
برلن: جرمنی کی اعلیٰ عدالت نے کمپنیوں کو ملازمین کو اسکارف پہننے سے روکنے کا اختیار دیدیا، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمپنیز اپنے ملازمین کو کوئی بھی ایسی چیز پہننے سے روک سکتی ہیں جس سے سیاسی، فلسفی یا مذہبی قسم کا گمان ہو تاکہ کسٹمرز کے ذہن میں غیر جانبداری کا عنصر برقرار رہے اور کسی بھی طرح کے سماجی مسئلہ سے بچا جاسکے، عدالت نے کمپنیز کو اس بات کا بھی پابند کیا ہے کہ ان کی جانب سے پابندی حقیقی وجوہات کی بنا پر عائد کی جانی چاہیے تاہم کمپنیز کو ملازمین کے حقوق سمیت آزادی مذہب سے متعلق ملکی قانون کو بھی دیکھنا ہوگا، اسکارف پر پابندی سے متعلق کیس 2 مسلم خواتین کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، ان دونوں خواتین کو اسکارف پہننے کی وجہ سے ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔


































