تحریر: رضا دہقانی
لبنان کا شمار مشرق وسطی کے اہم ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ ملک ہمیشہ کی طرح ان دنوں بھی شدید سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ گذشتہ کئی عشروں سے اس ملک میں پائے جانے والے سیاسی عدم استحکام کی کیا وجوہات ہیں؟ حال ہی میں وزیراعظم حسان دیاب اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں اور اب لبنان کے صدر پارلیمنٹ کے مشورے سے کسی اور شخص کو اس عہدے کیلئے نامزد کریں گے یا مقررہ وقت سے پہلے پارلیمانی الیکشن کا انعقاد ہو گا۔ لہذا ممکن ہے آئندہ کئی ماہ تک لبنان وزیراعظم کے فقدان کا شکار رہے۔ لبنان کا اصل مسئلہ بندرگاہ پر ہولناک دھماکہ نہیں۔ اسی طرح سعد حریری یا سید حسن نصراللہ حتی حزب اللہ کے ہتھیار بھی اصل مسئلہ نہیں ہیں۔ ذیل میں سیاسی بحران کی چند بنیادی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
1)۔ قوم سازی کا فقدان
سادہ ترین تعریف کے مطابق "قوم” افراد کے ایسے مجموعے کو کہا جاتا ہے جو خاص جغرافیائی حدود کے اندر ایک مرکزی حکومت کے تحت مشترکہ اہداف اور مطالبات کی روشنی میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے ممالک جو پہلی عالمی جنگ کے بعد استعماری طاقتوں کی براہ راست مداخلت کے نتیجے میں معرض وجود میں آئے ہیں قوم سازی کا مرحلہ کامیابی سے طے کرنے میں ناکامی کا شکار رہے ہیں۔ لبنان بھی ایسے ہی ممالک میں سے ایک ہے جو 1916ءمیں برطانیہ اور فرانس کے درمیان طے پانے والے سائیکس پیکو معاہدے کے نتیجے میں تشکیل پایا تھا۔ اس کے بعد ایک عرصے تک لبنان فرانس کی کالونی کے طور پر رہا۔ 1989ءمیں طائف معاہدہ طے پانے تک یہ ملک مختلف عیسائی اور مسلمان گروہوں کے درمیان خانہ جنگی کا میدان بنا رہا۔
پہلی عالمی جنگ میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد فرانس اور برطانیہ نے وہ تمام علاقہ جو آج لبنان، مقبوضہ فلسطین، اردن اور عراق کی صورت میں موجود ہے آپس میں تقسیم کر لیا۔ لبنان ابتدا میں شام کا حصہ تھا لیکن فرانس نے 1920ءمیں اسے علیحدہ خودمختار ریاست قرار دے دیا اور بیروت اس کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ ابتدا سے ہی مسلمانوں نے اس کی شدید مخالفت کی کیونکہ علاقے کو یوں تقسیم کیا گیا تھا کہ مسلمان ایک اقلیت کی صورت اختیار کر گئے تھے۔ بہرحال 1926ءمیں لبنان نامی ملک کا سرکاری سطح پر اعلان کر دیا گیا۔ 1926ئ سے 1943ءتک یہ ملک فرانس کی کالونی شمار کیا جاتا تھا اور اس عرصے میں برسراقتدار آنے والے تمام صدور مملکت عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد بھی 1989ءتک تمام صدور مملکت عیسائی ہی رہے۔ یاد رہے اس دوران ملک میں سب سے زیادہ بااختیار عہدہ صدر مملکت کا ہی تھا۔
یوں 1926ءسے 1963ءتک یعنی 63 برس تک لبنان میں اصل طاقت عیسائی گروہوں کے ہاتھ میں رہی اور مسلمان سیاسی میدان میں گوشہ نشینی کا شکار رہے۔ لہذا ابتدا سے ہی فرانس کی شکل میں استعماری طاقت کی مداخلت لبنان میں قوم سازی کا مرحلہ کامیابی سے طے کرنے کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی۔ لبنان میں سیاسی طاقت مکمل طور پر مارونی عیسائیت کے ہاتھ میں دینا بھی اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ فرانسیسی حکام جان بوجھ کر یا غلطی سے اس ملک میں قوم سازی کے مخالف تھے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فرانسیسی حکام اس بات سے آگاہ تھے کہ اگر لبنان میں قوم سازی انجام نہیں پاتی تو اس کے کس قدر بھیانک نتائج رونما ہوں گے؟ ایک گھاگھ استعماری طاقت ہونے کے ناطے ان نتائج سے باخبر نہ ہونا دور از امکان دکھائی دیتا ہے۔
2)۔ بیرونی مداخلت
لبنان میں پندرہ برس تک جاری رہنے والی خانہ جنگی اور اس میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہلاک شدگان اور لاکھوں جلاوطن ہونے والے افراد نے اس ملک میں قوم سازی انجام نہ پانے کے بھیانک نتائج دنیا پر واضح کر دیے۔ بیرونی قوتوں خاص طور پر جنوبی لبنان میں غاصب صہیونی فورسز کی موجودگی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور خانہ جنگی کی شدت بڑھتی چلی گئی۔ اس خانہ جنگی کے آغاز کی اصل وجہ فرقہ واریت (قوم سازی کا نہ ہونا) اور اس کے جاری رہنے کی اصل وجہ بیرونی مداخلت قرار دی جا سکتی ہے۔ اس خانہ جنگی کے خاتمے کیلئے انجام پانے والا "طائف معاہدہ” بھی بیرونی مداخلت اور اثرورسوخ کے ذریعے انجام پایا۔ 22 اکتوبر 1989ءکے دن انجام پانے والے اس معاہدے سے امید کی جا رہی تھی کہ لبنان میں قوم سازی اور مرکزیت کو فروغ دے گا۔
لیکن یہ معاہدہ بھی مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس معاہدے کے تحت صدر مملکت کا عہدہ عیسائیوں، وزیراعظم کا عہدہ سنی مسلمانوں اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کا عہدہ شیعہ مسلمانوں سے مخصوص کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ کی کل 128 سیٹیں تھیں جن میں سے 64 عیسائیوں اور 64 مسلمانوں سے مختص کر دی گئیں۔ عیسائیوں کے درمیان 34 سیٹیں مارونی عیسائیوں، 14 سیٹیں آرتھوڈوکس اور 8 سیٹیں ارمنی باشندوں سے مخصوص کی گئیں۔ مسلمانوں کے درمیان بھی 27 سیٹیں سنی مسلمانوں، 27 سیٹیں شیعہ مسلمانوں، 8 سیٹیں دروزی اور 2 سیٹیں علوی باشندوں سے مخصوص کر دی گئیں۔ یوں ایک نیا مسئلہ شروع ہو گیا اور ہر پارٹی اپنے مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا شروع ہو گئی۔ اس قسم کی تقسیم بندی قوم سازی کی راہ میں ایک اور رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔


































