روز ایک بے گھر شہری فٹ پاتھ پر یا سڑک کے کنارے اپنی زندگی کی آخری رات مکمل کرتا ہے۔ 2018ءکے اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں 560 افراد سڑکوں پر بےسروسامانی کے عالم میں ہلاک ہوئے ہیں۔ بعض غیر سرکاری انجمنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار سے چھ گنا زیادہ افراد پارکوں، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر ہلاک ہوتے ہیں۔ 2019ءکی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس میں سڑکوں پر رات گزارتے والے بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت فرانس کے بڑے شہروں من جملہ پیرس کے نواحی علاقے کی سڑکیں رات کے وقت بے گھر افراد سے بھری نظر آتی ہیں اور اس سماجی مشکل نے حکومت کو بھی سخت پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
بے گھر افراد کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ادارے کے سربراہ لوئیز خاویار کہتے ہیں کہ بے گھر افراد کی تعداد میں اضافے کی بڑی وجہ بے روزگاری ہے۔ بے روزگار افراد اپنی زندگی کے روزمرہ کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے، ان کے لئے ٹھکانہ یا گھر ایک ناممکن امر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ فرانس کے اعداد و شمار کے ادارے کے مطابق فرانس میں چار لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بہرحال یہ ایک پیچیدہ موضوع ہے کہ آپ بے روزگار ہیں، لہذا گھر کرائے پر نہیں لے سکتے اور دوسری طرف چونکہ آپ بے گھر ہیں، آپ کو اچھی ملازمت نہیں دی جا سکتی، یورپی شہری اس مخمصے میں گرفتار ہیں۔
امریکہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پانچ لاکھ افراد بے گھر ہیں، گویا امریکہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں اس مسئلے میں آگے ہے، Family Promise نامی این بی آر کے مطابق کم قیمت کے رہائشی گھروں کا فقدان، بے روزگاری اور غربت و افلاس وہ بنیادی وجوہات ہیں، جو بے گھر افراد کی تعداد میں روز بروز اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ 2018ءمیں 22 لاکھ بچے بے گھر تھے اور ہر سال 30 امریکی بچوں میں سے ایک بے گھر ہونے کے تلخ تجربے سے گزرتا ہے۔ 2014ءاور 2015ءمیں دس لاکھ اسکولی بچے بے گھر تھے، 51 فیصد بے گھر بچوں کی عمریں 5 سال سے نیچے ہیں، جو اسکول نہیں جا سکتے اور اپنی ماﺅں کے ساتھ گلی کوچوں، فٹ پاتھوں، پارکوں یا گاڑیوں کے گیراجوں میں زندگی کے تلخ ایام گزار رہے ہیں۔

ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular