
رپورٹ: سید عدیل زیدی
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع بالخصوص پشاور میں امن و امان کی صورتحال کچھ عرصہ سے ایک مرتبہ پھر خراب ہوتی نظر آرہی ہے، اس مرتبہ بم دھماکے اور خودکش حملوں کی گونج تو نہیں سنائی دے رہی، البتہ مختلف عنوانات سے قتل و غارت گری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پشاور میں گذشتہ تین سے چار ماہ کے دوران مختلف تنازعات کے باعث قتل کے متعدد واقعات رونماء ہوئے ہیں، جن میں کبھی ایک ساتھ پانچ، پانچ اور کبھی سات افراد بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی قسم کا ایک افسوسناک واقعہ گذشتہ روز بھی پشاور کے علاقہ پشتخرہ میں پیش آیا، جہاں دوران جرگہ فائرنگ کے باعث پانچ افراد مارے گئے۔ اسی طرح کوہاٹ، چارسدہ، نوشہرہ، مردان کے علاوہ قبائلی اضلاع میں بھی امان و امان کی صورتحال ابتر ہو رہی ہے، جہاں ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات رونماء ہوچکے ہیں۔ صوبہ بھر میں بڑھتے ہوئے قتل کے واقعات پر پشاور ہائیکورٹ نے گذشتہ روز نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس خیبر پختونخوا سے جواب طلب کیا۔پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس قیصر رشید خان نے گذشتہ دنوں حال ہی میں تعینات ہونے والے آئی جی پولیس معظم جاء اور سی سی پی او عباس احسن کو عدالت میں طلب کیا۔ پولیس افسران سے استفسار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ’’آئی جی صاحب، کچھ دنوں سے جو واقعات ہو رہے ہیں، اُس پر آپ کو بلایا ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے سارا معاشرہ مجرم ہوگیا ہے۔ گذشتہ دن 15 قتل کے واقعات ہوئے، اُس سے ایک روز قبل 17 قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے اور ان میں زیادہ واقعات پشاور سے تھے، ایسا لگ رہا ہے جیسے لوگوں کی قربانی ہو رہی ہے۔‘‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسے واقعات سے معاشرے میں خوف پیدا ہوتا ہے، روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔؟ آئی جی معظم جاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہوں نے ابھی حال ہی میں آفس جوائن کیا ہے، ایسے واقعات افسوسناک ہیں اور ان کی روک تھام کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔عدالت کے روبرو آئی جی نے کہا کہ جتنے بھی واقعات ہوئے، وہ جائیداد کے تنازع یا پرانی دشمنی کا شاخسانہ تھے، مگر ان کی بنیادی وجوہات جاننے کی ضررورت ہے۔ ہم ڈی آر سی کو مزید فعال کر رہے ہیں، تاکہ ایسے کیسز کو نمٹائیں اور معاملہ خوں ریزی تک نہ جائے۔ اس موقع پر جسٹس سید عتیق شاہ نے ریمارکس دیئے کہ انویسٹی گیشن کمزور ہونے کیوجہ سے کیسز خراب ہوتے ہیں، اس کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ علاوہ ازیں حال ہی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کردہ ایک سالانہ رپورٹ میں صوبہ خیبر پختونخوا میں خراب ہوتی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا، ایچ آر سی پی کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن عامہ کی صورت حال غیر مستحکم رہی ہے، دہشتگردی کے حملے، مذہبی اقلیتوں اور خواجہ سراؤں پر حملے، عورتوں کی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کی اطلاعات پورا سال سامنے آتی رہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت کم مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا، جس سے جرم کے خلاف قانونی کارروائی کے فقدان کی نشاندہی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدالتؚ عالیہ پشاور نے ایسے تقریباً 200 افراد کو بھی رہا کرنے کا حکام صادر کیا، جنہیں فوجی عدالت نے دہشتگردی سے متعلق مقدمات میں سزا سنائی تھی۔ 23 جون کو جماعت اسلامی کی جانب سے پشاور میں صوبائی اسمبلی کے باہر دھرنا دیا گیا، اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنماوں نے صوبہ بھر بالخصوص قبائلی اضلاع میں امن عامہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، گڈ اور بیڈ طالبان کی صورت میں دہشت گردی، بارودی سرنگوں کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امن ہے تو کوکی خیل، بقا خیل، وزیر، محسود اور آفریدی ابھی تک کیوں مہاجر کیمپوں میں وقت گزار رہے ہیں۔ دھرنے کے شرکاء نے حکومت سے صوبہ میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو وہاں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے عوامل کار فرما ضرور ہیں، قبائلی اضلاع میں مختلف اہم شخصیات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز پر بھی دہشتگردوں کی جانب سے حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں قتل و غارت گری کی اس حالیہ لہر کو ماضی کی طرح دہشتگردی سے تو نہیں جوڑا جاسکتا لیکن انسانی جانوں کا ضیاع افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے، یقینی طور پر حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ اداروں کو امن و امان بحال کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ایسے عوامل کا جائزہ لیا جائے، جن کی وجہ سے معاشرے میں قتل و غارت کا رجحان اس تیزی کیساتھ فروغ پا رہا ہے۔ عدلیہ کو بھی انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو اور وہ نشان عبرت بنیں۔


































