
اپنی شرائط پر یمن پر جنگ بندی مسلط کرنے کی امریکی و سعودی کوشش ناکام
امریکا ، سعودیہ اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کی مسقط میں ملاقاتیں ، پرانی تجاویز کو دہراتے رہے،محاصرہ ختم کئے بغیر جنگ بندنہیں ہوگی، صنعا حکومت کا اعلان
مآرب کے شمال مغرب کی جانب پیشقدمی جاری،جارح فورسز کے 125 سے زائد جنگجو ہلاک، سعودی صوبے عسیر میں واقع فوجی اڈے پر کامیاب ڈرون حملہ
مسقط/صنعا (نیوز ڈیسک) یمن کے صوبے مآرب میں یمنی افواج کی پیشقدمی نے سعودی عرب ،امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ہوش اڑادئے ہیں اور وہ کسی بھی صورت جنگ رکوانے کی بھاگ دوڑ کررہے ہیں ،اسی حوالے سے امریکا اور اقوام متحدہ کے سفیر عمان پہنچے لیکن انہیں خالی ہاتھ ہی واپس آنا پڑا، واشنگٹن سمیت متحارب فریق ایسے سیاسی ماڈل کی تلاش میں ہیں جو سعودی عرب کے باقی اختیارات اور وقار کو برقرار رکھے گا،وہ ان مطالبات کو مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو وہ فوجی کاروائیوں کے ذریعے حاصل نہیں کرسکے، امریکا ، سعودی عرب اور اقوام متحدہ کے نمائندوں نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں جنگ رکوانے کیلئے ملاقاتیں کیں لیکن وہ کوئی نئی تجویز پیش نہیں کرسکے بلکہ پرانی تجاویز کو ہی دہراتے رہے، امریکا ، برطانیہ اور سعودی عرب جنگ کا حل تلاش کرنے کے لئے سیاسی اور سفارتی کوششیں کررہے ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال ان ممالک میں سے کسی کے مفاد میں نہیں ،یمنی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی اتحادی جنوبی صوبے ابیان میں ایک اسٹریٹیجک سمندری گذرگاہ القاعدہ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں ،یمنی فورسز اسی وقت فوجی آپریشن روکیں گی جب یمن کا محاصرہ ختم کیا جائے گا، ا ±دھر یمنی مسلح افواج و عوامی مزاحمتی فورسز نے ”الطلعہ الحمرا “ پر کنٹرول بحال کرنے کے بعد مآرب کے شمال مغرب کی جانب پیشقدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور انہوں نے جارح فورسز کے حملوں کو ناکام بنادیا ، منصور ہادی کے جنگجو شہر کے مشرق میں واقع ”حملہ الدحلہ“ پر قبضہ جمانے میں بھی ناکام رہے ،کارروائی میں جارح فورسز کے 125 سے زائد جنگجو مارے گئے،یمنی فورسز نے سعودی صوبے عسیر میں فوجی اڈے کو ڈرون سے نشانہ بنایا۔


































