
ایک بار جب میں گھر کے کام کاج سے بہت تھکی ہوئی تھی۔ میری نظروں میں گھریلو کام بیہودہ اور تکراری ہونے لگے تھے۔دوسری طرف سے میں دیکھ رہی تھی میری دوستیں کتنی کامیاب ہو گئی ہیں کوئی استاد بن گیا ہے تو کوئی ریسرچر!
میں نے خواب دیکھا کہ ایک دوست کے گھر گئی ہوں۔ وہ اپنے گھر سے لال قالین اٹھا رہی ہے اور سبز قالین بچھا رہی ہے۔میرے لئے کوئی خاص بات نہیں تھی لہذا میں وہاں سے گذر گئی۔
رات کو مجھے مسجد جمکران کی زیارت نصیب ہوئی۔جب پہنچی تو اوپر کا ہال بھر چکا تھا۔نیچے کے ہال کا دروازہ کھول دیا گیا۔ہم ان پہلے افراد میں سے تھے جو ہال میں داخل ہوئے تھے لہذا ہال پورا خالی تھا۔جیسے ہی میری نگاہیں سبز قالینوں پر پڑی مجھے اپنا خواب یاد آگیا۔خود سے کہنے لگی یہ وہی گھر اور قالین ہیں جو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔
اس اتفاق کے بعد میں نے اپنا خواب اپنی اُسی دوست کو بتایا۔اُس نے پہلے مجھ سے وعدہ لیا جو دوستیں اُسے پہچانتی ہیں اُنہیں نہیں بتاووں
پھر کہنے لگی میں پہلے درس،کتاب اور مباحثوں میں ہی مشغول رہتی تھیں۔جب مجھے ایک کے بعد ایک، دو بچے ہوئے میں نے اپنی ساری پڑھائی چھوڑ دی اُس کے بعد سے یا میں کچن میں ہوتی تھی یا واش روم میں۔ایک بار خود سے کہنے لگی کہ:
لوگ موکب میں کیا کرتے ہیں؟کھانا پکاتے ہیں اور صفائی۔دوسرے لوگ آتے ہیں، کھاتے ہیں، سوتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اور پھر دوبارہ سے وہی پکانا اور صفائی اور………
کوئی کسی سے نہیں پوچھتا کون ہو یا کہاں سے آئے ہو بلکہ اُنکے موزے تک دھوتے ہیں۔نہ صرف یہ کہ بُرا نہیں مناتے بلکہ خوش ہوتے ہیں اور اس نوکری پر افتخار کرتے ہیں۔
اُسی وقت سے میں نے یہ فیصلہ کیا اپنے گھر میں امام زمانہ عج کا موکب لگاؤں اور اپنے بچوں کو امام کا سپاہی جانوں اور دل و جان سے اُنکی خدمت کروں۔اُس فیصلے کے بعد تم آٹھویں شخص ہو جو اس طرح کا پیغام لارہی ہو۔
کسی نے کہا میں نے دیکھا تم مسجد جمکران رہنے چلی گئی کسی نے کہا تمہارا گھر مسجد جمکران بن گیا ہے وغیرہ
لیکن میرا یہی طریقہ رھا کہ میں نے اپنے گھر کے کسی بھی فرد سے کچھ کہے بغیر صرف اپنے دل میں نیت کی
اور ھر کام کے لئے اپنی نیت کو دھرایا کرتی تھی مثلا جب چائے بناتی ہوں تو کہتی ہوں امام زمانہ عج کے موکب کے لئے بنا رہی ہوں۔


































