
کردستان کے علاقے اربیل میں ایئربیس پر3 راکٹ گرے، غیر ملکی کنٹریکٹر ہلاک، امریکی سمیت 5 افراد زخمی
بغداد(نیوز ڈیسک)عراق میں امریکی ائربیس پر حملے نے امریکا میں ہلچل مچادی، حملے میں ایک غیر ملکی شہری کنٹریکٹر ہلاک اور ایک امریکی سمیت 5 افراد زخمی ہو گئے، کردستان کے علاقے اربیل میں ایئربیس کی سمت میں 4 راکٹ فائر کیے گئے، 3راکٹ ائربیس اور اس کے اطراف میں گرے جس سے اڈے کو نقصان پہنچا اور جانی نقصان بھی ہوا، راکٹ حملوں کے بعد اربیل ہوائی اڈے کو پروازوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا، حملے کے بعد کردستان سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا اور ایک ٹرک قبضے میں لے لیا ہے جسے راکٹ داغنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، اصحاب کہف نامی اسلامی مزاحمتی فورس نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور اپنے بیان میں عراقی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کے بھائیوں اور بیٹوں نے عراق و ترکی کی سرحد پر قابض استعماری فوج کی مدددگار قابض فورسز کو نشانہ بنایا ہے، وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے عراق کے صوبہ کردستان میں ہونے والے راکٹ حملوں کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی قائم کرنے اور اربیل ہوائی اڈے پر راکٹ باری کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے تحقیقات کا مطالبہ کیا اور عزم کا اظہار کیا کہ ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے گا ،اربیل حملہ دو ماہ کے دوران پہلا موقع تھا جب اسی طرح کے واقعات کے بعد عراق میں مغربی فوجی یا سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے


































