تحریر: سید حسین موسوی
خدا خالق ہے اور وہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ انسان کو بھی اپنے رب سے محبت ہونی چاہیئے۔ اگر محبت ِخدا نہیں تو عبادت بھی بار ہے، بندگی کو بندگی بنانے والی چیز اللہ معبود سے محبت ہے، انتظار کا مطلب تیاری ہے، عربی میں انتظار کسی کی امید رکھ کر تیاری کرنے کا نام ہے۔ امام زمانہ (عج) ظلم اور ظالم کو ختم کرینگے۔ توبہ کا مطلب یہ ہے گناہ کے راستے سے واپس آئیں، گناہ کو چھوڑنے کا نام توبہ ہے۔ گنہگار کو مغفرت طلب کرنی چاہیئے، تاکہ اس کی روحانیت پر جو اثرات پڑے ہیں، وہ ختم ہو جائیں۔ جب روح جسم سے جدا ہوتا ہے تو موت ہوتی ہے۔ روح کا رابطہ ختم ہونے کا نام موت ہے۔ رجعت سے مراد ہر امامؑ کی واپسی ہوگی، ہر امام ؑکی موت طبیعی ہوگی۔عدل کا تقاضا ہے کہ ظلم ہزاروں سال رہا ہے تو عدالت بھی ہزاروں سال رہے۔ آخری امام ؑکے بعد امام حسینؑ آئینگے، امام مھدی (عج) مختلف علاقوں میں جو کمانڈر بھیجیں گے، ان میں ہند و سندھ امام حسین ؑکے ذریعے امام زمانہ کی حکومت میں شامل ہونگے۔ ہند و سندھ میں امام حسینؑ کی محبت زیادہ ہے، یہاں کی اکثریت محبت میں فتح ہوگی۔
امام زمانہ کی شہادت نہیں ہوگی بلکہ ان کی وفات ہوگی اور امام حسین ان کی نماز پڑھائیں گے۔ ہم نے اللہ سے محبت نہیں کی ہے، زبردستی نفس کو پکڑ کر مصلے پر کھڑے ہو جاتے ہیں، اس لیے نماز میں خیالات آتے ہیں۔ انسان کی اللہ سے انسیت نہیں ہے، اس لیے نماز میں خیالات آتے ہیں۔ اس کا اصلی علاج یہ ہے کہ اللہ کی محبت پیدا کریں۔ البتہ نماز میں توجہ کم ہونے کا وقتی طور پر علاج یہ ہے کہ جو انسان نماز میں جو کچھ پڑھتا ہے، اس کے ترجمے پر توجہ رکھے۔ مصلے کو محراب کہا گیا ہے، جس کا مطلب ہے میدان جنگ۔ مصلے پر جہاد جاری رکھنا ہے، یہ جہاد پوری زندگی جاری رہے گا، کبھی ختم نہیں ہوتا۔۔ عبادت محدود وقت کے لیے ہے جبکہ بندگی ہر وقت ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ہم نے جن و انسان کو بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ حقیقی علم بھی نور ہے، جس کو اللہ پاک اپنے بندے کے دل میں ڈالتا ہے۔ جب بندہ بنے گا تو اس کے دل میں خدا علم ڈال دے گا۔
بندگی یہ ہے کہ:1۔ بندہ کو خدا نے جو مال و ملکیت دی ہے، انسان خود کو اس کا مالک نہ سمجھے، جو خود بندہ ہے، اس کی ملکیت نہیں ہوتی ہے۔ انسان کو اپنی حیثیت جاننی چاہیئے کہ انسان بندہ ہے، مالک کسی بھی چیز کا نہیں ہے۔ اگر ہم غور کریں تو پتہ چلے گا کہ کوئی بھی چیز ہماری ملکیت نہیں ہے۔ ہم اپنے وجود میں نہ بال برابر اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ بال برابر کمی کرسکتے ہیں۔ انسان کو زمین اور ملکیت صرف استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ استعمال کی آزادی کا نام ہم نے ملکیت رکھا ہے۔ ہمارا جسم بھی ہماری ملکیت نہیں، وہ بھی اللہ نے ہمیں امانت کے طور پر دیا ہے، مالک وہی ہے، ہمیں صرف استعمال کرنے کی آزادی دی ہے۔ جب انسان سو رہا ہوتا ہے تو اس کے جسم کا نظام چل رہا ہوتا ہے، خون کا نظام، سانس لینے کا نظام وغیرہ۔ جو بھی یہ نظام چلا رہا ہے مالک وہی ہے۔
