
شیعوں کیخلاف توہینِ مذہب کے مقدمات سے تشددبڑھے گا، ہیومن رائٹس کمیشن،کشیدگی میں پاک سعودی تعلقات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،تجزیہ کار
کالعدم جماعت کو کھلی چھوٹ دینا خطرناک ہے، رحمان ملک،شیعوں کیخلاف سوچی سمجھی مہم ہوا پکڑ چکی ہے۔شیری رحمان،آل پارٹیز کانفرنس کو بھی تشویش
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سیاسی و مذہبی رہنماوں ،تنظیموں تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے، کالعدم تنظیموں کی کھلے عام سرگرمیوں اور مقدمات کے اندراج پر تشویش کا اظہار اور حکومت کی خاموشی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کے زیادہ تر کیسزشیعہ مسلک کے خلاف درج کیے جا رہے ہیں جس سے فرقہ وارانہ تشدد بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ، ایک ماہ میں توہین مذہب کے 40 مقدمات مختلف شہروں میں درج کیے گئے ہیں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی حساسیت کے باعث پولیس حقائق کو جانے بغیر جلد بازی میں توہینِ مذہب سے متعلق مقدمہ درج نہ کرے، معروف تجزیہ کار عامر رانا نے ایک دم اتنی بڑی تحریک شروع ہو گئی ہے، اس حوالے سے مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال، اور پھر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،سابق وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ کالعدم جماعت کو کھلی چھوٹ دینا آنے والے وقت میں حکومت کیلئے مسئلہ پیدا کرسکتا ہے، جو بھی شیعہ کو کافر کہتے ہیں، انہیں یہ حق نہیں بلکہ یہ کہنا ناجائز ہے، پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ملک میں شیعہ مسلک کے خلاف ایک سوچی سمجھی مہم ہوا پکڑ چکی ہے ، کالعدم تنظیمیں ہر شہر میں ریلیاں نکال رہی، اس معاملے پر حکومت کو پالیسی بیان دینا چاہیئے۔ شیری رحمان نے مزید کہا کہ ملک میں فرقہ واریت کے واقعات بڑھ رہے ہیں، اس خطرناک سلسلے پر حکومت کو قابو پانا ہوگا،آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ میں بھی ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پر سخت تشویش کااظہار کیا گیا


































