
2011 کی حکومت مخالف تحریک میں حصہ لینے کا جرم، قطیف میں3 ماہ کے اندر 521 گھرانوں کو بے گھر کرنے اور ان کے گھرمسمار کرنے کا منصوبہ
احتجاجی تحریک کا مرکز الطہورہ اسٹریٹ کے اطراف گھر گرائے جائیں گے، حکومت نہیں چاہتی ہے کہ اس تحریک کی کوئی بھی نشانی باقی رہے،ذرائع
عوامیہ (نیوز ڈیسک)سعودی حکومت نے مخالفین کیخلاف جاری مہم کے تحت شیعہ اکثریتی خطے قطیف میں درجنوں مکانات مسمار اور سینکڑوں گھرانوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ بنالیا۔ سعودی انسانی حقوق کے کارکن نشیط قطیفی نے اپنے ٹوئٹر اکاو ¿نٹ سے سعودی حکام کے گھناو ¿نے منصوبے کا پردہ چاک کیا۔ رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے تین ماہ کے اندر قطیف میں 521 گھرانوں کو بے گھر کرنے اور ان کے گھرمسمار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان گھرانوں کو یہ سزا ان کے بچوں کی 2011 کی حکومت مخالف تحریک میں حصہ لینے کے جرم میں دی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اہل خانہ کو معاوضہ کی پیش کش کی گئی تھی لیکن وہ اپنا گھر بیچنے یا علاقے سے باہر جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے کیونکہ معاوضہ کی رقم اتنی نہیں کہ اس سے کسی اور علاقے میں مکان خریدا جاسکے۔ شیعہ اکثریتی خطے میں ذرائع نے سعودی منصوبے کی تصدیق کی اور بتایا کہ حکومت نے شہر کے وسط میں واقع الطہورہ اسٹریٹ کے اطراف سے سینکڑوں خاندانوں کو بے گھر کیا جائےگا۔ یہ سڑک 2011 کی انقلابی تحریک میں احتجاج کا مرکز رہی ہے اب حکومت نہیں چاہتی ہے کہ اس تحریک کی کوئی بھی نشانی باقی رہے اور وہ تحریک کی ہر علامت اور یادگار کو مٹادینا چاہتی ہے


































