Mon Oct 12, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

تحریر: سویرا بتول

شہید خرم ذکی پاکستانی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن جنہیں ہم سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے، مگر یادوں کی بارات میں آج بھی وہ زندہ ہیں اور اکثر یوں گماں ہوتا ہے کہ ابھی کہی سے آجائیں گے اور کسی موضوع پہ مفصل گفتگو کریں گے۔ خرم ذکی کو 7 مئی 2016ءرات سیکٹر 11B نارتھ کراچی میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ اپنے ایک ساتھی راو ¿ خالد کے ساتھ ایک ریستوران میں رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائر کھول دیا۔ دونوں شدید زخمی ہوئے۔ ساتھ میں ایک راہگیر بھی گولیوں کا نشانہ بنا۔ تاہم خرم ذکی اسپتال پہنچنے تک دم توڑ گئے اور ملک میں تشدد، انتہاء پسندی اور مذہبی منافرت کے خلاف ایک دلیر آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
کسی دانشور، صحافی، سماجی کارکن یا انسانی حقوق اور مذہبی ہم آہنگی کی بات کرنے والے کسی شخص پر یہ پہلا حملہ نہیں تھا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والا پاکستان کا یہ نامور اور بہادر صحافی صرف چالیس برس کا تھا۔ اِس کا بنیادی قصور یہ تھا کہ ملک میں مذہبی انتہائ پسندی اور فرقہ پرستی کو چیلنج کرنے کے لیے انہوں نے بے خوفی سے آواز بلند کی اور شاید یہی اِن کا قصور تھا، ایسے موقعوں پر فیض احمد فیض کا شعر اکثر یاد آتا ہے:
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر ا ±ٹھا کے چلے
ہمارے شہداءکی فہرست اِس قدر طویل ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ انسان کس کس شخصیت کی بات کرے۔ ہمارا خون آج بھی اس وطنِ عزیز میں اِتنا ہی سستا ہے، جتنا کل تھا۔ یہاں اربوں ڈالرز اور ریالوں کی سرمایہ کاری کی گئی، نجی عسکری تنظیمیں بنائی گئیں اور نفرت پر مبنی نعرے لگوائے گئے۔ ا ±س کے بعد یہ کہنا کہ پاکستان میں شیعہ سنی دہشتگردی ہے، سراسر غلط ہے۔ کہنے دیجیے کہ یہاں صرف مکتبِ اہلِ بیت علہیم سلام کے ماننے والوں کا خون سستا ہے اور فقط ہمارے ہی گلے بے دردی سے تکفیریت کے ہاتھوں کاٹے جاتے ہیں۔ اہل سنت ہماری جان ہیں۔
تکفیریت نے ہمیشہ ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کیا، تکفیری سوچ شیعہ سنی اختلاف پیدا کرنا اور اسلام کا حقیقی چہرہ مسخ کرنا چاہتی ہے۔ تکفیریوں کو کنٹرول کرنا ریاستی اداروں کیلئے ضروری ہے، ورنہ آج ہم جس آگ میں جل رہے ہیں، جلد ہی وہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
لہو لہو ہے زبانِ قلم بیاں کے لیے
یہ گل چ ±نے ہیں شہیدوں کی داستاں کے لیے
ہَمَیں تو منزلِ آخر ہے آستانِ حسین?
یہ سر جھکے گا نہ اب اور آستاں کے لیے
س ±خن کی تاب کہاں اب، کہ دل ہے خوں ناصر
زبانِ تیر چلی ایک بے زباں کے لیے
ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular