
لاہور : مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ نصاب تعلیم پر حتمی فیصلہ جید علمائے کرام کی تجاویز و آراء کے بغیر جلد بازی میں کرنا مشکلات کو دانستہ دعوت دینے کے مترادف ہے، ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی برسی پر شہید پاکستان اور اتحاد امت کانفرنس سے خطاب میں علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ تیکنیکی و سائنسی علوم یا زبان کے اعتبار سے نصاب کو یکساں کیا جا سکتا ہے لیکن کسی مخصوص مسلک کے عقائد اور تاریخ کو حقیقی تسلیم کرنے کیلئے دوسروں پر زور نہیں دیا جا سکتا، یہ ایک حساس مسئلہ ہے جس پر مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی مداخلت سے خطے کی صورتحال دن بہ دن پیچیدہ ہورہی ہے، قومی مفادات کے تحفظ اور ملکی سلامتی و استحکام کے لیے ہم سب کو متحد ہو کر آگے بڑھنا ہو گا، انہوں نے ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو اتحاد امت کا حقیقی داعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرفراز نعیمی نفاق بین المسلمین کے خاتمے کے لیے ساری زندگی متحرک رہے، اتحاد امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔


































