
دو خود کش حملہ آوروں نے بغداد کی مارکیٹ کو نشانہ بنایا، دہرے حملے میں 35افراد شہید،110زخمی ،تکریت میں حشد الشعبی کی چوکی پر حملہ،11اہلکار شہید
فورسز نے دیالہ، صلاح الدین اور کرکوک میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کردی، دہشت گردوں نے پھر سر اٹھانے کی کوشش کی ہے،ہادی العامری
بغداد (نیوز ڈیسک) امریکا میں نئی حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی عراق میں داعش نے پھر سراٹھالیا اور دہشت گرد کارروائیاں شروع کردیں،تین سال بعد بغداد میں خودکش حملہ کیا گیا ، دو خود کش حملہ آوروں نے بغداد میں کپڑوں کی مارکیٹ طیران میں اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب سیکیورٹی اہلکار ان کا پیچھا کر رہے تھے، دھماکوں میں 35افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہوگئے ، داعش نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جمعے کو اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس کے دو ارکان نے بغداد کے طیران اسکوائر میں خود کو اڑا لیا،واقعہ کے 48گھنٹوں بعد بغداد کے شمال میں واقع صوبے صلاح الدین میں حشد الشعبی کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا جس میں 11اہلکار شہید اور کئی زخمی ہوگئے ، تکریت کے مشرق میں حشد الشعبی کے مرکز کو رات کی تاریکی میں ہلکے ہتھیاروں کی مدد سے نشانہ بنایاگیا، حکومت نے 2017 میں داعش کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کیا تھا، لیکن اس تنظیم کے بچے کچے عناصر زیادہ تر ملک کے دیہی علاقوں میں محدود پیمانے پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اکثر ان کا نشانہ سیکیورٹی اہلکار ہی ہوتے ہیں، صوبہ صلاح الدین میں حشدالشعبی کے جوانوں کی شہادت اور بغداد حملوں کے بعد عراق کی سیکیورٹی فورسز نے داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا ، حشدالشعبی کے رہنما علی الحسینی نے بتایا کہ جوان دیالہ، صلاح الدین اور کرکوک میں دہشتگرد گروہ داعش کی دہشتگردانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں، عراق کی پارلیمنٹ میں الفتح الائنس کے سربراہ ہادی العامری نے کہا ہے کہ تکفیری دہشت گردوں نے عراق میں پھر سر اٹھانے کی کوشش کی ہے اور عراق کے ایک علاقے کو جارحیت کا نشانہ بنایا ہے ، جوانوں نے صوبے صلاح الدین میں تکفیری دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر کے عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔


































