
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عظیم الشان علماء و ذاکرین کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں تمام ملی تنظیمی شریک ہوئیں، کانفرنس میں شیعہ علماء کونسل کے صدر علامہ ساجد علی نقوی، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، مفسر قرآن علامہ محسن علی نجفی، علامہ امین شہیدی، علامہ افتخار حسین نقوی، علامہ افضل حیدری، علامہ ڈاکٹر حسین اکبر، علامہ عارف واحدی، مولانا ملک اعجاز، فرزند قائد شہید سید علی حسین الحسینی، علامہ تقی نقوی، مرکزی صدر آئی ایس او عارف الجانی، اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے صدر، آئی او سمیت ملک بھر سے ایک ہزار سے زائد علماء و ذاکرین شریک ہوئے۔
کانفرنس سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ پاکستان میں فرقہ واریت کو منظم انداز میں پھیلانے کی سازش کی جا رہی ہے، جسے مل کر ناکام بنائیں گے۔ کانفرنس میں کہا گیا کہ تہذیب و شائستگی، قانون پسندی، ذمہ دارانہ طرزعمل اور حب الوطنی ملت جعفریہ کا طرہ امتیاز ہے۔ ملت جعفریہ نے ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی دے کر قومی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی کو استوار رکھا اور داخلی وحدت پر آنچ نہیں آنے دی، جن عناصر نے وطن عزیز کو عدم استحکام کا شکار کیا، وہی شرپسند عناصر فرقہ واریت پھیلا کر دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں، ان تکفیری عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔
علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ ہم بانی اتحاد امت ہیں، ایم ایم اے اور ملی یکجہتی کونسل کے بانی ہم ہیں، حکومت کو نوٹ کرانا چاہتے ہیں کہ جو کچھ اب ہو رہا ہے، ماضی میں ایسا نہیں ہوا، ہم شہری حقوق پر آنچ نہیں آنے دیں گے، مسلم و غیر مسلم سب کو ان کے حقوق ملنے چاہیئں، احتجاج سب کا حق ہے، مگر تشدد اور تکفیر کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ فتنہ گر اس وقت وطن عزیز میں اپنی سازشوں میں مصروف ہیں انہیں پہلے کی طرح کی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ ہم اتحاد و وحدت کے عنوان سے مشترکہ اجتماعات منعقد کریں گے اور ربیع الاول میں جشن میلاد النبی(ص) کو شیعہ سنی مل کر منائیں گے۔
علماء و ذاکرین کانفرنس کے اختتام پر فرانس سے شائع ہونے والے چارلی ایبڈو میگزین میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس کے حوالے سے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں اور سوئیڈن میں قرآن مجید کی بےحرمتی اور عرب امارات، بحرین اور دیگر عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی مذمت کی گئی۔


































