
لاہور : متحدہ علماء بورڈ نے ملالہ کی تصویر کی وجہ سے نصابی کتاب پر پابندی کا الزام مسترد کردیا، متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے صدر و پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ پنجاب ٹیکسٹ بکس بورڈ کی انتظامیہ نے جس کتاب کیخلاف کریک ڈاؤن کیا وہ این او سی کے بغیر شائع ہوئی تھی کیونکہ قانون موجود ہے کہ کوئی بھی کتاب این او سی کے بغیر شائع نہیں کی جا سکتی، کسی کو ملکی اور اسلامی اقدار پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی متفقہ نصاب اور نظریات پر کمپرومائز نہیں ہوگا ہمارے پاس ہیروز کی کوئی کمی نہیں،جب ہمارے پاس ملالہ کی تصویر یا کسی سائنسدان کے بارے میں کتاب ہی نہیں آئی تو ہم اس پر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں؟ متحدہ علماء بورڈ اب تک 150 سے زائد نصابی کتابیں دیکھ کر چاروں مکاتب فکر کے علماء اتفاق کر چکے ہیں جو کہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے، انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں امن وامان کے قیام کیلئے متحدہ علماء بورڈ اور نمائندہ خصوصی برائے وزیراعظم کے دفاتر میں رابطہ سیل قائم کئے جا رہے ہیں جو علماء و مشائخ سے رابطہ رکھیں گے۔


