اس دنیا کا دھوکہ یہی ہے کہ انسان مالک بننے کی کوشش کرتا ہے۔ نہ مالک بن پاتا ہے، نہ بندہ رہتا ہے، اس لیے خود بھی پریشان رہتا ہے، دوسروں کو بھی پریشان کرتا ہے۔ ہم بندے ہی بندے ہیں۔ ہمارا جسم بھی ہماری ملکیت نہیں ہے، اس کا پتہ تب چلے گا، جب قیامت کے دن ہمارے اعضاءہمارے خلاف گناہوں کی گواہی دینگے۔ یہ جسم بھی ہمیں امانت کے طور ملے ہیں۔ اس لیے اگر بندے بن کر رہیں گے تو خود بھی سکون سے رہیں گے اور ہماری طرف سے دوسروں کو بھی سکون ملے گا۔
2۔ بندہ اپنی زندگی کا پروگرام خود نہیں بناتا ہے مگر وہ مالک سے لیتا ہے۔
3۔ بندے کی توجہ صرف اس پر رہنی چاہیئے کہ مالک کے حکم کی ادائیگی کرے۔
مالک جو کرنے کا حکم دے، بندہ اسے انجام دے اور جس سے روکا ہے، اس سے رک جائے۔ انسان جب بندہ بن کر مالک کے پروگرام پر چلے گا تو دنیا اس کے سامنے حقیر بن جائیگی۔ انسان بندہ ہے، ایک ذرے کا بھی مالک نہیں ہے۔ عبادت کا بنیادی تصور بھی محبت پر قائم ہے۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب سے ملاقات کی جائے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین کا مطلب یہ ہے کہ ہم تمہاری بندگی کرتے ہیں اور تم ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ جب تک انسان دنیا سے نکل کر بارگاہ خدا میں نہ پہنچے اس کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے۔ اگر کوئی دکاندار نماز میں گاہک کا سوچ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اللہ کے سامنے نہیں بلکہ وہ گاہک کے سامنے کھڑا ہے، اگر اس حال میں کہے گا کہ تیری عبادت کرتا ہوں تو کس کو کہہ رہا ہے۔؟ نیت کے بعد اللہ اکبر ہماری زبان سے نکلتا ہے، لیکن جو دو ہاتھ اٹھاتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ہم اس دنیا پر سے دونوں ہاتھ اٹھا کر خدا کی بارگاہ میں آتے ہیں۔ اگر دنیا سے دونوں ہاتھ نہیں اٹھائے تو ہمیں اللہ اکبر کہنے بھی حق نہیں ہے۔
ایک بار رسول اکرم (ص) جب نماز کے لیے آئے تو امام حسینؑ بھی بچپن میں ان کے ساتھ آئے۔ رسول اللہ نے نیت کے بعد تکبیر کہی تو امام حسینؑ نے بھی اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ زبان سے جو الفاظ ادا کیے، وہ اللہ اکبر تھا۔ رسول اللہ کو بہت پسند آیا، آپ نے دوسری دفعہ تکبیر کہی، امام حسینؑ نے بھی تکبیر کہی، اسی طرح سات مرتبہ رسول اللہ نے تکبیر کہی۔ پھر یہ سات تکبیریں سنت قرار پائیں۔ یہ امام حسین کا پہلا اللہ اکبر تھا۔ اب سمجھیں کہ امام حسین ؑکا میدانِ کربلا میں زین سے زمیں پر آکر آخری بار اللہ اکبر کہنا کس درجہ کا ہوگا۔؟ امام حسینؑ کا عرفان خدا سے محبت ہے، خدا کا عاشق ہے حسینؑ۔
(استاد محترم سید حسین موسوی کی لاڑکانہ میں چوتھی مجلس عزا سے ماخوذ)


































